لاک ڈاؤن اور ہماری دماغی صحت
ہمارے دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں، لیفٹ برین اور رائٹ برین۔ جو ہمارا لیفٹ برین ہے وہ عموماً منطق، ریاضی، اعداد و شمار، نومیریکلز، سائنسی چیزیں اور ایسے دیگر معاملات جن کا تعلق حساب کتاب سے ہوتا ان کو ڈِیل کرتا ہے، تو جو لوگ ایڈمنسٹریٹو پوسٹس پر ہوتے ہیں، اسی طرح بینکرز یہ لیفٹ برین کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
ہمارا رائٹ برین ہے یہ موسیقی، مصوری اور فنون لطیفہ سے متعلق ہے۔ ہم میں سے جو لوگ شاعرانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں یا آرٹسٹ ہوتے ہیں یا جو فنون لطیفہ، رقص، موسیقی اور مصوری کے دلدادہ ہوتے ہیں وہ رائٹ برین کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
عام حالات میں ہم دن میں کبھی رائٹ برین کو زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کبھی لیفٹ برین کو زیادہ استعمال کرتے ہیں اور ایسا ہی کرنا چاہیے۔ لیکن آج کل جس طرح لاک ڈاؤن کا زمانہ ہے اس کے دوران لیٹفٹ برین سے زیادہ کام لینے والے وہ اینالیٹیکل لوگ جنہوں نے زندگی میں زیادہ تر نمیریکل سیکھ کے کام کیا، حساب اور گنتیوں کا کام کیا ان کو چاہیے کہ وہ رائٹ برین کو سٹیمولیٹ کرنے کے لیے، دماغ کے دائیں حصے کو تحریک دینے کے لیے شاعری پڑھیں، اچھی موسیقی سنیں، اچھے مصوروں کی پینٹنگز دیکھیں چاہے گوگل پر ہی دیکھ لیں۔ ان کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ بڑا موقع ملا ہوا ہے کہ وہ اپنے دماغ کے دائیں حصے کو تحریک دے لیں۔
اسی طرح جو ہمارے رائٹ برین کو زیادہ استعمال کرنے والے آرٹسٹک لوگ ہیں ان کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران کچھ وقت سائنس پڑھنے میں لگا لیں، جو میتھمیٹیکل چیزیں ہیں ان کو بھی دیکھ لیں۔ اس سے ان کو دماغ کے بائیں حصے کو تحریک دینے کا موقع ملے گا۔
ایسا کرنا کیوں ضروری ہے؟
لاک ڈاؤن کے زمانے میں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اس کے نتیجے میں یہ ہو گا کہ لیفٹ برین کے حامل افراد میتھمیٹکس اینالسس کی گہرائی میں چلے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں رائٹ برین ایکٹیویٹی نہیں ملتی جو عام زندگی میں تھوڑی بہت ملتی رہتی ہے۔ اسی طرح جو رائٹ برین سے زیادہ کام لینے والے افراد ہیں وہ غور و فکر میں ہی مصروف رہتے ہیں ان کو بھی وقفہ نہیں ملتا۔ اس طرح یہ دونوں طرح کے لوگ یک سمتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تو معلوم یہ ہوا کہ لاک ڈاؤن کے اس پیریڈ میں ہم نے اپنی دماغی صحت کو ریاضت سے بیلنس رکھنا ہے۔ لیفٹ برین والے رائٹ برین کی عادات اپنائیں اور رائٹ برین والے لیفٹ برین والوں کی عادات اپنائیں۔ اس سے نہ صرف ہماری دماغی صحت بہتر رہے گی بلکہ جسمانی تندرستی بھی بہتر رہے گی۔


