خان جی، ایک تم اور ایک میں، گھبرانا نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خان جی کی مسکراہٹ دیکھ کر میرا تو دل دھڑکنا بھول گیا۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے، جس میں میرے خان جی ایک عورت کو اپنی تصویر سے مزین ڈبا پکڑاتے اس کی عزت افزائی کر رہے ہیں۔ خان جی کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کے مجھے بے ساختہ اپنی مسکراہٹ یاد آ گئی۔ ایک خان اور دوسری میں، ہم دو ہی ہیں جن کی مسکراہٹ قاتلانہ ہے۔ آپ ہی کہیے، کیا کوئی اور ہے جو ہماری مسکراہٹ کا مقابلہ کر سکے؟ نہیں نا؟ خان سا ہینڈ سم میرے سوا کوئی اور ہے؟ میری اور میرے خان کی ادا سب سے جدا ہے۔

دیکھیے خان جی اور مجھ میں کچھ باتیں مشترک ہیں، پہلے میں ان کا ذکر کر لوں۔ ایک تو وہی جو اوپر بیان کی کہ ہماری مسکراہٹ قاتلانہ ہے۔ نہ میں کسی سے ڈرتی ہوں، نہ میرا خان۔ میں نے بھی خان جی کی طرح ایک خیراتی اسپتال بنایا تھا، جسے تعمیر کر کے سرکار کے حوالے کر دیا۔ خان جی کرکٹ کھیلتے تھے تو میں کرکٹ دیکھتی تھی۔ خان جی نے ورلٖڈ کپ جیتا تو میں نے انھیں ورلڈ کپ جیتتے دیکھا۔ خان جی کسی معاملے میں مجھ سے دو قدم آگے ہیں، تو وہ ان کی شادیاں ہیں، لیکن میں کون سا بوڑھی ہو چلی ہوں۔

کچھ لوگ ہیں جن کا کام محض تنقید کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے، عوام کے ٹیکس، یا امدادی رقوم کو خان اپنی نمود و نمایش کے لیے کیوں استعمال کر رہا ہے۔ بھئی خان کس کا ہے؟ عوام ہی کا نا؟ کہنے والوں کا کیا ہے، وہ کہتے ہیں، یہ ریاست مدینہ کے خلفاء کا انداز نہیں کہ عوام کو بیت المال سے کچھ دیتے اپنی ذاتی تشہیر کریں۔ عوام کو کچھ دیتے ان کی عزت نفس کو مجروح کریں۔ پتا نہین لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی! وہ بھول گئے ہیں کہ نواز شریف بھی یہی کرتا تھا؟

عزت تو میرے خان کی ہے، جو کسی سے بھی چندہ مانگتے کبھی نہیں جھجکا۔ اس دو ٹکے کی عورت کی بھلا کون سی عزت ہے، جو گورنر ہاوس میں خیرات لینے آ گئی؟ تنقید کرنے والے یہ نہیں دیکھتے ملک کس کرائسز سے گزر رہا ہے؟ ہماری اکانومی کا پہلے ہی بیڑا غرق ہوا ہے، اوپر سے ملک میں کرونا پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ایسے میں خان جی ہر دوسرے روز ٹی وی پر نمودار ہو کے عوام کو یہ نہ بتائیں، کہ میں لاک ڈاون نہیں کروں گا، تو سوچیے عوام کا کتنا بڑا نقصان ہو جائے، جس کا عوام کو خود بھی اندازہ نہیں۔ لیکن یہ صوبائی حکومتیں ہیں، جو سمجھتی ہی نہیں۔ خان دشمن قوتوں نے عوام کو نا چار کر کے رکھ دیا ہے۔

خان نے جب دیکھا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت اس کے غریب ووٹروں کو گھروں میں قید کر کے رکھ دیا گیا ہے، تو ان سے رہا نہیں گیا۔ وہ اتنے نڈر ہیں، کہ ماسک پہنے بہ غیر اس عورت کا سامنا کیا، جو کرونا وائرس لیے بھی ہو سکتی تھی، لیکن نہیں، خان کوئی بز دل نہیں جو منہ ڈھانپ کر کرونا کا مقابلہ کرے، میرا خان ڈٹ کے کھڑا ہے۔ میرے خان کی تو شان ہی الگ ہے۔ پر بے جا تنقید کرنے والے اس قسم کی لغویات بکتے خان کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے، لیکن جان لیجیے کہ وہ کرونا کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ میرے خان، تمھاری کارکردگی سے میں چاہے گھبرا رہی ہوں، لیکن تم نے گھبرانا نہیں ہے۔
خان جی، ایک تم اور دوجی میں، ہم دو ہی تو ہیں جن کا کوئی مقابل  نہیں۔ جلنے والوں کا منہ کالا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply