کرونا: طلاق، گھریلو تشدد اور خود کشی کے بڑھتے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اطلاعات ہیں کہ چین، امریکہ، برطانیہ، ترکی اور دیگر ممالک میں لاک ڈاون کی وجہ سے طلاق کی شرح میں نہایت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ میاں، بیوی ایک ساتھ گھر پر معمول سے کہیں زیادہ وقت گزارتے گزارتے اکتا گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طلاق کی شرح مزید بڑھے گی۔ کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں خواتین اور بچوں پر گھریلو تشدد کے واقعات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

اسی طرح خود کشی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ برسوں سے ہم ایسی علمی اور سائنسی تحقیقات پڑھ رہے ہیں جو بتاتی ہیں کہ خودکشی کا سب سے زیادہ رجحان بے روزگار افراد میں پایا جاتا ہے۔ اب اگر یہ وبائی صورت حال مزید برقرار رہتی ہے، تو دنیا بھر میں بے روزگاری بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں خودکشی کے واقعات میں بھی تیزی آئے گی۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ہم سیاست میں الجھے بیٹھے ہیں، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک (بشمول بھارت) کرونا کی صورتحال سے جڑے ان سماجی، ذہنی، اور نفسیاتی پہلووں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ یقینا ان جائزوں کے بعد، حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

پاکستان میں بھی کرونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کے سماجی، نفسیاتی اور معاشی پہلو وں پر نظر ڈالنا بے حد ضروری ہے۔ پاکستان ایسے ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں خاندانی نظام آج بھی بہت مضبوط ہے۔ والدین، ان کے شادی شدہ بچے، پوتے پوتیاں، بھائی بہنیں، بیشتر ایک ہی گھر کے اندر مقیم ہوتے ہیں۔ ایسا سال ہا سال بعد، یا غالبا صدیوں بعد ہو رہا ہے کہ تمام لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں محدود رہنے اور معاشرتی رابطوں سے مکمل گریز کا کہا جا رہا ہے۔

اس وقت دفتروں یا کام کاج کو جانے والے مرد بھی گھروں میں ہیں اور ملازمت پیشہ خواتین بھی۔ یونیورسٹیوں کو جانے والے نوجوان بھی گھروں میں مقید ہیں اورسکولوں کو جانے والے ننھے منے بچے بھی۔ گویا یوں کہہ لیجیے کہ ہر گھر اپنے مکینوں سے اٹا پڑا ہے اور ایسا پہلی بار ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نئے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ گھر کے اندر کی تقسیم کار پر جھگڑے ہونے لگے ہیں۔ چونکہ سارا وقت گھر پر گزرتا ہے اس لئے ہنسی مذاق اور خوش مزاجی کے دورانیے تھوڑی دیر بعد ختم ہو جاتے ہیں۔

یکسانیت اور گھٹن اعصاب پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ حساسیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بات بات پر خون کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔ توتکار اور لڑائی جھگڑا اس طرح کی گھٹن کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ جوں جوں گھروں کی قید کا یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے توں توں جذبات کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین پر گھریلو تشدد بڑھنے لگا ہے اور نا چاقیاں پیدا ہونے لگی ہیں۔ مجھے اپنے حلقہ تعارف کے کچھ لوگوں کا علم ہے جہاں اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی اور بال بچوں والی خواتین اپنے میکے آ بیٹھیں۔ اب تو نوبت طلاق تک بھی جا پہنچی ہے۔

ہمارے ہاں ایک چوتھائی سے زیادہ افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی تعداد کم وبیش ساڑھے پانچ کروڑ ہے۔ ان میں سے بیشتر دیہاڑی دار لوگ ہیں۔ کچھ تو فیکٹریوں، ملوں، دکانوں، سٹوروں اور دفتروں میں چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔ کوئی پلمبر، بجلی کا کام کرنے والا، درزی، ویلڈر، مستری، یا مزدور ہے۔ یہ سب لوگ اب گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو سارا سارا دن مختلف گھروں میں صفائیاں کرتی، برتن ماجھتی، یا کپڑے دھوتی ہیں۔

لوگوں نے کرونا کے خوف سے انہیں بھی فارغ کر دیا ہے۔ ایسے گھروں میں سب سے بڑ ا مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ گھر کا چولہا کیسے جلے؟ کھانے کو کہاں سے آئے؟ نہ مرد اس قابل رہا، نہ عورت۔ سو کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے ان پڑھ یا نیم خواندہ گھروں میں لڑائی جھگڑے نہیں ہوں گے ۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ بھوک، تہذیب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی۔ تو یہی کیفیت اب لاکھوں گھرانوں کے اندر پیدا ہو چکی ہے۔ حکومت کی طرف سے دی جانے والی، تین چار ہزار روپے ماہانہ یا یک مشت بارہ ہزار روپے کی امداد، اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ہفتہ دس دن، یا ایک آدھ مہینہ سہولت سے کٹ جائے۔

یہ معاملہ صرف دیہاڑی داروں تک محدود نہیں رہا، بڑی فیکٹریوں، کارخانوں اور کاروباری طبقے نے بھی ہزاروں ملازمین کو فارغ کر دیا ہے اور وہ گھروں میں آ بیٹھے ہیں۔ اسی طرح کے حالات سمندر پار کے ممالک میں بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ صرف متحدہ عرب امارات میں دس ہزار پاکستانی اپنی ملازمتیں گنوا بیٹھے ہیں۔ یہی حال سعودی عرب کا ہے جہاں سے پاکستانیوں کا نہایت تیزی سے انخلا ہو رہا ہے۔ اس سے پاکستانی گھرانوں پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔ نہ صرف ان کی آمدنی کا ایک معقول ذریعہ ختم ہو گیا ہے، بلکہ گھر بیٹھے بے روزگاروں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی بھاری قیمت ملک کو بھی ادا کرنا پڑے گی جو آنے والے مہینوں اور سالوں میں زر مبادلہ کی کمی کا شکار ہو گا۔

حکومت سے یہ توقع رکھنا بے کار ہے کہ وہ اتنے وسیع پیمانے میں گھروں میں ٹوٹنے والی آفت کا مقابلہ کرئے گی۔ اس کے پاس نہ وسائل ہیں، نہ اہلیت۔ یہ کام معاشرے کوخود ہی کرنا ہو گا۔ اور اس میں جو جتنی بھی استعداد کار رکھتا ہے اسے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والی نادار عورتوں کو اگر ہم نے کرونا کے خوف سے کام چھڑا دیا ہے، لیکن ہم ان کی کفالت تو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے ان کامو ں کے لئے پندرہ بیس ہزار کا بجٹ رکھا ہوا تھا تو چلیں اب آٹھ، دس ہزار روپے ہی وقف کر دیں۔ لیکن انہیں بے بس و لاچار تو نہ چھوڑیں۔ یہی کچھ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو بھی کرنا چاہیے بشرطیکہ ان کے سینے میں دل ہو۔

ڈاکٹر حضرات، علمائے کرام، اینکرز، دانشور سب کرونا کے سیاسی اور طبی پہلووں پر مرکوز ہیں۔ میرے خیال میں ذہنی اور نفسیاتی عوامل کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر بھرپور توجہ دینا ہو گی کہ ہم گھروں کے اندر موجود مخصوص حالات میں کس طرح افراد خانہ، خواہ وہ مرد ہیں یا خواتین، کے ذہنی اور جذباتی درجہ حرارت کو کم سے کم رکھنے کے لئے ذرائع ابلاغ کو کام میں لائیں۔ اس حوالے سے گلی محلے کے بزرگوں کو بھی شاید کوئی کردارنبھانا پڑے۔ ورنہ کرونا تو گزر جائے گا، ٹوٹے خاندان شاید نہ جڑ پائیں۔

1122 ریسکیو سروس اور سینٹری ورکرز : گزشتہ کالم میں کرونا صورتحال کے ہنگام شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کچھ اہم کرداروں کا ذکر کیا تھا۔ اس ضمن میں بہت سے پیغامات موصول ہوئے۔ ایک پیغام عبدلقیوم نعیمی صاحب کا بھی ملا۔ آپ پاکپتن میں ریسکیو سروس 1122 کے ساتھ بطور ریسکیو افسر منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کالم میں ریسکیو سروس کی کارکردگی کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے تھا، کیونکہ جہاں بھی کرونا کے مریض کی اطلاع موصول ہوتی ہے، سب سے پہلے ریسکیو کا عملہ ریسپانس کرتا ہے، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی باری بعد میں آتی ہے۔

اس میں واقعتا کوئی دو رائے نہیں کہ اس ریسکیو سروس اور اس کے عملے کا کردار ہمیشہ انتہائی مثبت رہا ہے۔ معمول کے ہنگامی واقعات کے کے ساتھ ساتھ، ہر طرح کی قدرتی آفات میں بھی اس ادارے نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ موجودہ وبائی صورتحال میں بھی اس کا عملہ پوری مستعدی سے سرگرم عمل ہے۔ ریسکیو سروس، اس کے افسران اور دیگر عملے کی کارکردگی کو بھی سراہا جانا چاہیے۔

ایک اور شعبہ اور اس کے ساتھ منسلک افراد کا ذکر بھی ضروری ہے۔ میری جیمز گل نے اس جانب توجہ دلائی ہے۔ ایڈوکیٹ میری گل سابق رکن پنجا ب اسمبلی ہیں۔ وہ کافی عرصہ سے سینیٹری ورکرز (Sanitary workers) کے حق میں مہم چلا رہی ہیں۔ انہوں نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ دیگر شعبہ جات کے ساتھ ساتھ اس شعبے کے کارکنان کی بھی تحسین ہونی چاہیے جو ہمارے گلی، محلے، اور گٹر صاف کرتے ہیں۔ میری کا کہنا سو فیصد درست ہے۔ اس وبائی صورتحال میں ہمیں ہر وقت صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی تاکید سننے کو مل رہی ہے۔

قابل غور بات ہے کہ اگر سینٹری ورکرز ہمارے علاقہ کی صفائی نہ کریں تو ہمار ی ساری تدابیر، ساری احتیاطیں اور سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ محض سڑکیں اور گلیاں ہی نہیں، ہسپتال، قرنطینہ مراکز اور دیگر جگہوں کی صفائی بھی انہی کارکنان کی مرہون منت ہے۔ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ کارکنان (workers) عوام الناس کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔ ان افراد کی تعریف ہونی چاہیے اور عزت و احترام بھی۔ میری کا کہنا بجا ہے کہ Sweepers are super heros

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *