وبا کے دنوں میں بوریت
انفرادی اور اجتماعی قرنطینہ میں پڑے زیادہ تر لوگ شدید بوریت اور اوازاری کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ تجاویز پیشِ خدمت ہیں۔
اپنے وقت کو ایک سانچے میں ڈھال لیجیے۔ اس کے لیے کئی سانچے دستیاب ہیں، لیکن اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کے لئے بہترین سانچہ نماز ہے۔ نماز باقاعدگی سے ادا کیجیے اس سے آپ کی سیلف ایسٹیم بہتر ہو نے کے علاوہ آپ کی بوریت میں بھی واضح کمی ہو گی۔ نماز کو بنیاد بنا کر اپنے چوبیس گھنٹوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کر لیجیے۔
عشا اور فجر کے درمیانی حصے کو نیند کے لیے مخصوص کر دیجیے۔ اس دوران میں نیند کے علاوہ کوئی بھی مصروفیت مجموعی بوریت میں اضافہ کرے گی۔ رات کو آرام کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ رات کو ٹمپریچر، روشنی، ہوا اور دوسرے ماحولیاتی عناصر کو یوں ترتیب دیا جاتا ہے کہ ہم جم کر آرام کر سکیں اور طلوع آفتاب کے ساتھ ایک بھر پور دن کا آغاز کر سکیں۔ ریسرچ سے پتا چلتا ہے کہ رات کو انسان کا جسم اور دماغ کبھی بھی وہ پروڈکٹیوٹی نہیں دے سکتے جو دن کو ممکن ہے۔ لہٰذا نظامِ فطرت سے لڑنے کی بجائے اس سے ہم آہنگ ہو کر پر سکون نیند کا لطف اٹھائیں۔
فجر اور ظہر کے درمیانی وقفے میں اگر آپ ورک فرام ہوم نہیں کر رہے تو اس وقت کو سیلف ڈویلپمنٹ کے لئے استعمال کیجیے۔ کتابیں پڑھیے۔ اگر آپ کے پاس گھر میں کتابیں موجود نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، آپ گوگل پلے اسٹور سے پی ڈی ایف ڈرائیو ایپ ڈاون لوڈ کیجیے اور اپنی پسند کی کوئی بھی کتاب مفت میں خود بھی پڑھیے اور دوسروں کو بھی تقسیم کیجیے۔ اس کے علاوہ یو ٹیوب پر فلمیں اور موٹیویشنل وڈیوز دیکھیے، Udemy یا Coursera پر کسی آن لائن کورس میں شمولیت اختیار کر کے، اس وقت کو اپنے لیے فائدہ مند بنائیں، تا کہ جب لاک ڈاؤن کے اختتام پر آپ دوبارہ اپنی سوشل اور کاروباری سرگرمیاں شروع کریں تو آپ ایک بہتر انسان بن چکے ہوں۔
ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے میں دُپہر کا کھانا کھانے بعد کچھ دیر آرام کریں اور نمازِ عصر تک کا باقی وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزاریں۔ خاندان میں موجود بزرگوں کے پاس بیٹھیں، بچوں، بیوی / شوہر کے ساتھ گپ شپ کریں، ان کو توجہ دیں اور ہمت افزائی کریں۔ یقین کریں، جیسے اس قدرتی آفت کے وقت گھر اور فیملی آپ کی پناہ گاہ ہے اور آپ کے دوست اور رشتے دار آپسے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے دور بھاگ رہے ہیں، اسی طرح ہر مشکل گھڑی میں آپ کی فیملی ہی آپ کا آخری سہارا بنے گی۔ اس وقت کو غنیمت جان کر اپنے خاندان کے ساتھ بہترین وقت گزارئیے، کیوں کہ کل پھر آپ اپنے کام کاج میں یوں مصروف ہو جائیں گے کہ گھروالوں کے لئے وقت نہیں بچے گا۔
عصر اور مغرب کے درمیان گلی، صحن، لان، بالکونی یا لاؤنج میں چہل قدمی کریں، تسبیح پڑھیں چائے یا کافی کے کپ کی چسکیاں لیں۔ کچھ دیر سوشل میڈیا پر گزاریں اور دیکھیں ہمارے آس پاس کیا ہو رہا ہے، کورونا وائرس کی مستنداپ ڈیٹس لیں، اس کے لیے عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ بہترین سورس ہے۔ اس کے علاوہ ملکی ٹی وی چینلز بھی دیکھیں تا کہ آپ اپنے شہر اور ملک کے تازہ ترین حالات سے باخبر رہیں۔
اس کے علاوہ زندگی کے بارے میں غور و فکر کریں۔ ماضی کے سمندر میں غوطہ لگا کر اپنی غلطیوں سے کشیدہ دانش کی سیپیاں چنیں اور بہتر مستقبل کو ویژولائز کریں۔
نمازِ مغرب اور ڈنر سے فراغت کے بعد دوبارہ اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھیں، پورے دن کے بارے میں، سب کی مصروفیات پر گفتگو کریں، آج کے دن ہر کسی نے کیا نیا سیکھا اس پر بات کریں، اگر آپ بزرگ ہیں تو بچوں کو اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھی عقل ودانش کی باتیں بتائیں، اگر آپ نوجوان یا بچے ہیں تو خاندان کے بزرگوں سے ان کی زندگی کے تجربات کے بارے میں پوچھیں اور ان کی غلطیوں سے سبق سیکھیں، گپ شپ لگائیں، ہنسی مذاق کریں، لڈو کھیلیں یا اس طرح کی دوسری سرگرمیاں کریں۔
نمازِ عشا کے بعد اپنے کمرے میں چلے جائیں، اپنا موبائل فون خود سے دور رکھ دیں، ٹی وی کا سوئچ نکال دیں، دن بھر کے واقعات پر غور کریں اور کم از کم پانچ ایسے لمحات کو ذہن میں لائیں جن کو یاد کر کے آپ کو خوشی اور مسرت کا احساس ہو، اس کے بعد اپنی کتاب کھولیں اور آنکھیں بند ہونے تک کتاب پڑھتے رہیں۔ اگر آپ سونے سے پہلے سوشل میڈیا پر کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں یا کچھ دیر ٹی وی دیکھنا چاہتے ہیں تو مان لیجیے کہ آپ نیند کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ لہٰذا مطالعہ کے علاوہ کسی بھی دوسری ایکٹیوٹی سے پرہیز کریں۔
اس کے باوجود اگر آپ کی بوریت اور اوازاری برقرار رہے تو پھریقیناً آپ کو ”ٹیکنیکل ہیلپ“ کی ضرورت ہے۔


