لسّی کے کٹورے سے گوگل ابّا تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

اپنے وقت کے فاسٹ باولر اور قومی ہیرو شعیب اختر کی ایک ویڈیو کرونا وائرس سے متعلق آجکل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اسکے ایک جملہ نے کہ انٹرنیٹ اور گوگل کی وجہ سے “ آج کی دنیا اتنی پاس ہو کر بھی دور ہو گئ ہے” چونکا کر رکھ دیا۔ یہ جملہ سیدھا دل کو جا کر لگا۔ کیا سادے سے جملہ میں اتنی بڑی بات کر دی۔ پھر کیا تھا ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا شروع کیا۔ سارا ماضی،بچپن، نوجوانی ایک فلم کی طرع آنکھوں کے آگے گھوم گے۔ دیہاتی بیک گراونڈ ہونے کے ناطے ماضی میں کھو جانا ایک سحر انگیز امر تھا۔ لطف اندوذ ہوا۔ سوچا آپ کو بھی شریک کر لوں۔

کیا سادہ اور پُر وقار زندگی تھی۔ وسائل کم مگر قناعت زیادہ۔ معاشرہ کے دکھ سکھ کے ساتھی۔ ہمدردی، اپنائیت، خلوص، پیار، شفقت سبھی کچھ تو تھا۔ صحن اور چھتوں پر چارپائوں پر سونا۔ کھلے صحن اور کھلے دل و دماغ۔ ملاوٹ سے پاک سادہ خوراک۔ صبح سحری کے وقت کھیتوں میں ہل جوتتے کسان کو جب ناشتہ اور دوپہر کے درمیانی وقت جسے چھاویلہ کہتے گھر سے دیسی گھی کی چوپڑ شدہ روٹیاں اچار کے ساتھ کھانے کو ملتیں اور ساتھ چاٹی کی لسّی کا کٹورا۔ اور جس سکون، اطمینان اور شکر مندی کے جزبے سے بھرپور وہ یہ کھا کر دوبارہ ہل جوت لیتا وہ منظر  آج کی نسل جو میکدونلڈ اور کے۔ایف۔سی کے زنگر برگر اور پیزاہٹ کے پیزا کھانے کے بعد کوک یا پیپسی پی کر سیلفی بناتی ہے کے وہم و گماں سے بالاتر ہے۔

ہر گھر یا خاندان میں ایک تگڑا چچا یا تایا ہوتا جو انصاف کی بات کرتا۔ ہر چھوٹا بڑا اس سے خوفزدہ رہتا۔ ماں ایک پیار اور شفقت کا پیکر ہوتی۔نہائیت نا مساعد حالات میں بھی بچوں کی خوشی اور عافیت کا خیال رکھتی۔ جس میں سب سے بڑا جاں گُسل مرحلہ بچوں کو باپ کے جسمانی تشّدد سے محفوظ رکھنا ہوتا۔ گھر کی بزرگ خواتین تاروں بھری رات میں بچوں کو سحر انگیز کہانیاں سنا کر سُلانے کی کوشش کرتی تھی۔لوگ سادہ تھے مگر صحت مند اور توانا۔ جفاکش تھے۔ تنو مند تھے۔ بلڈ پریشر، شوگر، عارضہ قلب اور جگر کی پیوند کاری سے نا آشنا تھے۔ اولاد تابعدار اور مودّب تھی۔ چھوٹے بڑے تنازعے گاؤں کی سطح پر ہی خوش اسلوبی سے طے ہوجاتے۔ لوگوں میں ایثار، قربانی، وفاشعاری، احسان مندی کے جزبات وافر تھے۔عجب دنیا تھی جس میں گناہ تو تھا مگر گناہگار کم تھے، شناسائی تو تھی رسوائی نہ تھی۔

پھر اچانک سب کچھ تبدیل ہو گیا ۔ انسان ترقی کر گیا۔ مگر اخلاقی طور پر تہی دامن ہوگیا۔ پہلے بجلی آئی۔ اس نے دئیے اور لیمپ کی خاموشی اور سکون کا سحر توڑ دیا۔ پھر ریڈیو، ٹیلی ویثن اور انسانی سہولت کی بشمار دیگر چیزیں آئیں۔ پھر انٹرنیٹ اور گوگل نے پوری کایا ہی پلٹ دی۔ انسان انسانی جزبوں سے عاری ہوتے گئے۔ آٹو پر لگ گئے۔ ایثار، قربانی، محبت کی جگہ عیاری، مکاری اور اچھے خاصے خلوص و پیار کو کاروبار کا رنگ دے دیا گیا۔

اعتماد کے رشتے کمزور ہوتے گئے۔ اپنے بزرگوں سے مشاورت اور رہنمائی لینے کی بجائے گوگل ابّا سے مشاورت شروع ہوگئ۔ سوشل میڈیا وٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور نجانے کیا کیا اس معاشرے کا سکون غارت کر گئے۔ لوگ بلمشافہ ملاقات کی بجائے سوشل میڈیا پر گڈ مارننگ کے پھول بھیج کر مطمئن ہوگئے۔ حتی کہ کسی عزیز اور دوست کے ہاں فوتیدگی کی صورت میں بھی سوشل میڈیا پر ہی تعزیتی پیغام بیجنے پر ہی اکتفا کر لیا گیا۔ ہمارے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، ہماری طرز معاشرت، ہماری تہزیب و تمدن، ہماری گفتگو، ہماری اقدار غرضیکہ ہر چیز بدل گئ۔

ابھی کرونا وائرس نے جب “سماجی فاصلوں” کے نام پر لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کیا ہے۔ فاسٹ فوڈ اور بازاری مشروبات کی جگہ دیسی ٹوٹکے، لہسن، پیاز، کلونجی، ہلدی، زیتون کا تیل اور دیسی مشروبات کی طرف جب لوگ پلٹے۔ گھروں میں فیملی کے ساتھ وقت گزارنا پڑا تو پھر زندگی میں کچھ سکون محسوس ہوا۔ اللہ کرے کہ کرونا وائرس اس معاشرہ کی تباہی اور بربادی کی بجائے معاشرہ کی کھوئی ہوئی اقدار بحال کرنے میں معاون ثابت ہو۔

یہاں تک کالم پہنچا تھا کہ ایک سابق کولیگ اور دوست نے فون پر پوچھا کہ میاں بیوی کے درمیان سوشل ڈسٹنسنگ کس طرع برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ دونوں میں سے ایک بیڈ پر اور دوسرا فرش پر سوئے۔ دوست نے پوچھا کہ بیڈ پر کون اور فرش پر کون سوئے۔ میں نے کہا کہ جو فریق زور آور اور تگڑا ہے وہ بیڈ پر اور جو کمزور ہے وہ فرش پر۔ اور کیا اب میں کمزور فریق  کی نشاندہی بھی کروں۔ دوست نے قہقہہ لگایا اور فون بند کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *