روانڈا میں نسل کشی اور میڈیا کی لگائی ہوئی آگ



آج سے چھبیس سال پہلے، انیس سو چورانوے میں اپریل سے جولائی تک کے تین مہینوں میں مشرقی افریقہ کے ملک روانڈا میں آگ اور خون کا ایک ایسا کھیل کھیلا گیا جس پر آج بھی انسانیت نوحہ کناں ہے۔ اس دلخراش سانحے کے بہت سے محرکات تھے تاہم ایک ایسا رخ جس کا تذکرہ بوجوہ کم ہوتا ہے وہ میڈیا کا گھناونا کردار تھا۔

عروشہ، مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ کے شمال میں ایک چھوٹا سا شہر ہے جو سیاحت کے حوالے سے بہت معروف ہے۔ یہاں سے قریب سو کلومیٹر کے فاصلے پر افریقہ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کلمنجارو واقع ہے۔ بین الاقو امی قانون اور انصاف کی دنیا میں عروشہ شہر کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ انیس سو پچانوے میں یہاں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی

” بین الاقو امی فوجداری عدالت براے روانڈا“ قائم ہوئی۔ یہ عدالت نسل کشی کے ضمن میں کیے گئے انسانی جرائم کے حوالے سے اپنی طرز کی پہلی باقاعدہ عدالت تھی۔ اس عدالت نے سترہ برس تک کام کیا اور اس عرصے میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے ساٹھ سے زیادہ مجرموں کو سزائیں دیں۔ پاکستان سے، پشاور ہائی کورٹ کی محترمہ خالدہ راشد خان سن دو ہزار گیارہ میں اس بین الاقو امی عدالت کی سربراہ بنیں اور اب بھی وہ دس ممبران پر مشتمل ا پیل کورٹ کی ممبر ہیں۔ اس عدالت نے جہاں اور بہت سے فیصلے کیے۔ وہاں پر ایک اہم فیصلہ روانڈا کے معاملے میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے تھا۔

روانڈا میں اقلیتی توتسی اور اکثریتی ہوتو قبائل کے مابین خانہ جنگی میں سو دنوں میں قریب آٹھ لاکھ لوگوں کا قتل کیا گیا۔ مرنے والوں میں زیادہ تعداد تر توتسی قبیلے کے لوگ تھے۔ انسانی تاریخ کے اس عظیم ترین المیے میں جہاں باقی عوامل کار فرما تھے وہیں پر میڈیا کے کردار کو بھی بے نقاب کیا گیا۔ عدالت عالیہ نے میڈیا کے کردار پر خاص توجہ دی اور اس سے منسلک مجرموں کو قرار واقعی سزائیں دی گئیں۔

روانڈا کی نسل کشی میں میڈیا کے کردار کا آغاز نوے کی دہائی کے اوائل میں ”کنگورا“ نامی اخبار سے ہوا۔ اس اخبار نے نے توتسی لوگوں کے خلاف مضحکہ خیز کارٹون اور مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ سالوں میں اسی سوچ سے وابستہ ایک پرائیویٹ ریڈیو سٹیشن سامنے آ گیا جس کی مالی معاونت ہوتو قبیلے کے کچھ دولت مند لوگ کر رہے تھے۔ یہ ریڈیو سٹیشن جلد ہی نا خواندہ، غریب اور بے روزگار مقامی لوگوں میں اپنے نشے میں دھت، چیختے چنگھاڑتے اناؤ نسر، موسیقی کے پروگراموں اور نفرت آمیز مواد کی وجہ سے مقبول ہوتا چلا گیا۔ ریڈیو والوں نے رفتہ رفتہ معلومات اور خبروں کی آڑ میں توتسی قبائل کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کے جذبات کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر کبھی مخفی اور ذومعنی انداز میں ہوتو قبائل کو مخاطب کر ے کہ اعلان کیا جاتا کہ ”لمبے درختوں کو کاٹ دو“ جو کہ دراصل ہوتو کو توتسی لوگوں کے مارنے یا گلے کاٹنے کی ترغیب ہوتی۔ یا پھر کبھی کہا جاتا کہ ”سب لال بیگوں کو کچل ڈالو“ جو کہ ہوتو کی جانب سے توتسی قبائل کے قتل عام کا پیغام ہوتا۔

چنانچہ سن دو ہزار تین میں عا لمی عدالت نے اپنے فیصلے کے پیرا گراف نمبر بہتر میں لکھا ”کنگورا“ اخبار اور ریڈیو نے واضح طور پر اور بار بار توتسی آبادی کونشانہ بنایا۔ اس میں توتسی قبائل کو فطری طور پر بری خصلتوں والا ظاہر کرنا، نسلی بنیادوں پر ان کو ’دشمن‘ قرار دینا اور ان کی خواتین کو شہوت انگیز کہنا وغیرہ شامل تھا۔ میڈیا نے توتسی لوگوں کو ایک ابھرتا ہوا سیاسی خطرہ سمجھتے ہوے ان کی نسل کشی اور قتل کی راہ ہموار کی۔ میڈیا کی اس ہرزہ رسائی کا آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ سو دنوں میں آٹھ لاکھ افراد گاجر مولی کی طرح کاٹ دے گئے۔ چنگیز خان کے بنا ے ہوے کھوپڑیوں کے مینار میں استعمال ہونے والی کھوپڑیوں کا تو پتہ نہیں لیکن روانڈا والوں کی ڈھیروں کھوپڑیاں میں اکثر اوپر سے ٹوٹی ہوئی، پچکی ہوئی یا پھر دراڑ زدہ کیوں تھیں اس کا جواب آپ خود تلاش کر لیں یہ سب قریب اسی دور کی بات ہے جب پاکستان میں ایف ایم ریڈیو کا آغاز ہوا اور پرائیویٹ ٹی وی چینل شالیمار ٹیلی ویژن نیٹ ورک وغیرہ وجود میں آئے۔

روانڈا میں ہونے والا قتل عام سیاسی، نسلی بنیادوں کے ساتھ ساتھ ایک میڈیائی قتل عام تھا۔ انسانی تاریخ کی اس ہولناک ترین نسل کشی میں نا حق بہنے والے خون کی سرخی میں، میڈیا والوں کے قلم کی سیاہی اور آواز کا زہریلا پن شامل تھے۔ فسادات کے بعد اکثر برا ڈ کاسٹر وغیرہ تو ہمسایہ ملک بھاگ گئے لیکن تین مالکان کو پکڑ لیا گیا۔ ان میں سے دو کو عمر قید اور۔ ایک کو پنتیس سال قید سنا دی گئی۔ روانڈا میں اقوام متحدہ کی امن افواج کی کمانڈر نے کہا تھا کہ اس سانحے کے دوران ”اگر صرف نفرت پر مبنی نشریات کو بروقت جام کر دیا جاتا اور ان کی جگہ امن و مفاہمت کے پیغامات نشر کے جاتے تو حالات کا رخ موڑا جا سکتا تھا۔”

Facebook Comments HS