یہ دنیا رفتہ رفتہ کشمیر بن رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


5 اگست 2019 ءکو مقبوضہ جموں وکشمیر میں تحریک آزادی کی سدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بھارتی نام نہاد حکومت نے قانونی ایکٹ میں ترمیم کرنے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے باسیوں پر ظلم و ستم کی نئی صبح کا آغاز کیا۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کا یہ آغاز برسوں پہلے کردیاگیا تھا مگر کشمیر کے باسیوں کی صدائے حریت بھی برسوں سے گونج رہی ہے۔

اور آزادی کے متوالوں کی یہ گونج اسی طرح گونجتی رہے گی۔ بھارت کی سابقہ حکمران جماعتوں کی بات کی جائے تو انہوں نے کشمیریوں پر ظلم و جبر میں کوئی کسر تو نہیں چھوڑی مگر انہوں نے کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا۔ مگر مودی حکومت اور اس کے گماشتوں نے 5 اگست 2019 کو 80 لاکھ سے زائد آبادی کے حامل اس خطے کو آرٹیکل 35۔ A اور 370 منسوخ کر کے متنازع طور پر تقسیم کر دیا۔

یوں پانچ اگست سے آج تک کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور روشنیوں کے اس خطے میں ظلم و جبر کی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ مسلسل سات ماہ سے کشمیر میں خود ساختہ کرفیو کا نفاذ ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں۔ وادی میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیاہے۔ باہر نکلنے پر دیکھتے ہی گولی مار دی جاتی ہے۔ لوگ بھوک و افلاس سے پریشان حال ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے بجائے انڈین آرمی کا بسیرا ہے۔

لوگ اپنے گھروں میں نظر بند ہو چکے ہیں۔ ہر طرف سے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں مگر اقوام عالم خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وادی میں انٹرنیٹ کی سہولت بند کر دی گئی۔ حریت رہنماؤں کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ تمام تر رابطے ختم کر دیے گے۔ ایسا لگا وادی میں نظام زندگی رک سی گئی ہے۔ ہر روز وادی میں شہیدوں کے جنازے اُٹھتے۔ مگر اقوام عالم کی خاموشی۔

کشمیریوں کے اوپر کرفیو نافذ کیا گیا تب تو کوئی کچھ نہ کر سکا۔ کیونکہ دنیا کے ممالک ترقی کی راہ پر گامزن تھے۔ سبھی کو ترقی کرنی تھی ایک دوسرے سے آگے نکلنا تھا ان میں سے کس ملک کے پاس وقت تھا کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتا۔ کون تھا جو ان کی آہ و سسکیوں کو دیکھتا؟ کس نے محسوس کیا کہ ان پر کیا بیت رہی ہو گی۔ وہ کیسے اپنے جگر گوشوں کے لاشے اُٹھاتے ہوں گے۔ کیسے کوئی محسوس کرتا کہ ہم آزادی کی سانس لیے رہے اور کشمیری اپنی سانسیں کٹوا رہے ہیں۔

تحلیل میں اچانک تصویر بن رہی ہے
یہ دنیا آہستہ آہستہ کشمیر بن رہی ہے
مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اُس رب ذوالجلال کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ آج پوری اقوام عالم کا حال دیکھ لیجیے۔ پوری دنیا میں کرفیو کا سماں ہے۔ ملک، شہر، قصبہ حتی کہ ہر گلی بند ہو چکی ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ سڑکیں بیابان گلی کوچے پرسکون جیسے یہاں کبھی کسی کا بسیرا ہی نہیں تھا۔ صرف ایک کرونا وائرس کی وجہ سے آج ہم گھروں میں نظر بند ہو گئے ہیں۔ آج انڈیا میں میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہو چکا ہے۔

حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اموات کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ہر روز نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانے پر بھی پابندی ہے۔ آج سب اپنا ہی رونا رو رہے ہیں۔ جب کشمیر میں ظلم و ستم تھا تب تو سبھی اپنی ترقی کی دوڑ میں تھے۔ کہاں نظر آتے تھے ان کو معصوموں کے آنسو جو پکار پکار کر کہہ رہے تھے۔ ہے کوئی جو ہماری مدد کے لیے آئے۔ ابھی بھی وقت ہے سبھل جاؤ ظالموں نہیں تو مٹ جاؤ گے اور تمہارا نام و نشاں باقینہ رہے گا۔ مظلوموں کے لیے آواز بنو اور اس کرفیو کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرو۔ شاید کہ اللہ پاک کی طرف سے نافذ کیا گیا کرفیو تم پر سے اُٹھایا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply