کسی بھوکے کو راشن دو گے تو سیدھے جیل جاؤ گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھاتے پیتے لوگ جان بچا کر اپنے اپنے گھروں میں قلعہ بند ہو گئے۔ اس فیصلے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ اتنے تعلیم یافتہ تھے کہ جان سکتے کہ کرونا ایک موذی وائرس ہے اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ میل جول اور گھومنا پھرنا کم کر دیا جائے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے نعمت خانے اور فرج میں اتنا سامان اور بینک اکاؤنٹ میں اتنے پیسے تھے کہ انہیں کھانے پینے کی طرف سے بے فکری تھی۔ مگر ان لوگوں کے لے لاک ڈاؤن ایک بڑی مشکل بن کر ابھرا جو روز کے روز کماتے اور کھاتے تھے۔ جب دکانیں اور چھابڑیاں بند کروا دی گئیں تو ان کی روزی تو گئی۔ جب تعمیراتی اور دوسرا کام بند ہوا اور کام دینے والا طبقہ اتنا خوفزدہ ہوا کہ اپنے گھریلو ملازمین سے بھی بچنے لگا تو وہ انجانوں کو مزدوری کے لیے اپنے گھر دفتر میں کیوں گھساتا؟

میاں ہمدرد اس صورت حال پر نہایت متفکر تھے۔ انہیں ان کی ماسی نے فون پر بتایا تھا کہ اسے کئی گھروں نے کام سے جواب دے دیا ہے اور اب اس کے لیے ایک وقت کا کھانا پورا کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ اس کے پورے محلے کا یہی حال تھا۔ میاں ہمدرد نے اس کی جہالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بتایا کہ حکومت اور بے شمار رفاہی اداروں اور مخیر حضرات نے اپنے اپنے نمبر مشتہر کر رکھے ہیں کہ جسے راشن چاہیے وہ ایک فون کرے اور مل جائے گا۔ ماسی نے ان کی لاعلمی کی لاج رکھتے ہوئے بتایا کہ راشن تقسیم کرنے والوں کے نمبر تو ملتے ہی نہیں ہیں اور حکومت ابھی تک راشن یا پیسہ نہیں بلکہ صرف تسلی دلاسے ہی دے رہی ہے، سبز باغ دیکھنے میں تو بہت اچھا لگتا ہے مگر اس کے پھل سے پیٹ نہیں بھرتا، اب بھوک سے برا حال ہے۔

یہ سن کر میاں ہمدرد کا دل پگھل گیا اور آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے فوراً بازار کا رخ کیا اور آٹھ دس گھرانوں کے لیے راشن خرید کر اپنی گاڑی میں رکھوایا اور اپنی ماسی کے بتائے ہوئے پتے پر جا پہنچے۔

ماسی انہیں دیکھ کر نہال ہو گئی۔ میاں ہمدرد نے اسے راشن کا تھیلا تھمایا ہی تھا کہ اچانک قیامت ٹوٹ پڑی۔ تین چار پولیس والے اچانک ان پر آن گرے اور چند منٹ بعد میاں ہمدرد نے خود کو اپنی گاڑی سمیت تھانے میں پایا۔

کچھ دیر بعد ان سے پوچھ گچھ شروع ہوئی۔ حوالدار صاحب کے سامنے ان کو پیش کیا گیا۔
ہاں تو میاں، اپنا حلیہ دیکھیں کیسا شرفا والا ہے اور اپنی حرکتیں دیکھیں۔ آپ کو ایسی سنگین قانون شکنی کرتے ہوئے ذرا شرم حیا نہیں آئی؟

ہمدرد میاں کو کچھ حوصلہ ہوا کہ حوالدار اپنی زبان سے کوئی ادیب یا شاعر لگتا تھا۔ حوصلہ جمع کر کے کہنے لگے ”کیسی قانون شکنی جناب؟ خدا گواہ ہے کہ ہماری سات پشتوں میں بھی کوئی قانون شکن نہیں گزرا۔ ہم وہاں لوٹ مار تھوڑا کر رہے تھے، ہم تو غریبوں کو کھانا بانٹ رہے تھے۔ “

ہمم۔ تو گویا آپ خود کو سلطانہ ڈاکو سمجھتے ہیں۔ قانون شکنی کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ غریبوں کو دینے دلانے سے آپ کے جرم کا کفارا ادا ہو جائے گا؟ ہمدرد میاں، سلطانہ ڈاکو کو بھی سزا ملی تھی، یہ دینا دلانا اس کے کسی کام نہیں آیا تھا۔

جناب آپ افسر ہیں، معاملہ فہم ہیں، جہاندیدہ ہیں، ہمیں بتائیں تو سہی ہم نے کون سی قانون شکنی کی ہے؟
میں صدقے جاؤں آپ کی معصومیت کے۔ آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ غریبوں میں کھانا بانٹ رہے تھے، پھر پوچھتے ہیں کہ ہم نے کون سی قانون شکنی کی ہے؟

جناب بھوکوں کو کھانا کھلانا کب سے جرم قرار پایا ہے؟ یہ تو رفاہی کام ہے۔ خدا بھی خوش ہوتا ہے اور غریب بھی دعائیں دیتے ہیں۔

آپ ہوتے کون ہیں غریبوں کو کھانا کھلانے والے؟ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟ لاٹ صاحب ہیں آپ؟ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ سرکار نے پانچ اپریل کو حکم جاری کیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں صرف صوبائی آفات کا محکمہ ہی رفاہی کام کر سکتا ہے، کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو خود سے رفاہی کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یا پھر کسی کے دل یا پیٹ میں رفاہ عامہ کا زیادہ درد اٹھ رہا ہو تو وہ ڈی سی صاحب سے خاص اجازت لے، وہ بتائیں گے کہ کس کو کھلانا ہے، کتنا کھلانا ہے اور کس علاقے میں کھلانا ہے۔ ایسی اندھیر نگری نہیں مچی ہوئی کہ آدمی بغیر ڈی سی کی اجازت کے اپنے محلے یا ملازمین میں ہی کھانا اور پیسے بانٹنا شروع کر دے۔

غضب خدا کا حوالدار صاحب۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ ہم ایسی سنگین قانون شکنی کر بیٹھے ہیں۔ اب کیا ہو گا؟
ہونا کیا ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ اب آپ کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم ہو گا اور سمری ٹرائل کے بعد آپ کو جیل میں تاڑ دیا جائے گا۔ ادھر سرکار آپ کو اپنے پلے سے تین وقت کا کھانا دے گی۔

ہمدرد میاں نے اپنے کیے کی سزا پائی۔ اس کے بعد میاں ہمدرد نے توبہ کی کہ آئندہ وہ کسی کو غریب یا مستحق جان کر اس سے ہمدردی کرنے کا سوچیں گے بھی نہیں، جو کرنا ہے وہ ڈی سی صاحب اور حکومت خود ہی کریں، وہی ان کا کھانا پانی پورا کریں۔ بلکہ انہیں ایسے کان ہوئے کہ انہوں نے آئندہ گلی محلے میں پھرنے والے فقیروں کو خیرات دینے، محلے کی مسجد میں چندہ دینے، ایدھی فاؤنڈیشن کو پرانے کپڑے اور قربانی کی کھالیں دینے، ویٹرز اور خدمت گزاروں کو ٹپ دینے، اور دیگر چھوٹے بڑے رفاہی کاموں سے بھی ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔

اسی بارے میں: پنجاب میں بلا اجازت رفاہی سرگرمیاں کرنا جرم قرار

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1272 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *