جون بھائی کے اردو جہاں کا مقبول ترین شاعر بننے کی وجہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جون بھائی مبارک ہو!

آپ ہمیشہ کہا کرتے تھے ”میں اردو دنیا کا سب سے مقبول شاعر نہیں ہوں، زندہ شاعروں میں احمد فراز اردو زبان کا مقبول ترین شاعر ہے۔ “ آپ صحیح کہا کرتے تھے، ایسا ہی تھا۔

لیکن اطلاعاً عرض ہے کہ آج سارا منظر ہی بدل چکا ہے۔ چار سو آیات بکھری ہوئی ہیں، سوشل میڈیا کو دیکھیے، نمایاں سرچ انجن کے ڈیٹا پر نظر ڈالیے، یو ٹیوب وڈیوز پر آمد ورفت کا جائزہ لیجیے، بلاگ گنیے، فیس بک صفحات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا احاطہ فرمائیے، بلا شبہ آج آپ اردو گلوب کے سب سے مقبول و مرغوب شاعر ہیں۔ جون بھائی آپ کو مبارک ہو!

یہ سب کیسے ہوا، کیوں ہوا؟ اس کا جواب بعد میں ڈھونڈتے ہیں، پہلے توآپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سب خود بہ خود ہوا ہے، اس میں کسی ریاست، کسی حکومت، کسی انجمن، کسی ادارے کا کوئی دخل نہیں۔ یہ مقبولیت خود رو ہے، یہ اردو پڑھنے اور بولنے والوں کا اپنا فیصلہ ہے، آپ کا کوئی شارح نہیں تھا، کوئی مفّسر نہیں تھا، کوئی حالیؔ نہیں تھا۔ اگر کچھ تھا تو بس آپ کی شاعری تھی اور یوٹیوب پہ چند وڈیوز، یعنی آپ خود ہی اپنے پروموٹر تھے، آپ ہی اپنے پی آر مینیجر تھے، اور آپ نے خود ہی اپنی مارکیٹنگ کی۔

ایسا کیوں ہوا؟ آپ ہی کہا کرتے تھے کہ ہر عہد کے مقبول ترین شاعر میں بہت سی شاعرانہ خوبیاں تو ہوتی ہی ہیں، لیکن ایک خوبی ان سب میں بہرحال مشترک نظر آتی ہے، وہ سب روحِ عصر کے بہترین نمائندے ہوا کرتے ہیں، معنویت اور کیفیت دونوں اعتبار سے، اور پھر ”بیاں اپنا“، یعنی اظہار کا وہ پیرایہ جو اس عہد کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے۔ تو غالباً اردو دنیا کو لگاکہ یہ اوصاف آپ کی شاعری میں پائے جاتے ہیں۔

لوگوں کے خواب بکھر گئے ہیں، انہیں بھی لگتا ہے یہ ناکام ہو گئے ہیں، یہ بھی حاضر و موجود سے بیزار ہیں، ان کا بھی کوئی امام نہیں، یہ بھی جھنجلائے ہوئے لوگ ہیں، ان کے لبوں پر بھی ایک حرف انکار ٹھہرا ہوا ہے۔ تو کیوں نہ یہ آپ کے شعر گنگنائیں، انہیں حرز جاں بنائیں، کیوں نہ یہ لمحۂ موجود کی کھلی اڑائیں، کیوں نہ اپنا اور آئینے کا تمسخر اڑائیں، کیوں نہ اس بود و ہست کے بندوبست پہ مسکرائیں۔

بہرحال آپ کو مبارک ہو، بہت بہت مبارک!

جان بھائی، میں آپ سے سچ کہہ رہا ہوں، آپ کسی سے پوچھ لیں۔ آپ اس دور کے مقبول ترین شاعر ہی نہیں ہیں بلکہ آپ تو فیشن بن چکے ہیں، آج کل کی نوجوان نسل جسے اردو بھی ٹھیک سے نہیں آتی، آپ کے شعر یوں آنکھیں بند کر کے پڑھتی ہے جیسے یہ شعر انہوں نے خود کہہ رکھے ہیں، جیسے وہ اپنی قلبی واردات سنا رہے ہیں۔ اور یہ معاملہ ہمارے ملک تک محدود نہیں رہا، ہندوستان میں بھی آپ کے کئی عشاق پیدا ہو چکے ہیں، انہوں نے وہاں انجمنیں بنا رکھی ہیں، آپ کی سال گرہ مناتے ہیں، آپ کی برسی کا اہتمام کرتے ہیں، آپ کی شاعری پڑھتے ہیں، آپ کی باتیں کرتے ہیں۔ وہاں کے ایک صاحب ششانک شکلا سے بات ہوئی کہنے لگے ہم تو ’جون ازم‘ کے ماننے والے ’جونسٹ‘ ہیں۔ گویا کوئی مسلک ہیں آپ۔ کمال ہے۔ کم و بیش یہی صورت تمام اردو گلوب کی ہے، آپ کے بارے آج کے لڑکے لڑکیاں تجسس رکھتے ہیں، ہر آنے جانے والے سے آپ کی کتابیں منگواتے ہیں۔

جون بھائی، آپ تو وبا کی طرح پھیل گئے ہیں، یار لوگ تو آپ کو Poetic Pandemic کہنے لگے ہیں۔

میں محبت میں نہیں کہہ رہا، سچ کہہ رہا ہوں۔ میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ آپ فلاں فلاں شاعر سے بڑے شاعر ہیں، یہ تو میرا منصب ہی نہیں ہے، میں تو فقط یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ اس دور کے مقبول ترین شاعر ہیں۔ جون بھائی، ہم نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو چہار دانگ فیض صاحب کا طوطی بول رہا تھا اور بلا شبہ وہ اس عہد کے مقبول ترین شاعر تھے، اپنے سب ہم عصروں میں ممتاز، سربلند۔ لیکن ان کی شہرت کی وجوہ سمجھنا نسبتاً آسان تھا۔

ایک تووہ بہت اعلیٰ شاعر تھے، پھر وہ ایک ایسی نظریاتی تحریک سے وابستہ تھے جس نے برصغیر میں ادبی رسائل سے فلم تک ہر میڈیم کا بہترین استعمال کیا۔ پھر فیض صاحب کی شخصیت کا اپنا سحر تھا، پھر ان کی نظریاتی شاعری کی بین الاقوامی پذیرائی تھی، قید و بند سے جلا وطنی تک بہت کچھ تھا۔ اور آپ کے پلّے تو کچھ بھی نہیں ہے، سوائے شاعری کے۔

خدارا، میں آپ کا کسی سے موازنہ نہیں کر رہا، نہ فیض صاحب کی درجہ بندی کر رہا ہوں، میں یہ نہیں کہہ رہا کے فیض صاحب ن۔ م۔ راشد یا مجید امجد سے برتر شاعر تھے، یا آپ احمد فراز اور منیر نیازی سے بہتر شاعر ہیں۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں دو شعرا کو انتہائی مقبول دیکھا ہے، پہلے فیض صاحب اور اب آپ، یعنی آپ، یعنی جون ایلیا۔

میں حلفاً بتا رہا ہوں کہ آپ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مذکور شاعر ہیں، سیاست سے معاشرت تک، ہر موضوع پر آپ ہی کو کوٹ کیا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ آج کل کرہ ارض پر ایک بیماری پھیلی ہوئی ہے اور اس حوالے سے بھی لوگ آپ ہی کے شعر پڑھتے ہیں، مثلاً، اب نہیں کوئی بات خطرے کی، اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔ مثلاً، خموشی سے ادا ہو رسم دوری، کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم۔ مثلاً، ہیں عجیب سائے سے گامزن، کہ فضائے شہر ہے پر فتن، نہیں شام یہ رہ و رسم کی، جو ہے گھر میں اپنے وہ گھر رہے۔

اسی طرح اور بھی درجنوں شعر۔ ان اشعار کی شان نزول سوچ کر اور ان کا استعمال دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے، پھر خوشی بھی ہوتی ہے کہ یہ تماشا بھی مقبولیت پہ دال ہوا کرتا ہے۔

اور سنیے، آج کل آوارہ شعر بھی آپ کے نام لگادیے جاتے ہیں۔ فیس بک پر میں دیکھتا رہتا ہوں کئی رنگ برنگے شعر آپ کے سر منڈھ دیے گئے ہیں۔ ایک دن ایک ڈراما نگار خلیل الرحمٰن قمر ملے، باتوں باتوں میں آپ کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ ”جون ایلیا، غالب سے بھی بڑا شاعر ہے“، پھر اسی عالم وفور میں، دلیل کے طور پہ آپ کا اک شعر سنایا، جو بہ ہر حال آپ کا شعر نہیں تھا۔ ایسے کئی قصے ہیں، جن سے میں خوب محظوظ ہوتا ہوں۔

جون بھائی، اب ایک شعر سن لیں جو ہمارا مشترکہ شعر ہے، ایک مصرع آپ کا ایک میرا۔ اپنا مصرع پہچانیں تو مانوں :

امیر وقت ہوتا جا رہا ہوں
کہ میں ماضی میں کھوتا جا رہا ہوں

یہ شعر میں آج کل بہت گنگناتا ہوں۔
خدا جانے بات کہاں نکل گئی۔
خیر میں کہہ رہا تھا کہ، جون بھائی، آپ کو بہت بہت مبارک ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *