نظریہ اسلام: فلاحی معاشرے کا راستہ


ہمارے اس کر ہ ارض میں سات ارب سے زیادہ انسان بستے ہیں۔ یہ سارے نوح انسان مختلف نظریات اور تہذیبیں رکھتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں موجود دوسری جاندار چیزوں پر فوقیت دی اور انسان میں عقل اور شعور کے مدارج رکھے۔ اسی عقل وشعور کی وجہ سے انسان نے تخلیق کے بعد ایک درندہ بنے کی بجائے کچھ نظریات پرعمل کیا جن میں کچھ نظریات الہامی تھے جو اللہ تعالی نے وقت کی ضرورت کے ساتھ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے اپنے خاص بندوں کو عطا کیا۔ یہ خاص بندے اللہ کے پیغمبر اور نبی تھے اور حضرت محمد کو خاتم انبیین بنا کر بھیجا اور قیامت تک ختم نبوت کی مھر لگادی

اور اپ پر قرآن نازل کیا جو ایک قانون اور تمام انسانوں کے لئے ابدی نظریے کی کتاب ہے جس میں اعلی انسانی اقتدار کے بارے میں بتایا کیا۔ اگر آج بھی انسانیت اس کتاب کو پڑھ کر انفرادی یا اجتماعی طور پر عمل کرے گی تو دنیا میں نہ کوئی محکوم رہے گا نہ مجبور نہ مظلوم۔

دنیا میں الہامی مذاہب کے علاوہ لوگوں نے اپنے عقل وشعور کی وجہ سے بھئی نظریات پیش کیے۔ ان نظریات کی وجہ سے بعض نظام جیسے اشتراکی یا سرمایہ داری نظام وجود میں آئے لیکن فلاحی اور مثالی ریاستیں بنانے میں یہ نظام نا کام ہوئے۔

قرآن پاک کا قانون جو خالص خدا کا قانون ہے بنی نوح انسان کی ہدایت کے لئے ہے۔ پہلے تو اس قانون اور نظریے پر محمد نے عمل کیا اور آپ کی تبلیغ سے آپ کے جانثاروں کا ایک گروہ بن گیا اور پھر مدینے کی صورت میں ایک چھوٹی ریاست وجود میں آئی جس میں اس نظریہ کو نافذ کیا گیا۔

اس نظریے کے بنیادی اصول عدل وانصاف، مساوات، بھائی چارہ، اخوت، سچائی اورامانت داری تھیں۔ اس ریاست میں غریب امیر سب برابر تھے

نبی کے نظریے کے مطابق تقوی کی بنیاد پر ان کو جانچا گیا تو کو ئی اپنی سوچ اور قابلیت کی وجہ سے موذن بنا تو کوئی سپہ سالار کوئی عالم اور محدث بنا۔ مزدوروں اور غلاموں کے حقوق مقرر ہوئے کہ ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ ان پر ظلم اور زیادتی نہ کی جائے۔ جو خود کھائیں ان کو کھلائیں۔ جو خود پہنیں ان کو پہنائیں اور ان کی غلطیوں کومعاف کریں۔ سخاوت اتنی کہ مال ودولت کے ڈھیر لگتے تھے وہ سارا ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے۔ خود اپنے گھر کی یہ حالت کہ کبھی فاقہ ہوتا کبھی جو اور تھوڑے کھجوروں پر گزارہ کرتے تھے۔ رحمدلی اورانسانیت کے ایک ایسے عملی نمونے تھے کہ عہد نبوی میں ایک پاگل بڑھیا کی باتیں سارا دن کھڑا ہوکر سنتے رہے کہ اس کی دلجوئی ہو جائے۔

میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کرنا جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ قرآن میں اللہ نے جو فرمایا وہ اپُ نے عملی نمونہ بن کر خود پیش کیا اپنے ساتھیوں کی تربیت کی اور معاشرے کو ان نظریات پر چلاکر فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ دی۔ بعد میں اپ کے رفقاء حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضر علی نے اپنے دور حکومت میں اس نظریے پر عمل کیا جس کی چند مثالیں ان کے طرز حکومت کو واضح کرتی ہیں مثلاً رومیوں کے خلاف جب جنگ کے لئے اسلامی لشکر جاتا ہے تو اس کا سپہ سالار اسامہ بن زید ہیں جو ایک غلام زید بن حارث کا بیٹا ہوتا ہے۔

وقت کا خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق جنگ کو رخصت کرنے کے لئے اس کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر مدینے کی حدود تک پیدل جاتے ہیں۔ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق جب مسجد میں جمعہ کا خطبہ دے رہے ہوتے ہیں تو حاضرین میں سے ایک عام شخص اٹھ کر کہتا پے کہ آپ پہلے اپنا احتساب کریں پھر ہم خطبہ سن لیں گے کہ اپ نے جو کپڑے پہنے ہیں وہ دو چادروں سے بنے ہیں جبکہ ہم سب کے حصوں میں ایک ایک چادر ائی تھی۔ وقت کے خلیفہ نے اپنے بیٹے عمر بن عبداللہ سے کہا کہ وہ اس کا جواب دے تو عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ میرے حصے میں جو چادر ائی تھی وہ میں نے اپنے باپ کو دی ہے۔

یہ طاقت بھی اس نظریے نے اس عام ادمی کو دی تھی جو خلیفہ وقت کا بغیر خوف کے احتساب کرسکتا ہے۔ ایک ایسا طاقتور خلیفہ جس کے ذیرنگین سارا عرب اور ایران کا علاقہ تھا۔ اس کی عاجزی رحمدلی اور مساوات کا یہ عالم تھا کہ جب فلسطین کی فتح کے بعد وہاں کے انصرام و انتظام دیکھنے کے لئے جاتے ہیں تو راستے میں ایک گھوڈا ہوتا ہے تو اس پر بھی کبھی نوکر سوار کروا کے گھوڑے کی باغ پکڑ کر پیدل چلتے ہیں تاکہ غلام کے ساتھ نا انسافی نہ ہوجائے۔

حضرت عمر فاروق کی عادت تھی کہ اپ روزانہ رات کو شہر کا گشت کیا کرتے تھے تاکہ کسی مجبور اور بے کس بندے کی مدد کی جائے۔ ایک دفعہ اپ ایک گھر کے اگے رک جاتے ہیں۔ اندر سے گانا گانے کی اواز اتی ہے۔ اپ دیوار پھلانگ کر دیکھتے ہیں کہ ایک ادمی گانا گارہا ہے اس کے ساتھ شراب بھی ہے اور ایک عورت بھی۔ اپ نے فرمایا کہ اپ چھپ کر وہ کام کررہے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے۔ تو وہ ادمی کہتا ہے میرا تو ایک جرم ہے جبکہ اپ نے تین بڑے جرم کیے ہیں۔

اللہ نے لوگوں کو دروازے سے انے کے لیے کہا ہے جبکہ اپ نے دیوار پھلانگی ہے۔ اللہ نے لوگوں کی تجسس سے منع کیا ہے جبکہ اپ نے میری ذاتی زندگی میں جاسوسی کی ہیں۔ اللہ نے اجازت لے کر گھروں میں داخل ہونے کا کہا ہے جبکہ اپ بغیر اجازت میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں۔ حضرت عمر یہ باتیں سن کر بھت نادم ہوئے۔ اپ نے اس ادمی کو سزا دینے کی بجائے اس کو گناہ کو چھوڑنے کی نصیحت کی۔

حضرت عمر جو عمال اور عہدیداران صوبوں میں مقرر کرتے ان سے کہتے کہ وہ چھنا ہوا اٹا نہ کھائیں، دروازے پر دربان نہ رکھیں۔ ان کے اثاثوں کی انکوائری ہوتی تھی کہ عہدہ حاصل کرنے سے پہلے کتنے تھے اور بعد میں کتنے بڑے ہیں تاکہ وہ سرکاری خزانے اور لوگوں سے رشوت نہ لے سکیں۔ انہیں اپنے دروازے عوام الناس کے لئے کھلے رکھنے کے لئے کہتے تھے۔ جب کسی عہدادار اور عمال کے خلاف شکایت موصول ہوتی تو اس کو معزول کرکے تحقیق کرتے۔

حضرت عثمان اور حضرت علی کے دور میں بھی اسی طرز کی حکومتیں تھی۔ جب ایک یہودی حضرت علی کی ذرہ چوری کرتا ہے اور آپ کیس قاضی کے پاس لے کر جاتے ہیں تو قاضی حضرت علی کے حق میں بیٹے کی گواہی تسلیم نہں کرتا اور یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہے۔ اپ سر تسلیم خم کر لیتے ہیں حالنکہ اپ وقت کے خلیفہ ہیں اور یہودی ایک اقیلتی ادمی ہے۔ ان چار خلفاء نے قرآن کے قانون اور نظر ئے پر عمل کر کے مثالی حکومتیں قائم کیں۔ یہی اسلام کا قانون اور نظریہ ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ اسلامی نظام چار خلفاء تک رہا بعد میں کسی نے عمل نہیں کیا۔ نظام اور نظریہ تو موجود تھا لیکن اس کے بعد انے والوں نے اس نظام پر عمل کرنے کی بجائے ملوکیت کو لے ائے۔ اقتدار میں مشاور ت کرنے کی بجائے اپنے نسلوں میں منتقل کیا۔ اگے فرد واحد کی حکومتیں بنی اور کسی کو بھی ان کی بدعنوانیوں کے خلاف اواز اٹھانے کی جرات نھیں تھی۔ کوئی ایسی جرات کرتا تو وہ جان سے چلا جاتا تھا۔ اقتدار کے لئے اپنے بھائیوں کو قتل کرتے تھے۔ اس دور میں انصاف اور فتوے بھی بکنے لگے۔

اج بھی ہم قرآن کے اس قانون اور نظریے پر عمل کرکے نہ صرف اپنی تربیت کرسکتے ہیں بلکہ معاشرے کو بھی فلاحی اور مثالی بناسکتے ہیں۔

Facebook Comments HS