خدا کا پردہ، سفید پوش طبقہ
مہینا تو شعبان کا ہے، لیکن نہ جانے کیوں فیلنگ رمضان والی ہے۔ ہر چینل پر غریبوں کی امداد کے لیے کسی نہ کسی حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ ہمارے یہاں غریب طبقے کی مالی امداد کا درد ہر پیسے والے کے دل میں موج زن رہتا ہے۔ اور ان کی مالی اعانت کر کے ان کے ہاتھ پیر ہی نہیں توڑے گئے بلکہ ان کے اندر خود ترسی اور خود غرضی کی ایسی صفات پیدا کر دی گئی ہیں کہ یہ چند دن نوکری، یا بسوں، گلیوں، بازاروں، چوراہوں پر مال بیچنے کے لیے بھی مال کی افادیت کے بجائے اپنی بے چارگی بیان کر کے ہی پیسا اینٹھتے ہیں۔
اب سیاست دانوں کے پیٹ میں غریبوں کے ساتھ، سفید پوش طبقے کی گونگی کس مپرسی کے بھی مروڑ آٹھ رہے ہیں۔ سفید پوش طبقے کے لیے ان کی تکلیف بجا مگر اس کاعلاج کیسے ہو۔
سفید پوش، خوددار طبقہ کون سا ہے۔ کہاں پایا جا تا ہے۔ اس کی تلاش آسان نہیں۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے عام طور پر خاندانی، رکھ رکھاؤ کے حامل اور اچھے حالات میں پلے بڑھے ہوتے ہیں۔ لوگ ان کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں۔
یہ اپنے سگے رشتے داروں ماں باپ بہن بھائیوں سے ادھار بھی نہیں لیتے۔ اور اگر کسی اشد ضرورت کے تحت لینا بھی پڑ جائے تو دوسری بار لیتے ہوئے انہیں الفاظ ہی نہیں ملتے۔ کیوں کہ یہ طبقہ اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم کرنے کے چکر میں کبھی کسی پر اپنی تنگ دستی ظاہر نہیں کرتا۔ اگر دوسری بار ادھار لینا بھی پڑ جائے تو سارے راستے مناسب الفاظ تلاش کرتے ہیں کہ اپنی کیا مجبوری بتائیں کہ ان کی تنگ دستی کا پول نہ کھلے۔
انتہائی شدید ضرورت مثلاً بچے یا میاں کو نوکری کے لیے انٹرویو دینے جانا ہے، اور آنے جانے کے لیے بس کے کرائے تک کے پیسے نہیں، تو کیوں کہ اس سے پہلے کسی کو بے روزگاری کے بارے میں بتایا نہیں، اب کیسے کہیں کہ انٹرویو ہے اور سو، پچاس دے دیں اس لیے ایک ہزار روپے طلب کیے جائیں گے عذر پیش کیا جا ئے گا کہ اے ٹی ایم مشین میں کارڈ پھنس گیا ہے۔ یا اور طرح کی ایسی باتیں جس سے سننے والے پر رعب پڑے۔ اس طبقے کو قطعی منظور نہیں کہ کوئی ان پر ترس کھائے۔
یہ طبقہ نہایت سلیقے سے اپنی بنیادی ضروریات نبھاتا ہے۔ اگر مالک مکان کرایہ طلب کرنے آ دھمکے تو اس پر بھی معاشی تنگ دستی کا رونا رونے کے بجائے بڑے طمطراق سے کہا جائے گا کہ دبئی میں نوکری لگ گئی ہے، اسی سلسلے میں پاسپورٹ وغیرہ کے چکر میں پیسے ختم ہو گئے۔ اس سب بھرم بازی میں یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ مالک مکان کنگلا جان کر اور آیندہ کرایہ نہ ملنے کے امکان پر مکان خالی نہ کرنے کا کہہ دے۔ اگر بچوں کی اسکول فیس دو مہینے تک نہ پہنچ سکی تو بچوں کو خاموشی سے گھر بٹھا دیں گے۔ اسکول سے فون آنے کی صورت میں بڑے طمطراق سے کہہ دیا جائے گا کہ اچانک اسلام آباد ٹرانسفر کی وجہ سے اسکول کو مطلع نہیں کیا جا سکا۔
اس طبقے کو پہننے اوڑھنے اور تقریبات میں باوقار انداز سے شرکت کا بڑا سلیقہ ہوتا ہے۔ لنڈے کے استعمال شدہ کپڑوں کو آلٹر کر کے ماڈرن لک کے ساتھ زیب تن کرتے ہیں۔ ان کی زبان اور نشست و برخاست میں ایک خاص تمکنت ہوتی ہے۔ یہ موصول ہونے والے تحفے اور ان کے ریپر کسی خاص موقع پر دینے کے لیے سنبھال رکھتے ہیں۔
عید بقر عید پر کسی کے گھر آنے یا خود کسی کے گھر جانے پر بچوں کو ملنے والی عیدی جوڑ توڑ کر لوٹا دی جاتی ہے۔ بسوں سے آنا جانا کرتے ہیں۔ اس میں بھی دو بسیں نہ کرنی پڑیں اس کے لیے گھنٹوں مطلوبہ بس کا انتظار یا میلوں پیدل چلا جاتا ہے۔ لیکن رشتے داروں کو رکشا ٹیکسی سے جانے آنے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ شادی ہال سے یا یہ سب سے پہلے یا آخر میں ہال سے نکلتے ہیں۔
ان کے گھر کوئی مہمان آئے تو محلے کے قسائی سے ادھار گوشت لے کر بریانی بنائی جاتی ہے۔ کولڈ ڈرنک نہ پیش کرسکنے کی وجہ بچے کا خراب گلہ بتائی جاتی ہے۔ یہ طبقہ اپنے خراب حالات کسی گناہ کی طرح چھپاتا ہے۔
اس سفید پوش طبقے کی مثال شوہر سے پٹنے والی اس زخم خوردہ بیوی کی ہے، جو اپنے ہر زخم کا الزام دیوار، فرش، دروازے، سیڑھی میز، کرسی، بیڈ کے کونے اور چٹخے شیشے پر ڈال کر اپنی عزت رکھتی ہے۔ سفید پوش کو تلاش کر کے اسے مخیر حضرات کا دال دلیہ یا چند نوٹ تھمانے کی کوشش، تلاشِ خدا کی طرح ناممکنات میں سے ہے۔ لیکن ٹھہریے اپنے کسی پیارے کی بھوک یا بیماری کی صورت میں اپنے چہرے کو ڈھانپے مانگنے والوں کی قطار میں کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ کھڑا سیاہ پوش، کہیں سفید پوش تو نہیں، دینے والا کم ظرف، لیکن لینے والا کب خدا کی صورت موجود ہو۔ اس لیے ایسی تصاویر لعن طعن کی غرض سے شیئر کرنے والے سفید پوش ہی کو نہیں خدا کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔


