آٹا اور چینی بحران انکوائری: سابق سیکریٹری فوڈ نسیم صادق کو بدعنوانی کی نشاندہی پر ملوث کیا گیا
انگریزی اخبار کے صحافی فخر درانی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سابق فوڈ سیکریٹر پنجاب نسیم صادق نے انکوائری رپورٹ میں الزامات سامنے آنے پر چیف سیکریٹری کو اپنا تفصیلی جواب بھیج دیا ہے ، جس میں انہوں نے سسٹم پر نہایت سنجیدہ سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں کئی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی ہے ، ان کے بقول جان بوجھ کر آٹے بحران کا رخ گندم کی خریداری کی جانب موڑ ا گیا تاکہ مافیا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے گٹھ جوڑ کو بچایا جاسکے ۔
سابق سیکریٹری فوڈ نسیم صاد ق نے دعویٰ کیا ہے کہ مافیا گندم کی برآمد پر چھوٹ حاصل کر رہاہے جوکہ کبھی بھی بیرون ملک بھیجی ہی نہیں گئی جبکہ یہ تمام معاملہ کاغذوں تک ہی محدود رہا ، نسیم صادق کا یہی دعویٰ ان کے عہدے سے ہاتھ دھونے کا باعث بنا ۔
ان کا کہناتھا کہ کچھ غلط کاریاں ان کے علم میں آئیں جس کے بارے میں انہوں نے اپنے حکام کو آگاہ کیا تاہم اس جرم سے متعلق آگاہی دینا ان کو مہنگا پڑ گیا اور ان کا سیکریٹری فورڈ کے عہدے سے تبادلہ کر دیا گیا اور اسی مافیا نے راستہ نکالتے ہوئے ان کا نام اس رپورٹ میں شامل کروایا۔ آٹا بحران میں ملوث افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے گرد اڑائی گئی۔
نسیم صادق نے اپنے تفصیلی جواب میں سوالات اٹھائے ہیں کہ گندم کا سٹاک کس نے جاری کیا اور فلور ملز کو کوٹہ کس طرح دیا گیا جو کہ ان کے اضلاع کی آبادی کے متناسب نہیں تھا۔ تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے دن کے اجالے میں ہونے والے جرم کی آڈٹ ٹریل ڈھونڈنے کی بجائے خود کو ایک مخصوص حد تک محدود کر لیا جو کہ سٹریٹیجک طاقت کا ایک ذریعہ ثابت ہوا۔ نسیم صادق کا کہناتھا کہ 2019 اور 2020 کی گندم خریداری مہم کے اختتام ہونے کے فوری بعد کچھ غلط کاریاں میرے علم سے گزریں تھیں جو کہ میں نے حکام بالا کے گوش گزار کیں ۔
سینئر صحافی فخر درانی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ”اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی سرپرستی میں بزدار حکومت کیسے چینی کے علاوہ گندم/آٹا مافیا کی سرپرستی کررہی ہے۔اور آٹے کا بحران کیسے پیدا ہوا۔ تو صرف یہ دیکھیں کہ 18 جون کو فوڈ سیکرٹری نےگندم کی جعلی ایکسپورٹ کی نشاندہی کی اور 19 جون کو اس کا تبادلہ کر دیا۔“
فخر درانی کے مطابق صرف نسیم صادق کا تبادلہ ہی نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ اسکا نام خصوصی طور پر اس گندم/آٹا بحران میں شامل کیا جائے اور ساری ذمہ داری اسی پر ڈالی جائے حالانکہ وہ صرف 2 ماہ سیکرٹری رہا اور اس کے دور میں گندم کی خریداری صوبائی کابینہ کی ڈی گئی گائیڈ لائنز کے مطابق کی گئی۔“
ان کا کہناتھا کہ ”آٹے کا بحران 2019 کی آخری سہ ماہی سے شروع ہوا۔ اور اسکی وجہ پنجاب حکومت کی جانب سے کچھ فلورملز کو غیر معمولی کوٹہ جاری کرنا ہے۔ میڈیسن کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ، چینی کی قیمتوں میں 40 روپے تک اضافہ اور آٹے کے بحران سے لگتا ہے پاکستان میں مافیا کی حکومت آ گئی ہے۔


