کیا شوگر انکوائری کمیشن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شوگر انکوائری کمیشن پر بات کرنے سے پہلے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت دو طرح کی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کی وبا ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے اور دوسری جانب ایک مربوط حکمت عملی کا فقدان ہے جس سے نہ صرف کورونا وائرس بڑھ رہا ہے بلکہ دوسرے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے حوالے سے کافی پریشان کن اعداد و شمار پیش کر رہی ہے۔

حکومتی وزرا اگلے پندرہ دنوں میں مریضوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچنے کا دعویٰ کر رہے ہیں مگر دوسری جانب اس کے تدارک کے لئے کوئی ٹھوس عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ حکومتی وزرا آج بھی یہی بحث کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس غیر سنجیدگی کا یہ نقصان ہوا ہے کہ شہریوں نے اس خطرے کو لغو گوئی سمجھتے ہوئے بداحتیاطی شروع کر دی ہے۔ خدارا ابھی خطرناک مرحلہ آنے والا ہے اس لیے عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور گھروں میں بیٹھیں۔ غیرضروری طور پر باہر مت نکلیں۔

شوگر سکینڈل کی بات کی جائے تو اس کے دو فریق ہیں۔ پہلا فریق حکومتی عہدیدار ہیں جنہوں نے شوگر مافیا کو یہ سب کرنے کے لئے سازگار ماحول مہیا کیا اور دوسرا فریق شوگر ملیں ہیں جنہوں نے کھربوں روپے کا گھپلا کیا۔ شوگر انکوائری کمیشن کی لیک رپورٹ سے آمنے آنے والے حقائق اس بات کے متقاضی تھے کہ فرانزک تحقیقات میں ان اصل ذمہ داران کو بھی سامنے لایا جائے جنہوں نے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا مگر ذرائع کے حوالے سے دستیاب معلومات صرف چند شوگر ملوں کی تحقیقات کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔ فرانزک تحقیقات کا محور صرف ڈیلرز اور وہ شوگر ملیں ہیں جنہیں زیرعتاب لانا ہے۔ اس میں خسرو بختیار کے بھائی کی مل شامل نہیں۔ وجہ یہ لگتی ہے کہ خسرو بختیار کے بھائی کے ساتھ سپیکر پنجاب اسمبلی کے فرزند ارجمند بھی شریک ہیں اور صوبہ محاذ کے بھی وہ اہم رکن ہیں۔

واجد ضیا کی سربراہی میں بنے کمیشن کی فرانزک تحقیقات کی بات کریں تو مزید حیرانی ہوتی ہے۔ کمیشن یہ تحقیقات تو کر رہا ہے کہ آیا شوگر برآمد ہوئی تھی یا نہیں مگر یہ تحقیقات نہیں ہو رہی کہ 2017 سے بند سبسڈی دینے کی دوبارہ اجازت کس نے دی اور کیوں دی۔ بینکوں سے ٹرانزیکشنز، شوگر ملوں اور ڈیلروں کے مابین ہونے والے سودوں کی تحقیقات تو کی جا رہی ہیں مگر کابینہ اجلاس کے منٹس کا جائزہ نہیں لیا جا رہا کہ کیسے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر خوراک نے پوری کابینہ سے بظاہر دستاویز کو چھپا کر آناً فاناً فیصلہ کروایا۔

آخر کس کے احکامات پر وزیر اعلی بزدار نے اپنے ہی سیکرٹری خزانہ کی رائے کو نظرانداز کر کے بہاولپور میں ہونے والی کابینہ میٹنگ میں یہ معاملہ شامل کروایا جو کہ پہلے ایجنڈا میں شامل ہی نہیں تھا۔ انکوائری کمیشن کو یہ دلچسپی تو ہے کہ کیسے ڈرائیورز، چپڑاسیوں اور سکیورٹی گارڈز کے نام پر بے نامی چینی کاروبار کیا جاتا ہے مگر یہ دلچسپی نہیں کہ اگر وفاقی سیکرٹری تجارت نے بھی سبسڈی دینے کی مخالفت کی تھی تو کس نے گنے کی نئی کرشنگ شروع کرنے کے نام پر صوبوں کو غیر واضح منٹس دیے اور کیوں صرف پنجاب نے ہی سبسڈی دی جبکہ صوبہ سندھ نے اپنی شوگر ملوں کو سبسڈی نہیں دی۔

انکوائری کمیشن کی فرانزک تحقیقات جس سمت جا رہی ہیں وہ واضح اشارہ ہے کہ اصل ذمہ داروں کو بچایا جائے گا۔ تحقیقات کے آغاز میں ہی تمام شوگر ملوں کی بجائے صرف چند مخصوص ملوں کے آڈٹ نے تحقیقات کو مشکوک بنا دیا ہے۔ انکوائری کمیشن کے سربراہ واجد ضیا اس سے پہلے پانامہ جے آئی ٹی کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ وہ رپورٹ آج بھی تنازعات کا شکار ہے۔ اگر اس رپورٹ میں بھی حقائق سے روگردانی کی گئی تو ان کی ساکھ مزید مجروح ہو گی۔

کمیشن جب تک حکومتی ذمہ داروں کو طلب نہیں کرے گا اس وقت تک تحقیقات مکمل نہیں ہوں گی۔ فرانزک رپورٹ میں صرف چند شوگر ملوں کے بے نامی اکاؤنٹس یا صرف عثمان بزدار کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں ہو گا۔ تحقیقات میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے تصویر کے دونوں رخ دیکھنے بہت ضروری ہیں۔ اسلام آباد سے جو شخص بھی عثمان بزدار کو احکامات دیتا ہے اس کی نشاندہی کے بغیر تحقیقات بے معنی ہوں گی۔

گزشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ لوٹ مار کے اس کھیل میں وفاقی کابینہ، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ملی بھگت بھی شامل ہے اور عثمان بزدار کا متنازعہ کردار بھی کھل کر سامنے آیا ہے۔ دستازیزی ثبوت موجود ہیں کہ کس کس سیکرٹری نے مخالفت کی اور کس کس وزیر نے حمایت کی۔ بظاہر 3 ارب کی سبسڈی معاملہ 300 ارب سے بھی زیادہ پر پھیلتا نظر آ رہا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی سربراہی مشیر خزانہ حفیظ شیخ کرتے ہیں اور شوگر ایڈوائزری بورڈ کی میٹنگز مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی زیرصدارت ہوتی ہیں۔ پنجاب میں عثمان بزدار کا متنازعہ کردار بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ عمران خان کا اپنا ویڈیو بیان موجود ہے جس میں وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ اگر کسی فیصلے کی انھیں سمجھ نہ آ رہی ہو تو وہ کسی پرائیویٹ ماہر سے بھی اس پر رائے لیتے ہیں مگر سارے فیصلوں کی منظوری وہ خود دیتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق ابھی تک کوئی واضح نام تو سامنے نہیں آیا مگر میری رائے میں یہی حقیقت ہے کہ عثمان بزدار احکامات صرف وزیراعظم عمران خان سے ہی لیتے ہیں۔

انکوائری کمیشن کی لیک رپورٹ آنے کے بعد جن افراد کی اکھاڑ پچھاڑ اور برطرفیاں جناب وزیراعظم نے شروع کی تھیں وہ تمام اپنے عہدوں پر واپس پہنچ چکے ہیں۔ جہانگیر ترین کے قریب سمجھے جانے والے شہزاد ارباب کی واپسی کے بعد جہانگیر ترین کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات کی امید ختم ہو چکی ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ اس سکینڈل سے اربوں روپے کمانے والوں میں مخدوموں اور دریشکوں سمیت صوبہ محاذ کے وہ تمام لوگ شامل ہیں جو الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا طوق اٹھائے ہوئے تھے۔ درحقیقت یہ لوگ عوام کو محرومیوں سے نجات دلانے کی بجائے انھیں مزید طوقِ غلامی میں جکڑنے کے خواہشمند ہیں۔

اس سکینڈل سے توجہ ہٹانے کے لئے قرضہ کمیشن کی رپورٹ کو بھی ساتھ ہی ریلیز کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ قرضہ کمیشن کی رپورٹ ضرور سامنے آنی چاہیے مگر اس سکینڈل کے ذمہ داران بھی سامنے لائے جائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ ”مسٹر کلین اس ناٹ کلین“۔
(Mr Clean is not Clean)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *