سیک سیمینار: شب جائے کہ من بودم


\"farnood-01\"

ثاقب ملک جی دار آدمی ہے۔ سوچتا ہے اور کردیتا ہے۔ توکل برخدا۔ جو ہوگا دیکھی جائے گی۔ کہنے لگا اسلام آباد میں ایک اکٹھ رکھنا ہے۔ جو دوست پردہ اسکرین پہ باہم متعارف ہوئے، انہیں بالمشافہ بٹھانا ہے۔ سر سے پاوں تک ثاقب کو ناپا، بھیا یہ کیسے ہوگا؟ بندہ خدا بولا، سوال یہ نہیں کہ کیسے ہوگا، سوال یہ ہے کہ خیال کیسا ہے۔ خیال۔ ؟ واللہ اس خیال کے نیک ہونے میں جسے تردد ہو اس کی عقل پہ شک کیا جانا چاہیے۔ گمان تھا کہ یہ جذبہ تو بس پانی کا ایک بلبلہ ہے۔ یہاں پھولا ہے، وہاں پھٹ جائے گا۔ مگر نہیں، وہ تو اپنی دھن کا پکا نکلا صاحب۔ جوان نے آواز دی، لبیک کا شور اٹھا۔ داخلہ ٹکٹ لگادیا، لوگوں نے جیبیں نچوڑ کے رکھ دیں۔ یقین تو نہیں کرنا چاہیے، مگر آنکھوں دیکھا حال یہ ہے کہ گلگت بلتستان مظفر آباد ایبٹ آباد پشاور دیر گجرانوالہ گجرات وزیر آباد کھاریاں ملتان اور فیصل آباد سے خلقت اسلام آباد چلی آئی تھی۔ محبتوں کا ایک سماں تھا، جو شام چھ بجے سے رات ڈیڑھ بجے تک پورے ترنگ سے بندھا رہا۔

سماجی ذرائع ابلاغ کیا ہے۔ ایک برقی لہر ہےاوراس پر رقصاں الفاظ۔ الفاظ کا چہرہ نہیں ہوتا۔ یہ گمان کی دنیا ہے۔ کہیں بدگمانی کہیں خوش گمانی۔ کہا کچھ جاتا ہے، سمجھا کچھ جاتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا زاویہ، ہر ایک کا اپنا پہلو۔ پھر بد لحاظی اس کے سوا ہے۔ ملاقات نہ ہو تو بد لحاظی کا امکان روشن رہتا ہے۔ پل دو پل کی سنگت مل جائے تو آنکھ میں حیا اتر آتی ہے۔ یہی اسلام آباد سیک سیمنار کا حاصل رہا۔ جن کے بیچ تلخیاں تھیں وہ فون نمبروں کا تبادلہ کررہے تھے۔ جنہیں مغرورجانا تھا وہ انکسار کے پتلے نکلے۔ جنہیں بد مزاج خیال کیا وہ محبت کے پیکر نکلے۔ جن پہ ناخواندگی کا گمان تھا وہ علم کے خاموش مجسمے نکلے۔ زائل ہوتی بدگمانیوں میں ذہنوں کوایک نئے رخ پہ سوچنے کا موقع میسر آیا۔ رات گئے خوشگوار حیرتیں ساتھ لیے احباب لوٹ گئے۔

ایک آواز آئی کہ ثاقب میاں لاہور کب آرہے ہو۔ جواب آیا کہ ایسی کیا بات ہے، لاہور بھی چلے آتے ہیں۔ صدا دی تو پھرسے لبیک کا وہی شور۔ لوگ ملتے گئے قافلہ بنتا گیا۔ بساط سے بڑھ کرہر ایک نے ساتھ دیا۔ دکھ بھی دیے ہوں گے، مگر اب اس کا مذکور ہی کیا۔ دو چار دن کی زندگانی اسی تلخ حقیقت سے عبارت ہے۔ بس تحمل بڑی چیز ہے اس جہانِ تگ وتاز میں۔ تحمل اس جوان نے پالیا ہے۔ سیمینار سے ایک رات قبل ملنے آیا۔ جیسے کندھوں پہ کوئی بوجھ ہی نہ ہو۔ ہمارے اعصاب چٹخے ہوئے، اس کی پیشانی مطمئن۔ کمال ہے بھئی۔ احساس ہواکہ ہمیں تو کانوں کان خبر تک نہ تھی اورلاہور سیک سیمینار حتمی صورت میں سامنے بھی آگیا۔ حیرت در حیرت۔ پیسے بڑھا دیے، کسی نے سوال نہیں کیا۔ چہار ستارہ ہوٹل بڑی بات ہوتی ہے۔ پھر چترال گلگت بلتستان کشمیر سندھ پختونخوا اور پنجاب بھرسے آنے والوں کی خاطر داری ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ دور دراز سے لوگ اپنے وسائل بروئے کار لاکر پہنچے اور سیک کے مہمان بنے۔ سمجھ یہ نہیں آتی کہ سوشل میڈیا میٹ اپ میں لوگ قومی روایت کے برعکس بروقت کیسے پہنچتے ہیں۔ بتیاں بجھ جانے پر بھی بیٹھے کیسے رہتے ہیں۔ بس میں کہ منیر نیازی کا پرستار ہوں ہمیشہ دیر کردیتاہوں، باقی ہر ایک وقت کی تنگیوں اور طوالت سے بے نیاز چلا آتا ہے اور بیٹھا رہتا ہے۔ محبتوں کے سوا کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

سبھی آئے۔ کچھ پرانے چہرے، مگر زیادہ تر نئے نام۔ قبلہ ہمایوں احسان ہر منظر میں نمایاں تھے۔ پہلی بار سنا۔ جیسے کوئی مشفق باپ سینے میں ایک ماں کا دل لیے نصیحت کر رہا ہو۔ بچوں کو کام کی آٹھ دس باتیں سمجھارہا ہو۔ ادائیں کم، درد زیادہ۔ شاگرد واری جاتے تھے۔ چاہنے والے بڑھ کر چرن چھوتے تھے۔ خرم مشتاق نے متعارف کروایا۔ چند ساعتوں کی ملاقات نے بتایا کہ کیوں واری جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب، کیا آدمی ہیں۔ عزت اور محبت کا توشہ ہمہ وقت ساتھ رکھتے ہیں۔ گزرتے جاتے ہیں بانٹتے جاتے ہیں۔ سراپا شفقت۔ ان کا حق ہے کہ دانشور کہلوائے جائیں۔ خدا نے انہیں اپنی بات کہنے کا سلیقہ دیا ہے۔ پورے سلیقے سے قوموں کے عروج وزوال کے اسباب وعوامل بتائے۔

قبلہ رعایت اللہ فاروقی، کیا کہوں۔ ؟ انہیں سراہنے کی گستاخی کرتا اچھا لگوں گا کیا؟ ان کی گود میں پروان چڑھا ہوں۔ ان کی انگلی پکڑ کے اسکول گیا تھا۔ خاندان کا پہلا بچہ جو انگلش میڈیم اسکول گیا۔ شعورکی آنکھ کھولی توکالم لکھتے انہی کودیکھا تھا۔ تحریرکی دنیا میں پہلی انسپائریشن۔ اب یہاں میری تعریف کا کیا اعتبار۔ افغان جہاد ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ اسی کو لے کرانہوں نے رہنمائی کی۔ فرمایا کہ آئی ایس آئی پر ہی الزام کیوں؟ تنظیم سازی فنڈنگ اور مداخلت کی روایت کو تو عالمی خفیہ اداروں نے رواج بخشا۔ ہمارے خفیہ ادارے اگر پاوں سمیٹ لیں تو اسی طرح ہمیں لاشیں اٹھانی پڑجائیں جیسا کہ کوئٹہ میں اٹھائیں۔

عامر خاکوانی، کیا کہنے۔ ایک دور افتادہ محروم علاقے سے اٹھنے والا مکمل صحافی۔ بغیر آسرے اور سہارے کے رستے بنانے والا صحافی۔ روف کلاسرا اور وہ ایک خطے سے اٹھے اور ایک جیسے حالات سہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گمنام لوگوں کو خاکوانی صاحب رستہ دیتے ہیں۔ مواقع دیتے ہیں۔ حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ عینی گواہ ہوں۔ تکلف نہیں برتتے۔ پوری بات سنتے ہیں، مکمل بات کہتے ہیں۔ ہنس کے سنتے ہیں، تول کے بولتے ہیں۔ بہتر ہی رہا کہ انہیں اپنی روداد سنانے کا موقع دیا گیا۔ بلا کم وکاست انہوں نے بیان کردیا۔ سننے والوں کے لیے اس میں نشانیاں تھیں۔

شاہداعوان، عجیب ہی آدمی ہے بھئی۔ خاموش، مگرحاضر ناظر۔ بولتے نہیں ہیں۔ بس ایک ہی دفع بولتے ہیں۔ سنتے میں ان کا انہماک اللہ اللہ۔ سہولت سے رستہ نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے طنز سے خدا تمام مومنین مومنات اور مسلمین مسلمات کو بچائے رکھے۔ انہیں بات کرنی چاہیے، مگر سماعت کرتے ہیں۔ مرضی جناب کی۔

عظیم الرحمن عثمانی، درویش خدا مست انسان۔ مرشد آدمی ہیں۔ یعنی میں صوفی ہوں سرمستہ میرا کون پہچانے رستہ۔ صبح اٹھتے ہی شہد کے غرارے کرتے ہوں گے۔ تبھی تو اتنا میٹھا بول بولتے ہیں۔ وائے نصیب کہ ان کی گفتگو سن نہیں پایا۔

انعام رانا، نام ہی کافی ہے۔ نام آجائے تو مسکراہٹ ساتھ چلی آتی ہے۔ بڑی عمر کا بچہ ہے۔ یعنی من کا سچا ہے۔ کچھ بھی کہہ دیتا ہے، کچھ بھی کردیتا ہے۔ کام وکالت کا پایا ہے، نام صحافت میں پایا ہے۔ آن لائن گفتگو کی۔ ان کی گفتگو تیکنیکی خرابیوں کی نذر ہوگئی۔ بالکل پچھلے سیمینار کی طرح۔

کاکزئی عامر، مجھے ان سے پھر ملنا ہے۔ دیر تک ملنا ہے۔ ان سے پوچھنا ہے کہ تربیت کہاں پائی ہے۔ یہ ادب کہاں سے سیکھا ہے اوراتنی شائستگی کس نے ودیعت کی ہے۔ جو بات آپ نہیں کہتے، وہ بھی سنائیے۔ آپ نے فرمایا، سی پیک کو پاکستان کا مستقبل سمجھتا ہوں۔ ہماری ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے۔

حسنین جمال، خوش ادا و خوش جمال۔ ایک یارِ طرح دار۔ باغ وبہار اور باکمال۔ یعنی روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام۔ اسلوب نگارش میں بالکل منفرد۔ بولنے میں یگانہ۔ لکھنے سے اچھا ان کا بولنا ہے۔ بولنے سے کہیں اچھا ان کا لکھنا ہے۔ نرم خو اور انکسار ہی انکسار۔ باطن اس کے ظاہر کی طرح آشکار ہے۔ زہے نصیب کہ ان کی رفاقت میسر ہے۔ وہ دن آئے کہ کہہ سکوں جمالِ ہم نشیں درمن اثر کرد۔ اسی لیے تو ان کے پہلو میں بیٹھا تھا۔ یار لوگ مگر برا مان گئے۔ انتظامیہ کا شکریہ کہ اعزازی شیلڈ ان کے ہاتھوں عنایت کی۔

رامش فاطمہ، لوگ ڈاکٹر کہتے ہیں۔ حالانکہ مسیحا ہیں۔ انسان دوست اور مظلوم دوست۔ پرانے بت پاش پاش ہونے پر حیران اور نئے بت تراشنے کے لیے فکر مند۔ حماقتیں تو بہت ہیں، دو بتائے دیتا ہوں۔ سچ بول دیتی ہے اور کہیں بھی بول دیتی ہے۔ اور یہ کہ ملبوسات، زیورات اور دیگر عورتانہ لوازمات کی مد میں ملنے والے پیسوں سے بھی کتاب خرید لیتی ہیں۔ ہمارے زوال کا سبب انہوں نے بجا طور پرنصاب تعلیم اورنظام تعلیم کو قراردیا۔

سیک سیمنار کا دوسرا مرحلہ بخیر عبور ہوا۔ تنقیدی جائزہ لیا جائے تو بیسیوں نقص نکالے جا سکتے ہیں، مگر دیکھنا یہ ہے کہ بنیادی مقصد کیا تھا۔ بنیادی مقصد یہی تھا کہ پردے کے پیچھے سے ایک دوسرے کو سننے والے احباب کچھ دیر ساتھ بیٹھیں۔ ایک دوسرے کو جانیں ایک دوسرے کو سمجھیں۔ یہ مقصد سو فیصد حاصل رہا۔ خوب گلدستہ تھا جو احباب نے سجایا۔ ثاقب ملک اس گلدستہ احباب میں بندش کی گرہ ثابت ہوئے اور عامر مغل اس گلدستے کو آپ تک پہنچانے کا وسیلہ۔ امید رکھنی چاہیے کہ مکالمے کی راہیں ہموار ہور ہی ہیں۔ اختلاف اور مخالفت کا فرق واضح ہونے لگا ہے۔ تنقید اور تذلیل کے بیچ کا امتیاز نمایاں ہورہا ہے۔ ایک دن آئے گا کہ جب ہم اپنی روایتوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنے اور کہنے کی جسارت بھی کریں گے اور کوئی افتاد بھی نہیں ٹوٹے گی۔ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔

Facebook Comments HS