میں مشعال ہوں
تین سال پہلے آج کے دن عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علم مشعال خان کو پرتشدد ہجوم نے توہین مذہب کے جھوٹے الزام کو بنیاد بنا کر اس بیدردی سے مارا تھا کہ اس کے بوڑھے باپ اقبال لالہ کو اس کے ہاتھ کی سب انگلیاں ٹوٹی ہوئی ملی تھیں۔ مشعال خان کا قصور سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ جہالت اور مطلب پرستی کے اس سماج میں اس نے سوچنے اور سوال کرنے کی جرات کرلی تھی۔ وہ با شعور ہو گیا تھا اور اپنا شعور اپنے ساتھی طالب علموں میں بھی منتقل کررہا تھا۔
اس نے اپنی یونورسٹی کے طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا جرم کرلیا تھا۔ جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے وہاں کے مذہبی تنظیم کے طلبہ کو ساتھ ملایا اور اس پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا دیا گیا۔ جسے بعد کی جے آئی ٹی کی رپورٹ نے بھی جھوٹا ہی قرار دیا۔ عام طور پر جب یہاں توہین مذہب کا الزام لگتا ہے تو اس پر توہین مذہب کے آرٹیکل 245 سی کے تحت مقدمہ درج کروایا جاتا ہے۔ اور اس شخص کو بغیر کوئی تحقیق کیے جیل میں بند کردیا جاتا ہے اور اس ساری عمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی بے گناہی ثابت کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ مگر پھر بھی اس کو اس کی خلاصی نہیں ہوپاتی۔
بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے پروفیسر جنید حفیظ کی مثال موجود ہے۔ اس پر بھی اسی طرح توہین مذہب کا جھوٹا مقدمہ بنوایا گیا۔ اس کا قصور بھی صرف اتنا تھا کہ وہ بھی طلبہ میں شعور بانٹتا تھا۔ اور ابھی بھی سات سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے۔ اس کے کیس سننے والے ایک قابل اور خدا ترس وکیل راشد رحمان کو بھی انہی انتہا پرست عناصر نے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اور اب جنید کا کیس لینے کے لیے کوئی وکیل تیار نہیں ہے۔
آسیہ مسیح کے ساتھ بھی یہی کیا گیا۔ جس کی حمایت کرنے پر ایک صوبے کے گورنر سلمان تاثیر اور ایک وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان کا قصور بھی یہی تھا کہ وہ عقل کے اندھے اس سماج میں شعور کی بات کررہے تھے کہ اگر ایک قانون کا غلط استعمال کر کے بے گناہ لوگوں کو پھنسا دیا جاتا ہے تو اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ آسیہ مسیح اس لحاظ سے خوش قسمت رہی کہ سپریم کورٹ نے اس کیس کا تفصیلی جائزہ لے کر بیگناہ قرار دیا اور باعزت بری کردیا گیا۔ اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور بنچ کے دیگر ججوں نے بھی وہی ریمارکس دیے جو سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کہہ رہے تھے۔
اگر سپریم کورٹ آسیہ مسیح کا کیس نہ لیتی تو وہ بھی جنید حفیظ کی طرح ابھی بھی جیل میں بند ہوتی۔ اب بھی وہ باہر کے ملک رہنے پر صرف اس لیے مجبور ہوئی کہ یہاں پر اس کی زندگی بالکل محفوظ نہیں تھی۔ جنید حفیظ کے لیے بھی کئی بار سپریم کورٹ سے استدعا کی جاچکی ہے کہ اس کے کیس پر از خود نوٹس لے کر اس کو رہائی دلائی جاسکے۔ مگر ابھی تک اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ جو کہ افسوس ناک ہے۔ کیونکہ اس کے پاس اب صرف یہی واحد امید ہے جس سے اس کو رہائی ملنے کا امکان ہے۔
مگر مشعال خان کا جرم شاید ان سب سے بڑا تھا کہ اس کو جیل بھیجنے کی بجائے جاہل اور مفاد پرست ٹولے نے خود سے ہی اسے سزا دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کو ہاسٹل کے کمرے سے گھسیٹ کر نکالا گیا۔ اور اس پر اتنا تشدد کیا گیا۔ کہ خون میں لت پت ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ اس نے اپنی جان دے دی۔ اور ستم ظریفی یہ کہ وہاں پر موجود کئی طلبہ یہ سب دیکھتے رہے۔ اس بیہیمانہ ظلم میں ملوث 57 مجرموں کو رہا کردیا گیا۔ اور تو اور پچھلے سال 29 نومبر کو لاہور کے مال روڈ پر طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کرنے اور وہاں اپنے سچے جذبات کا اظہار کرنے پر مشعال کے والد اقبال لالہ پر بھی ریاست سے غداری کا مقدمہ درج کردیا گیا۔
جب مذہب کے نام پر ایک ریاست کی بنیاد رکھی جائے گی تو اس ریاست میں ایسے ہی مذہب کو ڈھال بنا کرکبھی بے گناہ لوگوں پر ظلم کیا جائے گا۔ کبھی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شعور کی آواز دبائی جائے گی۔ اور اس سب میں ریاست بے بس ہو کر ان ظلم کرنے والے اور جہالت کا مظاہرہ کرنے والے گروہوں کا ساتھ دینے پر اور ان کے ہاتھوں مجبور ہوتی نظر آئے گی۔ اس کی ایک تازہ مثال سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ”زندگی تماشا“ پر مذہبی حلقوں کے دباؤ کی وجہ سے پابندی لگنا شامل ہے۔
اس لیے مجھے ریاست سے اس ضمن میں کوئی امید نہیں ہے۔ بس مشعال اور اس جیسے نوجوان ہی امید ہیں۔ جہالت کے پیروکاروں نے اس کو بیدری سے مار کر اگر یہ سمجھ لیا ہے کہ بس اب یہاں شعور کی بات کوئی نہیں کرے گا تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ کیونکہ مشعال نے اپنے خون سے جو مشعال جلائی ہے۔ اس کی روشنی مجھ جیسے کئی افراد کے سینوں میں جلتی رہی گی۔ اور شعورکا یہ سفر بھی ایسے ہی چلتا رہے گا کیونکہ
مجھ سے ڈر گئے ہو تم
تم سے میں ڈرا نہیں
کب کے مر گئے ہو تم
میں ابھی مرا نہیں
تم وہم، میں یقین ہوں
میں علم کا امین ہوں
میں انقلابِ وقت ہوں
میں زیست کی مثال ہوں
میں زندگی ہوں زندگی
میں موت کا زوال ہوں
میں۔ مشعال ہوں



