پاکستانی عوام کورونا سے خوف زدہ کیوں نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین سے شروع ہونے والا کورونا وائرس جو اب دُنیا بھر بالخصوص یورپ میں بڑی شدت کے ساتھ تباہی پھیلا رہا ہے اور پوری دُنیا کے ساتھ ساتھ ایشیائی ممالک بھی اس کی زد پر آ چکے ہیں۔ انڈیا میں آٹھ کروڑ سے زائد افراد جو بڑے شہروں میں مزدوری، ہوٹلوں، دفاتر اور گھروں میں کام کرتے تھے اُنہیں بے روز گاری کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانے پر مجبور ہیں لیکن حکومت کی طرف سے چوں کہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی ہے، اس لئے اب لوگ پیدل ہی اپنے گھروں کو چل پڑے ہیں۔ ان میں سے بیش تر دور دراز دیہاتوں میں سکونت پذیر ہیں۔

بی بی سی کے مطابق اس سفر کے دوران میں لوگ بھوک، پیاس اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے نڈھال ہوئے جا رہے ہیں، جن میں تین لوگ اپنی جان کی بازی ہا ر چکے ہیں۔ جس پر مودی حکومت کو اپوزیشن، میڈیا اور سول سوسائٹی کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کہ انڈین حکومت نے کورونا کی تباہی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بر وقت اقدامات نہیں کیے۔

اگر ہم اپنے ملک میں کورونا کی صورت حال دیکھیں، تو وہ بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ہر آنے والے دن نہ صرف کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ اموات بھی ہو رہی ہیں۔ اسپتالوں میں گویا ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور ملک بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ پاکستانی عوام کورونا کی وبا کو یا تو سیریس نہیں لے رہے، یا اُنہیں اپنے اُوپر بہت زیادہ یقین ہے کہ اُنہیں کچھ نہیں ہو گا یا وہ کورونا کی شدت کو جانتے نہیں ہیں۔

کچھ تو ہے جس کی وجہ سے آپ کو عوام حکومت کے بارہا منع کرنے کے باوجود سڑکوں پر نظر آ ریے ہیں۔ یہ صرف کسی ایک شہر یا گاؤں کی نہیں بلکہ پورے ملک کی صورت احوال ہے۔ ابھی ایک دو روز پہلے کراچی میں ایک واقعہ منظر عام پر آیا کہ پولیس کے منع کرنے کے باوجود لوگ مسجد میں نماز پڑھنے پر بضد تھے اور جب پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو اُنہیں عوام کی طرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اب اس رویے کے لوگوں کو کیا کہیں۔

اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی راہنماؤں کو کورونا کی شدت کا ادراک کرنا چاہیے اور لوگوں کو سمجھانا چاہیے۔ اگر دنیا میں بڑے مذاہب والے ممالک میں مذہبی اجتماعوں کا شیڈول تبدیل کیا جا سکتا ہے تو ہمارے ہاں کیوں نہیں ہو سکتا۔ اسلام آباد اور رائے ونڈ میں اجتماعات کے بعد کورونا کے مثبت ٹیسٹ والوں سے ریاست کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ حکومت کو مذہبی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ تبلیغی جماعتوں کے اراکین کو فی الحال عوام میں جانے سے روکیں، تاکہ ریاست کسی بڑے نقصان کا شکار نہ ہو جائے۔

حکومت نے اشیائے خور و نوش جن میں کریانہ، سبزیاں، گوشت اور میڈیکل ہالوں کو دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے لیکن اگر آپ ان دکانوں کو مشاہدہ کریں تو آپ کو وہ دکاندار اوراُن دکانوں سے خریداری کرنے والی بڑی تعداد میں عوام بھی ماسک اور دستانوں کے بغیر ہی نظر آئیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُنہوں نے کورونا کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔ لیکن اپنی ذات کی حد تک بھی ایسا سوچنا موجودہ حالات میں شاید مناسب نہیں۔ کیوں کہ آپ کی چھوٹی سے غلطی سے نہ صرف اُس انسان بلکہ اُس کا خاندان اور پھر معاشرہ متاثر ہو سکتا ہے۔

اس لئے مذہب سے محبت ضرور لیکن ان حالات کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ آئے دن کورونا کے بڑھتی ہوئی تعداد اس کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں ہماری بے احتیاطی ہمیں موت کے منہ میں لے جا رہی ہے۔ اس لئے ہمیں خود، اپنے خاندان او ر معاشرے کو محفوظ بنانے کے لئے ان دنوں میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہم زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں گے۔

حکومت کو بھی اس ضمن میں زیادہ سنجیدگی سے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں اور اشیائے خور و نوش کے علاوہ اُنہیں کسی اور ضرورت کے لئے گھروں سے باہر نہ آنا پڑے۔ حال ہی میں مشاہدہ کیا گیا حکومت نے آٹے کی ریلیف دینے کے لئے مختلف شہروں میں جو جگہ مختص کی اُس کے سامنے انسانوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی جنہیں دیکھ کر ایسا لگا کہ شاید انہیں کورونا کا بالکل خوف نہیں ہے لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر اپنے خاندان کے لئے آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ یہی پریکٹس یوٹیلٹی اسٹورز اور بنکوں کے باہر بزرگوں کوپنشن لیتے ہوئے بھی دیکھنے میں آئی۔ حالانکہ دُنیا بھر میں جو لوگ کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہو رہے ہیں اُن میں بزرگوں کی شرح زیادہ ہے۔

اس ضمن میں حکومت سے اپیل کی جاتی ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے جو ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے اُسے جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے سکے کیونکہ دیہاڑی دار طبقے کو اشیائے خور و نوش کی فور ی ضرورت ہے لیکن حکومت کی طرف سے تا حال کاغذی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ پہلے محلوں میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ ضرورت مند افراد کی فہرستیں بنائیں، جب عوام نے فہرستیں بنا دیں تو پھر کہا گیا کہ حکومت نے ایک ایپ لانچ کر دی ہے آپ اُس پر رجسٹرڈ ہوں۔ اس کے بعد کسی کو کوئی علم نہیں ہے کہ کس کا نام رجسٹرڈ ہے اور کس کا نہیں ہے۔

حکومت کواس ضمن میں کورونا کے متاثرین کو بچانے کے لئے اپنی اسپیڈ کو بڑھانا ہو گا کیونکہ جس رفتار سے کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے، خدشہ ہے کہ اس کا دورانیہ بڑھ گیا تو کورونا کے متاثرین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کو عوام کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لئے ہر قسم کی احتیاط برتیں اور اس میں کسی قسم کا کوئی رسک نہ لیں۔ صرف زیادہ ضرورت پڑنے پر ہی باہر نکلیں۔

اس کے لئے اگر سخت اقدامات بھی کرنے پڑیں تو اس سے بھی گریز نہ کیا جائے کیونکہ یہ کسی فردِ واحد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے پورا معاشرہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لئے حکومت اپنی پوری طاقت کا مظاہرہ کرے اور لوگوں کو ہر صورت گھروں میں رہنے کے لئے پابند کرے۔ حکومت کے لئے یہ اقدامات فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ کم سے کم نقصان کا متحمل ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply