انمول ثقافتی ورثہ: کلہوڑہ، تالپور اور میروں کے قُبّے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک زمانے میں حیدرآباد سندھ میں جب کینٹونمنٹ کی طرف سے ہیرآباد کے لیے پہاڑی پر چڑھتے تھے تو ایک میدان آتا تھا جس میں میروں کے مقبرے تھے جنہیں قُبے کہتے ہیں۔ میرے ناول، اے تحیر عشق میں بلال اور اس کی کزن روبینہ کے رومان کی ابتدا اسی میدان میں میروں کے قُبّوں کے برابر سے گزرتے ہوئے ہوئی تھی۔ ان مقبروں کے اندر کی دیواریں مینا کاری اور خطاطی کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہیں اور جا بجا قرآنی آیات اور دعاوں سے مزیّن ہیں۔

مجھے حیدر آباد چھوڑے ہوئے پچاس برس سے زیادہ گزر گئے۔ اُس زمانے میں ان مقبروں کی حالت نہایت خستہ تھی۔ گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں ان میں کتے سوتے تھے یا پھر شام کو منشیات کے عادی اپنا نشہ پتّا کرنے کے لیے ان مقبروں کو استعمال کرتے تھے۔ جب گرمیوں میں لو کے جھکڑ چلتے تھے تو ان کے ساتھ اڑنے والی مٹی نے ان عمارتوں کے اندر مٹیالے رنگ کی تہہ چڑھا دی تھی۔

یہ مقبرے پورے سندھ میں بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے مکینوں کی اپنی تاریخ ہے۔ اٹھارویں صدی میں 1701 سے 1783 تک سندھ میں کلہوڑوں کی حکومت تھی۔ ان میں سب سے مشہور حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو تھے جنہوں نے 1763 میں حیدرآباد سندھ تعمیر کرکے اپنا دارالخلافہ وہاں منتقل کیا اور حیدر آباد کو مہران کا دل کہا۔ کلہوڑوں سے ہمیشہ ان بلوچ قبائل کا جھگڑا رہتا تھا جوسندھ میں صدیوں سے آباد تھے۔ ان میں سے ایک قبیلہ تالپوروں کا تھا جو ڈیرہ غازی خان میں آباد تھا مگر وہ ان جھگڑوں میں نہیں پڑتے تھے۔

کلہوڑوں نے تالپوروں کو دعوت دی کہ اگر وہ جنوبی سندھ میں آکر آباد ہوجائیں تو انہیں خصوصی مراعات دی جائیں گی بشرطیکہ کہ وہ سندھ میں بسنے والے بلوچ قبائل کو قابو میں رکھیں۔ چناں چہ تالپور جنوبی سندھ میں آکر بس گئے اورانہوں نے سندھی بود وباش اپنا لی، مگران کی جذباتی وابستگی بلوچوں کے ساتھ ہی رہی۔ کلہوڑوں کا آخری حکمران عبداللہ نبی کلہوڑو تھا۔ 1779 میں بلوچ قبائل نے بغاوت کردی جس کی سربراہی تالپورکررہے تھے۔

انہوں نے کلہوڑوں کو نکال باہر کیا اور اس طرح میر فتح علی خان تالپور کی حکومت قائم ہوئی۔ عبداللہ نبی کلہوڑو بھاگ کر قندھار پہنچ گیا جہاں اس نے وہاں کے امیر سے مدد طلب کی اور اس سے مل کر 1782 میں سندھ پر حملہ کیا مگر تالپوروں نے دوبارہ شکست دے کر بھگا دیا۔ تالپور دراصل بلوچی پٹھان تھے اور میر کے لقب سے بلائے جاتے تھے۔ ان کا دور تعلیم وثقافت کا دور تھا جس کی یاد یہ مقبرے دلاتے ہیں۔

تالپوروں نے 1843 تک سندھ پر حکومت کی۔ کہتے ہیں کہ چارلس نیپیئر نے تالپوروں کو سندھ پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دیں اور اس وقت کے حکمران میر ناصر خان تالپور سے معاہدہ کر کے بے جا مراعات حاصل کرلیں۔ جب نیپیئر معاہدہ کرکے واپس لوٹا تو اس کی نیت میں فطور آگیا اور اس کی فوجوں نے پلٹ کر اچانک حیدرآباد پر حملہ کردیا۔ ایک روایت کے مطابق انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے تالپوروں سے اجازت مانگی تھی کہ ان کی فوجوں کو سندھ سے گزرنے دیا جائے۔

انگریزوں کے تالپوروں سے کبھی اچھے تعلقات نہیں رہے تھے مگر انہوں نے بڑے تردد کے ساتھ اجازت دے دی۔ انگریزوں کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی اور جب ان کی شکست خوردہ افواج واپس پلٹیں تو انگریزوں نے اپنی جھینپ مٹانے کے لیے نیپیئر کو بھیجا کہ تالپوروں کی گوشمالی کردے حال آں کہ اس کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔ اس نے جھلاہٹ میں سندھ پر قبضہ ہی کرلیا۔ لندن میں اس کی اس حرکت پر بڑی لے دے ہوئی کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی مگر چونکہ سندھ انگریزوں کے ہاتھ آہی گیا تھا لہٰذا واپس کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

اس بار جب میں 55 سال کے بعد میروں کے قبوں کی زیارت کو گیا تو یہ دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی کہ اس میدان کا کوئی وجود نہیں رہا جس میں وہ مقبرے تھے کیوں کہ اب وہاں تجاوزات نے انہیں چاروں طرف سے گھیرلیا ہے۔ میرے ساتھ اسکول کے زمانے کے دو دوست، افضل لودھی اور سید شوکت علی تھے۔ ہم تینوں اس علاقے میں تنگ گلیوں میں گھومتے رہے جہاں کسی زمانے میں میدان ہوتا تھا۔ بیشتر لوگوں کو ان قبوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ آخر ایک صاحب نے راستہ بتایا اور ہم گلی در گلی ہوتے ہوئے اچانک ایک اونچی سی دیوار کے سامنے کھڑے تھے جس کے پیچھے وہ مقبرے نظر آرہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ اگر ہم دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے رہیں تو گیٹ تک پہنچ جائیں گے۔

جب ہم گیٹ سے گزر کر اندر پہنچے تو یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ ان مقبروں کی مرمت کررہے ہیں۔ ایک صاحب جو ایک مقبرے کے پاس میز کرسی لگائے بیٹھے تھے، ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ کوئی شاذ و نادر ہی وہاں آتا ہے۔ ان کا نام عبدالحق بھنبرو ہے اور وہ سندھ میوزیم کے مہتمم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان قبوں کو اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے کہیں سے فنڈز ملے ہیں چناں چہ اس پرکام کرنے کے لیے انہیں پروجیکٹ منیجر مقرر کیا گیا ہے۔ بھنبرو صاحب ماہر آثار قدیمہ ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے والد کی لکھی ہوئی ایک ضخیم کتاب (Indus Script) بھی پیش کی۔ ان کے والد عطا محمد بھنبرو سندھ کے مشہور ماہر بشریات و آثار قدیمہ ہیں۔ اس کتاب کا موضوع موئن جو دڑو کا رسم الخط ہے۔

عبدالحق صاحب نے بتایا کہ ان مقبروں کے گرد دیوار بڑی جلدی میں بنائی گئی کیوں کہ جس تیزی سے وہاں تجاوزات بڑھتی چلی آرہی تھیں اس سے معلوم ہوتا تھا کہ لوگ مقبروں کے اندر بھی رہنا شروع کردیں گے۔ اب یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے متبادل رہائش فراہم کرے کیوں کہ میروں کے قبے تاریخی عمارتیں ہیں اور ان کے اردگرد کی زمین کو اس کی اصلی حالت میں لانا ضروری ہے۔ امید ہے کہ جب میں اگلی بار حیدرآباد سندھ جاؤں گا تو وہ میدان جوں کا توں ہوگا جس میں بلال اور روبینہ کے عشق کی ابتدا ہوئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *