ہمارے ملک کی سر زمین ہر قسم کی آبیاری کے لئے زرخیز ہے۔ ایک طرف تو لہلاتے کھیت، دریا، پہاڑ، سمندر اور معدنیات سے لیس ہے تو دوسری طرف یہ ملک تشدد، فرقہ ورانہ فسادات، دہشت گردی، لا قانونیت اور غداروں کے ٹھپوں کے لئے ہموار بھی ہے۔ ہمارے ملک کا شروع سے یہ المیہ رہا ہے کہ جو محب وطن ہو یا آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرے وہ غدار کہلاتا ہے۔ ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جس وزیر اعظم کو غدار اور اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ وہ اس ملک میں تین دفعہ وزیر اعظم رہ چکا ہے۔ اب بھی اس کے نام سے ووٹ لینے والوں کی اسمبلیوں میں کثیر تعداد ہے۔ عوام تو بار بار ووٹ کو عزت دیتی ہے، لیکن ہم نے اب تک تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ڈکٹیٹر آئے، ان کے نام لیوا بھی نہ رہے۔ جن کو غدار بنا کر جلاوطن کیا گیا، جیل بھیج دیا گیا اور پھانسی دی گئی ان کی جڑیں آج بھی عوام میں موجود ہیں۔ تاریخ بڑی بے رحمی سے فیصلہ کرتی ہے کہ کون تاریخ کے درست سمت میں کھڑا تھا، اور کون غلط سمت میں۔
Read more