جہانگیر ترین نے کہا، ’’میں یہ سوچ رہا ہوں اب عمران کیا کرے گا‘‘: منصور آفاق کا دعویٰ
روزنامہ جنگ میں منصور آفاق نے لکھا ہے کہ پختون خوا کے لوگ عمران خان اور پنجابی پٹھان جہانگیر ترین میں فاصلہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کل تک بنی گالا کے معاملات بھی جہانگیر ترین دیکھتے تھے۔ اب نئے لوگ آ گئے ہیں۔ جہانگیر ترین کے جانے بعد اسد عمر کے سوا کوئی اور پرانا دوست عمران خان کے قرب و جوار میں موجود نہیں۔
ایک روایت کے مطابق جہانگیر ترین سے کسی دوست نے پوچھا ’’اب آپ کیا کریں گے۔‘‘ تو انہوں نے جواب میں کہا۔ ’’میں یہ سوچ رہا ہوں اب عمران کیا کرے گا‘‘۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ عمران خان کی مخالف طاقتوں نے بھی جہانگیر ترین اور عمران خان میں فاصلے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک غیر ملکی ٹی وی نے کہا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اختلافات کورونا وائرس کے حفاظتی انتظامات پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
منصور آفاق کے مطابق، جہانگیر ترین پر لگائے گئے الزامات بالکل غلط ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکن بھی جہانگیر ترین کے خلاف اپنے لیڈر کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں، عمران خان پر دونوں طرف سے دبائو ہے۔
منصور آفاق نے ناملئے بغیر اعظم خان پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق اعظم خان اور جہانگیر ترین کے درمیان جھگڑا اُس دن ہوا جب جہانگیر ترین نے اسے کوئی کام کہا تو اُس نے جا کر عمران خان سے کہہ دیا کہ ’’پلیز مجھے بتائیے وزیر اعظم آپ ہیں یا جہانگیر ترین؟‘‘جس پر دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ اس وقت تو معاملہ عمران خان نے رفع دفع کرا دیا۔ جہانگیر ترین کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ بیورو کریٹ اس وقت تو خاموش ہو گیا تھا مگر رفتہ رفتہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ یہ بیورو کریٹ علی زیدی، مراد سعید اور فردوس عاشق اعوان کا بھی مخالف ہے۔


