عمران خان کی احتساب مہم اور فوج کے عملی اقدامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی چیف کی خصوصی ہدایت پر پاک فوج نے فوری طور سے طبی آلات کوئٹہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے اور صوبے کے نوجوان ڈاکٹروں کا غم و غصہ کم کرنے کی براہ راست کوشش کی ہے۔ اس دوران وفاقی حکومت چینی اور گیہوں کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹوں پر سیاست کرنے میں مصروف ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک و قوم کے تمام وسائل اور صلاحیتیں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے صرف کرنے کی ضرورت ہے، تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے لیڈر پوری قوت سے اپنے ہی بعض لوگوں کو مورد الزام ٹھہرانے کا تاثر قائم کرنے اور انہیں سزا دینے کے نعرے لگا کر یہ واضح کرنے کے کی کوشش کررہے ہیں کہ وزیر اعظم کسی بدعنوان کو برداشت نہیں کرتے۔ گزشتہ دو روز کے دوران تحریک انصاف کے میڈیا ونگ، سوشل میڈیا جیالوں اور حکومت کے مشیروں و وزیروں نے جس طرح ان نامکمل رپورٹوں پر ’پیالی میں طوفان‘ بپا کرنے کا سماں باندھا ہے، اس سے حکومت کی بدنیتی کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ آج بھی وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں چینی کے کاروبار میں بے اعتدالی کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اس کا سارا الزام شریف خاندان اور آصف زرادری کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نے کابینہ میں رد و بدل کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انہوں نے اس رپورٹ میں نام آنے پر خسرو بختیار کی وزارت تبدیل کردی ہے۔

حیرت ہے کہ وزارت تبدیل کرنے کے عمل سے ’سزا‘ دینے کے تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر خسرو بختیار واقعی بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے وزارت خوراک میں اپنی سرکاری حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خاندان کو اربوں روپے کمانے کا موقع فراہم کیا تھا تو کیا وہ اقتصادی امور کے وزیر کے طور پر بدعنوانی اور دولت پیدا کرنے کا کوئی نیا راستہ تلاش نہیں کرلیں گے؟ یہ عجیب احتساب ہے کہ ایک ہاتھ سے ایک وزارت لے کر دوسرے ہاتھ سے ایک نیا عہدہ ان کے سپرد کردیا گیا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ کورونا وائرس کے قومی بحران اور مالی انحطاط کی سنگین صورت حال میں وفاقی حکومت ایک بھولے بسرے معاملہ کو اپنی سیاسی ساکھ کی بحالی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پہلے وزیر اعظم نے میڈیا میں خصوصی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹوں کی تشہیر کے بعد مجبوراً انہیں عام کیا پھر ٹوئٹ پیغامات میں فوری طور سے اس کا کریڈٹ لیتے ہوئے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، کا نعرہ بلند کیا۔ اور دعویٰ کیا کہ سزا کا فیصلہ 25 اپریل کوتفصیلی فورنزک رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

وزیر اعظم کے اس بیان کا اعتبار کرلیا جائے تو وہ خود اور ان کے معاونین روزانہ کی بنیاد پر کس بات پر غل مچا رہے ہیں اور حکومت کی کون سی شفافیت سے عمران خان کی شخصیت کا نیا بت تراشنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی۔ اور اس برآمد میں ہونے والا ’نقصان‘ پورا کرنے کے لئے پنجاب میں وزیر اعظم کے سیاسی وسیم اکرم وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ عثمان بزدار جیسی صلاحیت کے شخص کو محض اس لئے ضد کرکے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایاگیا ہے کہ ان کے ذریعے عمران خان اسلام آباد میں بیٹھ کر جو فیصلے چاہے کریں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کو رموٹ کنٹرول سے چلانے کی اس سے بدتر مثال تلاش نہیں کی جاسکتی۔ عثمان بزدار نے دیگر معاملات کی طرح چینی کی برآمد پر سبسڈی دینے کا بڑا فیصلہ اپنے رہنما کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا ہوگا۔

عمران خان اور ان کے معاونین کو تو اس سادہ سوال کا جواب دینا چاہئے کہ یہ فیصلے کرنے والا کون تھا اور اس کا جواز کیا تھا۔ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے خاندانوں کے زیر ملکیت شوگر ملوں نے اگر اس صورت حال کا فائیدہ اٹھایا ہے تو انہوں نے وہی کیاجو کوئی بھی سرمایہ دار کرے گا لیکن وزیر اعظم اس بات کا جواب دیں کہ انہوں نے اقتصادی کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جس پر ایک طرف پنجاب حکومت کو اربوں روپے کی سبسڈی دینا پڑی تو دوسری طرف مارکیٹ میں چینی کے نرخوں میں اضافہ ہؤا ۔ اور عوام کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ یہ مان لینا چاہئے کہ اس معاملہ میں عمران خان کی بدنیتی شامل نہیں ہے لیکن انہیں بھی یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ ذاتی طور پر اس تکلیف دہ فیصلہ کے ذمہ دار تھے۔ یا تو اپنے مشیروں کے غلط مشوروں کی وجہ سے انہوں نے نے فیصلہ کیا یا اقتصادی امور پر بحث کے دوران وہ معاملات کی حساسیت و نزاکت کو سمجھنے کی قابل نہیں تھے۔ کوئی بھی وجہ ہو وزیر اعظم کو اب ان رپورٹوں پر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی بجائے اپنی کم فہمی اور معاملات پر ڈھیلی گرفت کا اعتراف کرلینا چاہئے۔ اب بھی اگر وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے تو اسے عمران خان کی صداقت اور احتساب کے لئے ان کے عزم کی مثال سمجھنے کی بجائے سیاسی بدنیتی کی بدترین مثال سمجھنا چاہئے۔

ان سطور میں استدعا کی جاچکی ہے کہ ایف آئی اے کے مشکوک کردار کے حامل سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی تیا رکردہ رپورٹوں اور ان کے نتائج پر سیاست کرنے کی بجائے ملک و قوم کو درپیش کورونا وائرس کی صورت حال اور اس کی وجہ سے معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر زور دینا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر تو ایک بیان سے آگے نہیں بڑھ سکے لیکن بدنصیبی سے وزیر اعظم مسلسل اس معاملہ پر سیاست چمکانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حالانکہ اپنی حکومت اور اس کے کل پرزوں کی بدعنوانی کے احتساب کے حوالے سے ان کا جذبہ ایمانداری اس وقت تو جوش میں نہیں آیا جب نیب کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسلام آباد ہی کے ایک سیمینار میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر نیب حکمران جماعت کی بدعنوانی پکڑنے لگے تو حکومت ایک دن میں ختم ہوجائے لیکن وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام نہیں چاہتے۔

کیا عمران خان نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ نیب چئیر مین تحریک انصاف کے کن عناصر کی بات کررہے تھے؟ عمران خان کو پشاور میٹرو بی آر ٹی میں گھپلوں کی مسلسل خبروں پر بھی بدعنوان عناصر کی گرفت کرنے کا ہوش نہیں آیا۔ وہ خود اپنی پارٹی کی فارن فنڈنگ کے معاملہ کو دبانے کی کوشش میں ہر حد پار کرنے پر آمادہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور میں ان کے معتمد خاص علیم خان کو نیب نے حراست میں لیا جب بھی یہی قیاس کیا گیا کہ ان کے ساتھی کی بجائے نیب سے ہی غلطی ہوئی ہوگی۔ یا جب سپریم کورٹ نے ایک کمزور ہمسایہ کے خلاف ناجائز طور سے سرکاری اختیار استعمال کرنے پر اعظم سواتی سے استعفیٰ لیا تھا، تب ہی عمران خان نے اپنی ایمانداری ، اصول پرستی اور قانون کی بالادستی کے احترام کا کوئی نمونہ دکھایا ہوتا؟ اعظم سواتی کو پہلے پارلیمانی امور اور اب منشیات کی وزارت دے کر ثابت کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ہی نے کچھ غلط کیا ہوگا۔ عمران خان کا کوئی ساتھی کیسے ظالم ہوسکتا ہے۔

بدعنوانی کے خلاف عمران خان کی نعرے بازی سیاسی ہے اور یہ شریف خاندان یا آصف زرداری کی حیثیت کو چیلنج کرنے تک محدود ہے۔ وہ خود اپنا یا اپنے ساتھیوں کا احتساب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ احتساب کی نیت سے اقتدار حاصل کرنے کا خواہشمند کوئی لیڈر انہی عناصر کے ذریعے وزیر اعظم منتخب ہونے سے انکار کردیتا جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد سے منظم طریقے ملک میں بدعنوانی اور اقربا پروری کی روایت کو زندہ رکھا ہے اور مضبوط کیا ہے۔ اس کردار اور پس منظر کے ساتھ ایک غیر معمولی وقت میں معمولی رپورٹ پر سیاسی ڈرامہ پیدا کرنے کا مقصد تحریک انصاف کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے اور اصل معاملہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کی بھونڈی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

بدعنوانی سے نمٹنے کے نام پر سیاسی فضا خراب کرنے والے وزیر اعظم کو کوئٹہ میں کورونا وائرس سے مریضوں کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ڈاکٹروں کے ساتھ پولیس کی زیادتی پر توجہ دینے اور سرکاری اختیار کے اس بھونڈے استعمال پر سرزنش یا مذمت کرنے کی فرصت نہیں ملی۔ انہیں یہ جاننے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی کہ آخر کوئٹہ کے نوجوان ڈاکٹروں کو کیوں احتجاج کے لئے وزیر اعلیٰ کے دفتر کا رخ کرنا پڑا۔ البتہ پاک فوج کے سربراہ کو صورت حال کا بروقت ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر وہاں طبی ساز و سامان بھیجنے کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ آئی ایس پی آر کے اعلان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر اور طبی عملہ اس وقت کورونا کے خلاف جنگ کی پہلی صفوں میں مصروف عمل ہیں۔

دوسری طرف بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایک سو ڈاکٹروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے گزشتہ روز دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر صرف تیس ڈاکٹروں کو پکڑا تھا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں پندرہ ڈاکٹر کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت ہسپتالوں کو مناسب حفاظتی ساز و سامان فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ جب تک ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس افسر معافی نہیں مانگتے صوبائی دارالحکومت کے تھانوں کا محاصرہ جاری رہے گا۔ فوج کی طرف سے سپلائز بحال کرکے صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کے باوجود وفاقی یا صوبائی حکومت کی طرف سے نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آئی۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ’اگر صوبے کے ڈاکٹر ہی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کریں گے تو باقی لوگوں کو کیا پیغام جائے گا۔ اس طرح سماجی دوری کے حکم پر کس طرح عمل کروایا جاسکتا ہے‘۔

کورونا وائرس کے سنگین بحران کے دوران صوبائی حکومت ڈاکٹروں کے ساتھ تصادم کی صورت حال پیدا کرکے سماجی دوری پر عمل کروانا چاہتی ہے تو وفاقی حکومت شوگر اسکینڈل کا کریڈٹ لے کر عمران خان کے لئے دادا سمیٹنے کی خواہاں ہے۔ ایسے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے فوری رد عمل اور اقدام سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ ملک میں معاملات کی نوعیت کیا ہے اور فیصلے کون اور کیوں کررہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1505 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *