کراچی سے بیجنگ اور بیجنگ سے کراچی کا پہلا سفر


پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں ایک قانونی پریکٹس کے بعد ملازمت کر رہا تھا۔ زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی۔ مجھے زندگی میں ہمیشہ ہی آگے بڑھنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے۔ یہ سال 2015 کی بات ہے کہ ایک دن میں نے اپنے ایک دوست کی فیس بُک ٹائم لائن پر ان کے چین جانے کے لیے سفر کا سٹیٹس دیکھا۔ مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہمیشہ ہی رہا ہے۔ بس پھر کیا تھا میں نے اپنے دوست سے راہنمائی لی اور چین کی یونیورسٹیز میں قانون کے مضمون میں ماسٹر کی ڈگری کے لیے داخلے کے لیے سکالرشپ پر ایپلائی کرنا شروع کر دیا۔

پھر ایک دن انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے میری محنت رنگ لائی جب بیجنگ کی ایک یونیورسٹی سے مبارک باد کا پیغام موصول ہوا کہ چین کی حکومت کی طرف سے آپ کو اسکالرشپ دیا گیا ہے۔ بس پھر کیا تھا ایسے محسوس ہو رہا تھا کے اس سے آگے کوئی خوشیوں بھری دنیا ہو ہی نہیں سکتی۔ میرے دوست آصف وگن جو پہلے سے چین میں PhD سکالر تھے ان کو بتایا کیوں کہ انہوں نے مجھے ہر مرحلے پر بہت گائیڈ کیا تھا تو پہلے ان کو ہی بتانا گوارا سمجھا پھر کیا ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھی انہوں نے ہی بوک کرنے کی خوشخبری سنادی ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کے ہاں بھی خوشی کی کوئی حد ہی نہ تھی۔

آصف وگن صاحب میرے بہت پیارے دوست ہی نہیں بلکہ میرا حوصلہ بھی تھے جنہوں نے میری ہر مرحلے پر راہنمائی کی۔ یوں میں 3 ستمبر کو خوشی اور خوف کے کشمش کے عالم میں جناح ایرپورٹ کراچی پہنچا، خوشی اس بات کی تھی کہ کہ قانون کی تحقیق کے لیے بیرون ملک جانے کے لیے اللہ نے موقع فراہم کیا ہے آگے کی کامیاب زندگی کے تو ایسے ہی خیالات تھے جیسے انسان آسمان کو دیکھتا ہی رہتا ہے آنکھیں زیادہ دیکھنے کے لیے جواب دے جاتی ہیں مگر قدرت کے چاند ستاروں کو دیکھنے سے دل نہیں بھرتا۔ کولمبو سے ہوتے ہوئے بیجنگ ایرپورٹ پر لینڈ کرنے سے پہلے کا آسمانی منظر بھی بہت دلکش تھا۔ خوشی کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی اللہ کا شکرادا کر رہا تھا کہ اے میرے مالک تم بیشک بہت بڑے مہربان ہو دنیا کے کیسے نظارے کروا رہے ہو۔

ہمارا طیارہ جب لینڈ کرگیا تو جہاز کے عملے کی طرف سے وقت اور موسم کا حال بتایا گیا۔ جہاز سے اتر کر جب امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچنے تو دل کی دھڑکن کا کوئی بھی اندازا نہیں تھا کہ اس کے دھڑکنے کی رفتار کیا تھی۔ کچھ سوالات کے بعد آخر کار میرے پاسپورٹ پہ لگے ہوئے ویزا پر بڑی لائن سے مارک کر کے پاسپورٹ واپس کیا اور جانے کی اجازت دے دی گئی میں اس لکیر کی سوچوں میں پڑ گیا کے اس نے ایسا کیوں کیا کہیں ایسے تو نہیں کے میرے ویزا میں کوئی مسئلہ ہو اور مجھے واپس پاکستان واپس ہی بھیج دیا ان سوچوں میں ایسے گم ہوگیا کہ پتا ہی نہیں چلا کس ٹائم بیگ ملا اور میں ایرپورٹ سے باہر بھی آگیا۔

اصل مشکل اور مصیبت تو اب شروع ہونی تھی نہ مجھے چینی زبان آ رہی تھی نہ چینیوں کو میری انگریزی سمجھ آ رہی تھی۔ تیز ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ موسم بہت ٹھنڈا تھا۔ میں پاکستان کے گرم موسم سے ڈائریکٹ ٹھنڈے موسم میں آ ٹپکا تو جو تھوڑا بہت سوچنے کا حوصلہ تھا وہ تو وہیں پر ہی چوپٹ ہوگیا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور نے اللہ اللہ کر کے آخر کار 300 Yuan کا فرمان جاری کیا۔ چونکہ میرے دوست نے مجھے بتایا تھا کہ رات کے 11 کے بعد بیجنگ میں ٹیکسی کے کرائے عام وقت کے کراؤں سے تھوڑے زیادہ ہوتے ہیں البتہ ان کے میٹر ایسے نہیں ہوتے ہیں جیسے کراچی کی پیلی ٹیکسی کی ڈرائیور مجھ جیسے بھولی طبعیت کے لوگوں سے اکثر زیادہ ہی کرایا لے جاتے ہیں۔

جیسے کہ میں اپنا ذہن بنا کر آیا تھا کے مجھے ایرپورٹ سے اپنی یونیورسٹی تک 50 Yuan سے زیادہ نہیں اڑانے۔ پھر کیا ہوا کے میری نظر روڈ کے اس پار بسز پر پڑی جن پر چینیوں کی بہت بڑی تعداد چڑھ رہی تھی بس پھر میں بھی اس طرف اپنے بیگ کے ساتھ چل پڑا۔ چونکہ مجھے آصف وگن نے مجھے بہت اچھا گائیڈ کر دیا تھا کہ ایرپورٹ سے یونیورسٹی تک کیا مشکلات درپیش آ سکتی ہیں اور کیسے ان کو حل کیا جاسکتا ہے۔ ویزا پر لگائی گئی اس لکیر کی پریشانی میں وہ سفر کی آگاہی کا جو کتاب یونیورسٹی نے بھیجا تھا وہ بھی میں بھول چکا تھا کہ اس کی بھی مدد درکار ہوگی آخرکار جب دوسری مصیبت سر پہ آئی تو پہلی بھول ہی گئی۔ میری نظر اس موٹی خوبصورت آنٹی پر پڑی جس کی عمر کا اندازہ لگانا میرے لیے مشکل تھا اور نا ہی میرا یہ کام تھا ویسے بھی چین میں عورتوں کی عمر کا اندازہ لگانا مجھ جیسے فقیر طبعیت انسان کے لیے بہت ہی مشکل کام ہے۔

اس بسز کی سپروائیز ر کو اچھی خاصی انگریزی بولنے آ رہی تھی میں نے بھی اپنی گلابی انگریزی میں بہت کوشش کی سمجھانے کی لیکن اس کو میری بتائی گئی یونیورسٹی کی ایڈریس ککھ سمجھ نہ آئی شاید میری ہی غلطی تھی کیوں کہ جب ہم گاؤں سے جامشورو پھاٹک پر اترتے تھے تو رکشا والے کو بولتے تھے بھیا سندھ یونیورسٹی ہاسٹل چلنا ہے اور وہ ہاتھ سے رکشا کے پینڈل کو زور سے کھینچ کر دھواں دھار رفتار سے پہنچا دیتا۔ مگر یہ بیجنگ تھا چین کے گادی کا شہر جس کا ایرپورٹ ہو یا تفریح گاہیں ہوں یا پھر یونیورسٹیز ہوں باہر کے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے پڑے ہوتے ہیں۔

میں نے فوراً یونیورسٹی گا بھیجا ہوا آگاہی والا بوک نکال کر ایڈریس دکھایا پھر اللہﷲ کر کہ ہم 20 Yuan والی ایرپورٹ شٹل بس میں بیٹھ گئے اس امید کے ساتھ کے ہمیں آگے اترنے کا کچھ ککھ پتا نہیں ڈرائیور بابو خود ہمیں دستک دیں گے کے دیسی بابو اترئے آپ کی منزل آگئی یے۔ لیکن تیسری مصیبت کا آغاز اس وقت شروع ہوا جب ہمیں ڈرائیور بابو نے ایک برج اترنے کے لیے کہا اس وقت میرے موبائل کے ٹائم کا کانٹا رات کے 2 : 30 سے آگے کے سفر کے لیے رواں دواں تھا۔

میں حیران پریشان کچھ اتا پتا نہ کے اب کرنا کیا ہے میں کدھر ہوں میری یونیورسٹی کدھر ہے۔ ان ہی سوچوں میں سوار تھا تو اتنے میں ایک نئی صاف ستھری ٹیکسی پہنچی چونکہ آگاہی والی بوک کو بس میں سمجھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا لیکن میری سمجھ کا عالم بھی وہ تھا کہ اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے۔ فوراً اس بوک کے ایڈریس والا پیج ڈرائیور کو دکھایا کیونکہ اس سے زیادہ نہ ڈرائیور مجھے سمجھ آ رہا تھا نہ میں اسے۔

چین میں اکثر لوگ موبائل کی ایپلیکیشن کی مدد سے ہی منزل کا پتا لگاتے ہیں۔ ڈرائیور ایک نظر دیکھ کر کچھ چینی زبان میں بولا جو اس رات سے آج کی رات تک مجھے کچھ سمجھ نا آیا۔ اس کے بعد فوراً گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں بیٹھ گیا اپنا بیگ ڈکی میں رکھ کر جس کو ڈرائیور نے اپنی ہی سیٹ پر بیٹھے ہوئے کھولا تھا۔ میرا کانپنا بھی اس پانی میں بھیگی ہوئی مرغی سے کم نہ تھا جس کی بھیگنے کے بعد خود کو جلدی سکھانے کی ہوتی ہے اور بے بس رہتی ہے میں بڑے سفر کے بعد فزکلی تھک چکا تھا مگر سوچ تازہ تو نا دماغ کی مددگار تھی۔

بیجنگ شہر کے بڑے کشادہ صاف اور کھڈوں کی جھنجٹ سے آزاد ہیں۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر بھی میرا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا ذہن میں عجیب عجیب خیالات آ رہے تھے جو سب سے زیادہ میری سوچ میں گردش کرنے والا خیال تھا وہ یہ تھا کے میرے کچھ دوستوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ چینی انسانوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ اور میرے ذہن میں یہ خیال کیوں نہیں آتا وہ بھی رات کے ایسے پہر نہ انسان نظر آئیں نہ پرندے اور نہ ہی بچانے والی پولیس۔ آخر کار ٹیکسی والے نے 40 Yuan میں مجھے ایک ہاسٹل کے ایسے گیٹ پہ اتارا جس کاؤنٹر کی لسٹ میں آنکھوں کی نظروں نے دو ہاتھوں کی مدد سے فیاض مستوئی نامی کے شاگرد کا نام نا ڈھونڈ سکیں۔

چین کی یونیورسٹیز میں زیادہ تر نئے داخلہ کے شروعات کے رجسٹریشن ماہ اگست سے شروع ہوتے ہیں یا پھر ستمبر کے پہلے ہفتے سے۔ ان دنوں میں یونیورسٹی کے بین الاقوامی شاگردوں کو ڈیل کرنے کی خاص برانچ ہوتی ہے جو ان دنوں بہت سے ایسے شاگردوں کی والنٹیئرلی خدمات حاصل کرتا ہے جو پہلے سے اس یونیورسٹی میں انرول ہوتے ہیں۔ مجھے بھی ایک ایسا ہی شاگرد اسی گیٹ پر مل گیا تھا جہاں ٹیکسی نے مجھے اتارا تھا۔

لسٹ میں نام نا ملنے کے بعد اگلی پریشانی شروع ہوگئی کہ اے پروردگار تمہارے بندے کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر اس والنٹیئر شاگرد نے حوصلہ دیا کہ ایک اور بھیDormitory ہے وہاں لے چلتا ہوں آپ کو وہاں کی لسٹ می۔ ں ہی آپ کا نام ہوگا۔ میرا بیگ اسی فرشتے نے ہی اپنے ہاتھوں میں پکڑا تھا جو رنگ روپ سے کسی افریکا کے ملک کا رہائشی لگ رہا تھا۔

گیٹ کے ساتھ مکڈونلڈ پہ چلا وہ جہاں پر اس کے کچھ دوست پہلے ہی بیٹھے ہوئے تھے اور رات کے اس پہر بھی مکڈونلڈ کھلا ہی تھا؛ مجھے بھی بھوک نے چور چور کر رکھا تھا کچھ آتھت ملی کے چلیں تھوڑی بھوک مٹانے کے لیے یہ کھلا ہوا ہے لیکن میری قسمت کا ستارہ شاید اس رات آسمان سے اوجھل ہی ہو چکا تھے کیونکہ کاؤنٹر پر جانے کے بعد اس عورت صاحبہ نے کہا اب تو ہم سب کچھ لپیٹ چکے ہیں۔ ادھر میں آپ کچھ بیجنگ کے ریسٹورنٹ کے بارے میں آگاہی دیتا چلوں کہ وہ بیشک رات کے 9 یا پھر 10 بجے اپنی سروس بند کر دیتے ہیں جو حضرات پہلے سے ان کے پاس تشریف رکھے ہوئے ہوتے ہیں ان کو مجال ہے کہ اٹھنے کے لیے یہ کر مخاطب ہوں کہ جناب اب آپ اپنے گھروں کو جائیں اور ہمیں بھی اپنی دکان بند کرنے دیں۔

آخر کار ہم دوسرے ہاسٹل کے پاس اگئے۔ شُو شُو کو جگایا ادھر میں آپ کو بتاتا چلوں کہ چین میں شُو شُو ایک انکل یا پھر ریسپشن پہ بیٹھے بڑی عمر والے شخص کو کہا جاتا ہے۔ 513 نمبر کمرے کارڈ تھمایا کمرے میں جانے سے پہلے اس افریکی فرشتے کا بڑی گرمجوشی سے شکریہ ادا کر کے میں اپنے کمرے میں جانے لگا۔

ویسے تو پانچویں منزل پر جانے کے لیے سیڑھیاں بھی تھیں لیکن میری ٹانگیں اور باقی کا جسم مزید چلنے پھرنے کے لیے بالکل جواب دے چکا تھا تو لفٹ سے ہی جانا مناسب سمجھا۔ چین میں بہت عمدہ پلاننگ کے ساتھ بہت ہی زبردست بنی ہوئی لمبی لمبی خوبصورت عمارتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کو جو آپ کو Key card ملتا ہے وہ ہی آپ کو لفٹ میں اندر لگا کر اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے مددگار ہوتا ہے۔ میں لفٹ میں اندر گھسنے کے بعد 5 کے نمبر کو لگا رہا تھا تو وہ لگ ہی نہیں رہا تھا ایسے میں بہت جستجو میں لگا رہا پر ناکام رہا۔

آخرکار نکل کر دوبارہ اس شُو شُو کے پاس آ گیا جس نے مجھ فقیر کی مشکل آسان کر دی۔ کمرے پر پہنچا تو پہلے سے اس میں وحید لہڑی بہت گہری نیند کے مزے لے رہے تھے اچانک مجھے کمرے میں اندر آنے سے اپنی آنکھوں مہٹتے مہٹتے اٹھا اور مجھ سے ملا۔ چونکہ ہمارا داخلہ ایک ہی یونیورسٹی میں ہوا تھا تو ہم پاکستان سے ہی رابطہ میں تھے لیکن ملاقات ہماری اچانک ہی بیجنگ یونیورسٹی کے ہاسٹل کے کمرے میں ہوئی۔

اگلے دن جاگ کر پہلے ہی مسلم کینٹن میں بھوک مٹانے کے لیے پاکستان کے قومی لباس میں ہی ملبوس ہوکر پہنچے۔ چین کی تقریباً ہر ایک یونیورسٹی میں پوری دنیا سے آئے مسلمانوں شاگردوں کے لیے ہلال کینٹن کا بھی بندوبست کیا ہوا ہوتا ہے۔ کینٹن کے تازہ تازہ کھانے دیکھ کر سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا لیں کیا نہیں کیونکہ ہمارے لیے وہ سارے ہلال کھانے بہت ہی عجیب تھے۔ بہرحال خود کو حوصلہ دے کر تُکے پر ہی کچھ مختلف اقسام کے کھانے لے ہی لیے۔ چین کی تقریباً ساری یونیورسٹیز کے کینٹن میں سیلف سروس ہی ہے جیسے ہم مکڈونلڈ اور کے ایف سی پہ استعمال کرتے ہیں۔ کھانا لے آکر ہم اپنی ٹیبل کی کرسی پر بیٹھ گئے ہم پانچ پاکستانی دوست تھے۔

کھانے کا تو پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ یہ پانی میں بنا ہوا ہے یا تیل میں۔ ہم مصالحہ دار لوگ نمک مرچ کو زیادہ پسند کرنے والے لوگ۔ ایک نوالہ لینے کے بعد نہ کھانا حلق کے اندر جانے کے لیے تیار تھا نہ ہی ہلک اسے اندر لے جانے کے لیے تیار تھا۔ نہ اس میں نہ نمک تھا نہ مرچ، پتا چلا کہ ریسپشن پر الگ سے نمک اور مرچ موجود ہے آپ اپنی ضرورت کے مطابق وہاں سے لے سکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ چین میں یونیورسٹی کے کینٹن پر کیش پئمنٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

یونیورسٹی کی طرف سے جو اسٹوڈنٹ کارڈ ملتا ہے وہ ہی ریچارج کرا کے کینٹن پر اور انٹرنیٹ کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس تو وہ کارڈ ہی نہیں تھا اور کیش قابل قبول نہیں تھے پھر ہم چینی شاگردوں کو درخواست کرتے تھے ان کا کارڈ استعمال کرتے تھے پھر کوئی ہم سے کیش پیسے لیتا تھا تو کوئی نہیں۔ وہ کھانا ہم سے نہیں کھایا گیا اور ہم واپس اپنے کمرے پر آگئے۔

یونیورسٹی میں رجسٹریشن کے مراحل سے گزرنے کے بعد اس دوران ہمیں کچھ ہدایات دی گئیں کہ میڈیکل کروانے کے بعد ہمیں چین میں مزید مقیم رہنے کے لیے ریزیڈنٹ پرمٹ کے لیے اپلائی کرنا ہوگا۔ اس بات کو جاننے کے بعد امیگریشن افسر کی طرف سے میرے ویزا پر لگائی گئی اتنی بڑی لکیر کے متعلق گھبراہٹ جتم ہوگئی۔ اگلے دن میں اور میرا روم میٹ وحید لہڑی اپنی یونیورسٹی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر قائم بینک کی اس برانچ میں اپنا اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے پہنچ گئے جس کے ذریعے ہمیں ہر مہینے اسکالرشپ کا وظیفہ ملنا تھا۔

وہاں مشکل میں اضافہ اور ہوا جب بینک کے عملے نے ہمیں بتایا کہ اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے چینی موبائل سم کارڈ نمبر ہونا لازمی ہے۔ بعد میں ہمیں پتا چلا کہ چین میں مقیم رہتے ہوئے زندگی کے ہر ضروری کام کے لیے موبائل سم کارڈ ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا پاکستان میں قومی شناختی کارڈ۔ ہم نے اپنا یہ مسئلہ بینک کے عملے کو بتایا کہ چین میں ابھی ابھی آمد کی وجہ سے سم کارڈ کی خریداری کا ہمیں کوئی انداز نہیں۔ اس پر بینک میں ڈیوٹی پر موجود عملے میں سے ایک افسر ہمارے ساتھ بینک سے باہر آیا اور سڑک کے دوسری پار تک ہمارے ساتھ رہا۔ یہ ایک بہت مصروف سڑک تھی اور اس کو پار کرنے کے لیے ہمیں سگنل پر کافی انتظار کرنا پڑا جس دوران بینک افسر ہم سے دوستانہ انداز میں باتیں کرتا رہا۔

سڑک کی دوسری جانب پہنچ کر اس افسر نے ہمیں اس عمارت کے سامنے چھوڑا جہاں سے سم کارڈ جریدی جاسکتی تھی۔ اور اس نے ہمیں بتایا کہ سم کارڈ خریدنے کے بعد ہم بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے تشریف لے جا سکتے ہمیں۔ یہ بیجنگ کا ایک سرکاری بینک تھا اور یہاں کے عملے سے ہمارا تجربہ پاکستان کے سرکاری بینک سے بہت مختلف اور اچھا رہا۔ ہم عمارت میں داخل ہوئے لیکن ہمیں اپنی مطلوبہ سم وہاں سے نہ مل سکی۔ ہمارے دوستوں کی ہدایت کے مطابق ہمیں چائنہ یونی کام کی سم لینی تھی کیونکہ اس کے انٹرنیٹ پیکیجز طلبہ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مناسب تھے۔

چین جیسے ملک میں زندگی گزارنے کے لیے آپ کو ہر کام کے لیے موبائل ایپلیکیشن کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لیے آپ کو انٹرنیٹ کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے۔ یوں ہمیں مطلوبہ سم لینے کے لیے تقریباً دو کلومیٹر مزید چلنا پڑا اور یوں ہم اپنی سم کارڈ خرید کر بینک واپس پہنچے جہاں ہمیں ایک گھنٹے میں ہی اے ٹی ایم کارڈ تھما دیا گیا۔ یوں ہم یونیورسٹی میں رجسٹریشن کے تمام مراحل مکمل کرچکے تھے۔ ان تمام مراحل کے بعد اگلی مشکل جو ہمیں درپیش ہوئی وہ کھانے پینے کی تھی۔

کیونکہ چین میں ہمیں پاکستان جیسے چٹ پٹے اور مصالحے دار کھانوں سے محروم ہونا پڑا۔ ایک نئی مشکل یہ آن پڑی کہ کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب میرا بلیک بیری Z۔ 10 موبائل چین کے نیٹورک کے سامنے لُل ہوگیا پہلے تو واٹس اپ مزید کام کرنے سے معذرت کے ساتھ دھوکہ دے گیا تو وی چیٹ کے آگے بھی تقریباً دھکا اسٹارٹ گاڑی کی طرح ہوگیا۔ پریشانی بڑھتی جارہی تھی کیونکہ ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے ہر ایک معلومات وی چیٹ میں بنے گروپ کے ذریعے ہی موصول ہوتی تھی۔

میں نے ایک چینی شاگرد کی مدد حاصل کی جس نے مجھے بتایا کہ آن لائن ہی آپ اوریجنل موبائل فون خرید سکتے ہیں۔ پاکستان میں آن لائن شاپنگ کا تجربہ کچھ خاص اچھا نہیں تھا کیونکہ وہاں دکھانے کے لیے چیز ایک ہوتی ہے اور بھیجنے کے لیے کھلونے اس لیے میں آن لائن شاپنگ سے ادھر بھی کچھ خاص مطمئن نہیں تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ معلوم ہوا کہ چین میں % 90 زیادہ لوگ آن لائن شاپنگ کو پسند اور بھروسے کرتے ہیں۔

پھر پریشانی کے عالم میں ڈاکٹر آصف وگن کو فون گھمایا اور اپنی مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بڑے مثبت انداز میں کہا کوئی بڑی بات نہیں ہے کون سا موبائل خریدنا چاہ رہے ہیں؟ میں نے ان سے کہا کوئی ایسا موبائل فون ہو میری درویش طبعیت سے ملتا جلتا وہ بھی اسی طبعیت کا ہو جو مجھے سمجھ سکے اور میں اسے۔ انہوں نے ایک چینی کمپنی کا شوامی موبائل بتایا جسے میں فوراً معذرت کی کیونکہ مجھے چینی زبان کا اتنا خاص اچھا تجربہ نہیں ہوا تھا تو مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں کسی نئی مشکلات میں نہ پڑ جاؤں۔

لحاظہ میں نے نوکیا کے 6 ماڈل کی درخواست کر لی وہ اس لیے کہ نوکیا بھی خود فقیرانہ طبیعت کا موبائل ہے گرتا رہتا ہے مگر کبھی دھوکا دے کر ساتھ نہیں چھوڑتا۔ بس پھر کیا تھا اگلے دن موبائل فون میرے ہاتھ میں تھا۔ اسی دوران ہماری کلاسز کا آغاز ہوگیا اور یوں ہم نے چین کی ثقافت اور اس کی زبان سیکھنے کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی۔ ثقافت کا مضمون میرے لیے بہت دلچسپی کا باعث تھا مگر چین کی زبان سیکھنا تھوڑا مشکل مرحلہ تھا۔ کلاس میں ہمارے ٹیچرز کا رویہ ہمارے ساتھ بہت دوستانہ تھا۔ کلاس روم میں کیے گئے سوالات کا جواب بہت مثبت انداز میں دیا جاتا تھا۔ جب تک طالبعلم مطمئن نہ ہو جاتے تب تک ٹیچر بہت تحمل کے ساتھ طالبعلم کی بات سنتے تھے۔

بیجنگ کی یونیورسٹی میں شروع میں ہی کلاس کے دوران ایک دلچسپ واقع پیش آیا۔ میرے ایک کلاس میٹ حیدر بھائی جو دکھنے میں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ طبعیت کے نفیس انسان ہیں۔ ان کی لمبی سیاہ گھنی داڑھی ان کے چہرے پر بہت سجتی تھی۔ ایک دن کلاس کے دوران ہماری ایک چینی فیمیل ٹیچر نے بہت حیرت سے ان کی لمبی داڑھی کے بارے میں سوال کیا۔ اور بہت متاثر کن انداز میں ان سے پوچھا کہ آپ اس کو دھونے اور سنوارنے کے لیے کیا چیز استعمال کرتے ہیں۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ اس کو دھونے کے لیے شیمپو اور سنوارنے کے لیے کنگی استعمال کرتے ہیں۔ جس پر ٹیچر کے تاثرات بہت حیران کن اور خوشگوار تھے۔ ان تمام نئے اور خوبصورت تجربات کے بعد ایک مشکل ابھی بھی باقی تھی جس کا حل ہمیں اس ترقی یافتہ سرزمین پر بھی نہیں مل رہا تھا۔

وہ مسئلہ تھا چٹ پٹے اور ذائقہ دار پاکستانی کھانوں کی غیر موجودگی۔ ہم کھانے کی تلاش میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہر نکلیں اور یونیورسٹی میں موجود تمام کینٹینز چھاننے کے بعد بھی ہمیں چٹ پٹا کھانے کہیں نظر نہیں آیا۔ ہر طرف ابلے ہوئے چاول اور ان کے ساتھ کئی اقسام کے سالن نظر آئے۔ وہ سالن توانائی سے تو بھرپور تھے مگر ذائقے سے کھالی تھے۔ آخرکار ہم نے ابلے ہوئے چاولوں کے ساتھ کچھ سالن منتخب کیے اور کھانے کی پلیٹ کے ساتھ میز پر براجمان ہوگئے۔ اب کھانا تو ہمارے سامنے پڑا تھا اور دل کی گہرائیوں سے خدا کا شکر بھی ادا کر رہے تھے مگر ایک مسئلہ درکار تھا کہ اب اس کو کھایا کیسے جائے؟

کیونکہ پیٹ تو کھانا مانگ رہا تھا مگر اس کھانے کو ہلک سے اتارنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ اسی کشمکش میں ہم نے آخرکار پیٹ بھرنے کے لیے کچھ کھانا ہلک سے اتار لیا۔ دن گزرتے گئے مگر کھانے کا مسئلہ حل نا ہوا اور اس کے نتیجے میں میری صحت بہت گرنے لگی۔ بھوک کے مارے رات بھر نیند نہیں آتی تھی۔ مجھے یاد ہے میں نے ہر قسم کے بسکٹ اور جوسز بھوک مٹانے کے لیے استعمال کیے مگر بھوک ختم نا ہو سکی۔ میرا روم میٹ ساری رات بیٹھ کر مختلف قسم کے بیج کھاتا رہتا اور اس کے چھلکے اتارنے کی آواز سے میری نیند مجھ سے کوسوں دور چلی جاتی۔

بھوک کے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے میرے روم میٹ نے پاکستان سے لائے گئے مرچ مصالحے، کیچ اپ کے اندر مکس کرکے ایک مرکب تیار کیا اور ابلے ہوئے چاولوں چھڑکنے کے بعد اکثر رات کے دو بجے کے بعد وہ اس سے بھوک مٹا کر سونے کی کوشش کرتا تھا اور دن کو شکایت کرتا رہتا تھا کہ بھوک کے مارے رات بھر نیند ہی نہیں آتی۔

اس طرح اپنے ملک سے دوری اور اس سے زیادہ پاکستانی مرغ مرغن، مچھلی، تکا بوٹی، بریانی، حیدرآباد میں ہیرآباد کے دھی بھلے، چٹ پٹی کوزی حلیم، مدینہ فروٹ چاٹ والے کی مٹھاس بھری فروٹ چاٹ، بمبئی بیکری کا چاکلیٹ ہو یا میکرون کیک، حیدرآباد کے لبرٹی کا فالودہ، اور دوسرے تمام چٹ پٹے کھانوں کی کمی نے مجھے بہت پریشان کیا۔ اس کے علاوہ جامشورو کے مقام المنظر پر سندھو دریا کے کنارے کھڑے ہوکر محبتوں اور چاہتوں بھری ہوائیں، جون جولائی کے تبتے موسم میں شام کے پہر دریا کی موج مستیوں سے بھری لہروں کے ساتھ وہ چاہت، پیار اور محبت بھری ہواؤں کی یادیں بھی ستانے لگیں۔

پردیس میں رہتے ہوئے اس تھوڑے سے وقت میں اتنی یادیں جمع ہوکر ستانے لگیں تھی جن کا احساس شاید پاکستان میں رہتے ہوئے نہیں ہوا تھا۔ وقت گزرتا گیا کہ ایک دن مجھے میرے دوست ڈاکٹر امیر حسین جروار جو بیجنگ میں ہی زیرِ تعلیم تھے رات کے وقت ان کی ایک فون کال موصول ہوئی اور انہوں نے مجھے جنوری میں سردیوں کی چھٹیوں کے لیے پاکستان واپسی کا ٹکٹ خریدنے کا مشورہ دیا۔ معلوم رہے کہ چین میں مقیم اکثر طلباء اپنی ٹکٹس آن لائن ایپلیکیشن کے ذریعے خریدتے ہیں۔

جیسے ہی کوئی ٹکٹ کم قیمت میں دستیاب ہوتا ہے تو چھٹیوں میں وطن واپسی کے لیے طلبہ اس کو خرید لیتے ہیں۔ موسم بہت ٹھنڈا ہو رہا تھا اور کھانے کے لیے بھی پریشانی بڑھ رہی تھی تو مجھے میرے دوست کا یہ مشورہ بہت پسند آیا اور ہم دونوں نے اسی رات 11 جنوری کا ٹکٹ خرید لیا۔ پھر کیا تھا دن رات 11 جنوری کے آنے کا انتظار ہونے لگا۔ دن بدن موسم بھی بہت ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ پاکستانی طلباء جو کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے ٹھنڈے علاقوں میں رہتے تھے وہ بھی بیجنگ کے ٹھنڈے موسم کے سامنے اُف اُف کرنے لگے اور بولنے لگے کہ ہم نے ایسا ٹھنڈا موسم کہیں نہیں دیکھا اور محسوس کیا۔

میرا تعلق چونکہ سندھ سے ہے اور اس کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ تو میرے لیے بیجنگ کا ٹھنڈا موسم ناقابلِ برداشت تھا۔ اس لیے مجھے پاکستان واپسی کا بہت انتظار تھا تا کہ میں پاکستانی کھانے بھی کھا سکوں اور بیجنگ کے سرد موسم سے بھی بچ سکوں۔ اللہ اللہ کر کے وہ دن آیا جس دن میری پاکستان واپسی کی فلائٹ تھی۔ میں اپنے دوست کے ساتھ ٹیکسی کے ذریعے ایرپورٹ پر پہنچا۔ اس دن تو موسم نے حد ہی کر دی تھی شاید موسم کو بھی ہمارے پاکستان جانے کی خوشی نہیں تھی۔

ٹیکسی سے اتر کر ایرپورٹ میں داخل ہونے تک کا فاصلہ تقریباً 50 میٹر ہوگا۔ ہوا اس قدر ٹھنڈی تھی کہ ٹیکسی سے ایرپورٹ میں داخل ہونے کا یہ فاصلہ طے کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا تیز اور نوکیلی تلوار کی طرح میرے جسم میں گھس رہی تھی۔ ہم اس ٹھنڈی ہوا کو چیرتے ہوئے بیجنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہوئے۔ وسیع و عریض اور دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹ پر پہنچ کر ہمیں کچھ سکھ کا سانس آیا۔ تھوڑا انتظار کرنے کے بعد ہماری فلائٹ کے لیے چیک اِن شروع ہوگیا۔

ہم اپنی فلائٹ کی ایئرلائن کے لیے مختص ریسپشن پر پہنچنے۔ وہاں عملے کے تین سے چار لوگ ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ریسپشن پر بیٹھی ڈیوٹی عملے کی فیمیل نے مجھ سے میرا پاسپورٹ طلب کیا جو میں نے بخوشی اس کی طرف بڑھا دیا۔ مجھ پر حیرت کا بم تب پھوٹا جب میں نے اپنا سامان بیلٹ پر لوڈ ہونے کے لیے آگے بڑھایا۔ تب مجھے بتایا گیا کہ آپ اپنے ساتھ یہ سامان نہیں لے کر جا سکتے۔ کیونکہ اس ایئرلائن میں مسافر اپنے ساتھ سات کلو وزن سے زیادہ نہیں لے جاسکتا تھا۔

اور وہ سامان بھی اپنے ساتھ دستی سامان کے طورپر جہاز میں لے جایا جاسکتا تھا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ اس سامان کو لوڈ کروانے کے لیے ہمیں زائد رقم ادا کرنا تھی جو ہمارے پاس نہیں تھی۔ چونکہ ہماری فلائٹ رات کے دو بجے کے دوران کی تھی اور اس ٹائم چین میں مقیم اپنے دوستوں کو رات کے اُس آدھے پہر پریشانی کے عالم میں فون گھمائے اور رقم طلب کی، میرے ساتھ میرے دوست کا بھی یہی حال تھا۔ چین میں تقریباً ہرقسم کے لین دین کے لیے ڈجیٹل رقم استعمال کی جاتی ہے۔

اس کے لیے دو ایپلیکیشنز وی چیٹ اور الی پے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دوستوں نے ہمیں موبائل فون پر ہی فوراً رقم منتقل کر دی اس سارے کام میں ہمیں 25 سے 30 منٹ لگ گئے۔ اس کے باوجود بھی ہم سامان کو جہاز پر لوڈ کروانے کے لیے مطلوبہ رقم ریسپشن پر جمع کروانے سے محروم رہے کیونکہ اسی اثناء میں چیک ان کاؤنٹر کا عملہ اپنی نشست سے غائب ہو چکا تھا۔ اور ہماری فلائٹ مس ہوچکی تھی۔ اس طرح پاکستان واپس جانے کا حسین خواب بیجنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہی ریزہ ریزہ ہوگیا۔ بس پھر کیا تھا ہمارے ہواس جواب دے چکے تھے اور کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کِیا جائے؟ ذہن میں طرح طرح کے خیال آ رہے تھے۔ ہم نے جہاز کے اس عملے کو فلور پہ ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن شاید وہ جہاز میں پہنچ کر اپنی پرواز شروع کرچکے تھے۔

بس پھر کیا تھا کچھ دیر ایئرپورٹ پر بیٹھ کر خود کو اور اپنے دوست کو ایک عجیب و غریب تسلی دی۔ جب ہم ایئرلائن کاؤنٹر پر پہنچنے تھے تب اس کاؤنٹر پر میرے اور میرے دوست کے علاوہ اور کوئی مسافر موجود نہیں تھا اور سامان لوڈ کروانے کے لیے رقم اکٹھے کرنے کے دوران ایئرلائن کا عملہ بھی جا چکا تھا تو اس سے مجھے یہ وھم پیدا ہوا کہ فلائٹ اڑی ہی نہیں اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ میں نے اسی وھم کو بنیاد بناتے ہوئے اپنے دوست کو مشورہ دیا کہ وہ اس ٹکٹس بک کرنے والی ایپلیکیشن جس کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے ٹکٹ بک کی تھی فلائٹ کے حوالے سے اپنی شکایت درج کروائے۔ اس نے میرے اس مشورے پر فوراً عمل کیا۔ میرا دوست چینی زبان بہت اچھی طرح جانتا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ ٹکٹس میں نے بک کیے تھے۔ چونکہ میں چینی زبان میں اناڑی تھا تو سفر کے دوران وزن کے حوالے سے معلومات کو نہیں سمجھ سکا جس کا خمیازہ ہمیں فلائٹ مس ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

شکایت درج کروانے کے بعد ہم نے یونیورسٹی کی ڈورم واپس چلنے کا فیصلہ کیا اور رات کے اس پہر 4 بج رہے تھے۔ ہم دونوں ڈورم واپس پہنچے مگر ہمارا سکون ایئرپورٹ پر ہی رہ گیا تھا۔ ہم نے اس ایپلیکیشن کی ہیلپ لائن پر کال کر کے اس کمپنی کے بیجنگ شہر کے آفس کا ایڈریس لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جیسے ہی صبح ہوئی ہم ناشتا کرنے کے لیے کینٹین کے کھلنے کا انتظار کرنے لگے جوکہ صبح کے ناشتے کے لیے 6 : 45 سے 7 : 30 تک کھلی رہتی تھی۔ اُس کینٹین کا ناشتہ قابلِ ذکر ہے۔ اس پر ملنے والے ابلے ہوئے انڈے، فرائیڈ آملیٹ سے بنا سینڈوچ جو صحت کے لیے بے حد مفید ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت لذیذ بھی۔ پانی میں ابلے سفید لوبیا بھی اس کینٹین کے ناشتے کی خصوصیت ہے۔ ناشتہ کے مزے لے کر ہم اس بلڈنگ پہنچے جہاں آن لائن ٹکٹس بیچنے والا آفس تھا۔

بیجنگ میں جتنی بھی بڑی بڑی عمارتوں میں دفتر ہیں چاہے وہ سرکاری ہوں یا نجّی ان کے ریسپشن کا عملہ کسی بھی دفتر کے آفس جانے کی اجازت نہیں دے گا جب تک اس آفس کے نمائندے سے اجازت نا مل جائے۔ ہم نے ریسپشن والے کو بتایا کہ ہمیں اس آفس کے دفتر جانا ہے پھر اس نے اس دفتر کو فون گھمایا اس دفتر سے پوچھا گیا کس سلسلے میں آپ ہمارے دفتر آنا چاہتے ہیں ہم نے اپنا مُدعا ایک دکھڑے کے طور پر سنانے کے بعد آفس تشریف لانے کا اجازت نامہ ملا اور ہم ان کے آفس جو بائیسویں منزل پر تھا پہنچ گئے۔

ان کی پریشانی سے صاف صاف دکھ رہا تھا کہ انہوں نے ہمیں اپنے آفس بلا کر بہت ہی بڑی غلطی کر لی ہو۔ ہماری عملے سے دو ہی درخواستیں تھی ہمیں متبادل فلائٹ کا ٹکٹ جاری کریں یا پھر ہماری مس ہونے والی فلائٹ کے ٹکٹ کی پوری قیمت کریں۔ لیکن اس کے بعد ہمیں کبھی 200 Yuan کی تو کبھی 300 Yuan واپسی کی آفر کی جا رہی تھی۔ میرے دوسرے دوست نے ان سے سختی اور تھوڑے غصے کے لہجے میں مخاطب ہوکر کہا کہ ہم نے جو مطالبات پیش کیے ہیں ان پر ہی آپ بات کریں اس کے علاوہ ہم کسی اور آپشن پہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

میرا لہجہ کچھ معصومانہ اور فقیرانہ تھا جس چینیوں نے بخوبی سمجھ لیا تھا پھر جو بھی بات کرنی ہوتی تھی وہ مجھ سے ہی مخاطب ہو کر کرتے تھے۔ اس کشمکش کے عالم میں ہمارا آدھا دن گزر چکا تھا۔ ہمیں دفتر کے عملے کی طرف سے جو آخری بات کہی گئی تھی وہ یہ تھی کہ ہمارا دوسرا دفتر ہے جہاں پر ہمارے کنٹری ہیڈ بیٹھتے ہیں جو آپ کے اس مسئلے کو دیکھ بھی رہے ہیں آپ وہاں تشریف لے جائیں جس کے لیے ہم آپ کے لیے گاڑی کا بھی انتظام کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ کا مسئلہ وہاں سے ہی حل ہو جائے گا۔

جس کو میرے دوست نے فوراً رد  کیا اور درخواست کی کہ آپ اپنے کنٹری ہیڈ کو اس آفس میں بلائیں۔ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ ہو سکتا ہے کنٹری ہیڈ کے آفس میں ہمیں داخل ہونے کی اجازت نہ ملے اور ہم واپس اس دفتر میں بھی داخل نہ ہو سکیں اور ہمارا مسئلہ حل ہی نہ ہو سکے۔ آخرکار تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ صاحب اپنی اسسٹنٹ کے ساتھ آفس تشریف لائے۔ ہمیں ایک کانفرنس روم میں بلا لیا گیا اور تحمل کے ساتھ ہماری پریشانی کو ہماری ہی زبانی سنا۔ ان صاحب کی اسسٹنٹ نے فرمایا کہ آپ نے ہماری شرائط قبول کرتے ہوئے ٹکٹ خریدا ہے اب آپ کس قاعدے قانون کے تحت ہم سے ری فنڈ کا تقاضا کر رہے ہیں؟

میں نے ان سے گزارش کی کہ محترمہ ہمیں چینی زبان اتنی سمجھ نہیں آتی اور ہمیں یہ کہیں پر بھی نظر نہیں آیا کہ آپ نے اس فلائٹ میں مسافر اپنے ساتھ کتنا وزن لے جا سکتا ہے۔ فوراً انہوں نے وہ بھی نکال کر دکھایا کہ یہ دیکھیں یہ بھی ہم نے دیا ہوا ہے۔ پھر میری ان سے ایک اور گزارش تھی کہ جب آپ نے یہ اپنے سسٹم میں دیا ہوا ہے جو کے چینی زبان میں ہے تو پھر آپ نے جو ہمیں ٹکٹ جاری کیا ہے جو کہ انگریزی زبان میں ہے تو اس میں وزن کا کیوں نہیں بتایا گیا ہے؟ پھر یہی بات اس کنٹری ہیڈ نے ان سے پوچھی کہ یہ کیا کہ رہے ہیں جو کہ میرے دوست نے مجھے بتائی کیونکہ ان کو چینی زبان سمجھ آتی تھی۔

میری اس پوائنٹ کو اس صاحب نے تسلیم کیا اور کہا کہ ہم آپ کو آپ کے پورے پیسے واپس کر رہے ہیں۔ اپنے عملے کو بھی فون گھمایا کہ اب سارے جاری کردہ ٹکٹوں میں وزن سے بھی مسافروں کو آگاہ کریں۔ اس کے بعد انہوں نے ہم سے بینک کارڈ طلب کیا جس کے ذریعے ہمیں Refund ملنا تھا۔ لیکن انہوں نے فرمایا کہ سات دن اس میں لگ جائیں گے۔ میرے دوست نے ان کو درخواست کی کہ ہم ادھر شاگرد ہیں اور ہمیں واپس ملک جانا ہے جو ہمارے بہت سارے کام رکے ہوئے ہیں لہذا آپ ہمیں آج ہی یہ واپس کر دیں جو ہماری گزارش قبول کرلی گئی پیسے موصول ہونے کا پیام ہمیں ادھر بیٹھے ہوئے ہی موصول ہوگیا۔

اس کے بعد کنٹری ہیڈ کی طرف سے ہمیں کھانے کے لیے بھی آفر کی گئی لیکن ہم شکریہ ادا کر کے وہاں سے نکل پڑے۔ اسی دن ہم نے ایئر اتحاد کا بہت مہنگا ٹکٹ خریدا رات کے 12 بجے کی فلائٹ سے ہم بیجنگ کو عارضی طور پہ الوداع کہہ کر نکل چکے تھے۔ چونکہ میں بہت زیادہ تھکا ہوا تھا میں اپنے دوست سے اجازت لی سونے کے لیے اور ان کو بھی آرام کرنے کا مشورہ دیا جو میرے ساتھ والی ہی نشست پر بیٹھے تھے۔ لیکن شاید وہ انٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا جو ہماری نشست کے سامنے اسکرین لگی ہوئی ہوتی ہے۔

ادھر میں کھانے کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ آرام میں جانے سے پہلے ہم نے کھانے کا بہت انتظار کرنے کے بعد جب ہمیں کھانے کی خوشبو کہیں سے بھی محسوس نہ ہوئی تو بیل بجا کے ایئر ہوسٹس کو بلا کر کھانے کے بارے میں پوچھا کہ ملے گا یا نہیں تو ان صاحبہ نے معزرت کے ساتھ ساتھ فرمایا کہ فلائٹ میں اس وقت کھانا موجود نہیں ہے۔

اس کے بعد فوراً میرے دوست نے ان سے کہا کہ ہمیں بہت بھوک لگی ہے آپ کے پاس کھانا ضرور ہونا چاہیے اور ہمیں پیش کریں لیکن طیارے کی عورت عملے کا جواب وہی تھا جو میں سن کر سو گیا اس امید کے ساتھ کے بس بھوکے پیٹ آرام ہی بہتر ہے ہمارے لیے۔ رات کے پہر اچانک میرے دوست نے مجھے نیند سے جگایا اور اپنی طبیعت کے بارے میں شکایت کی جو بہت ناساز تھی جینے مرنے کی باتیں کرنے لگا۔ ٹائم پر اپنی نظر دوڑائی تو بیجنگ کے وقت کے مطابق رات کے 3 بج رہے تھے۔ میں فوراً اس کا سر دبانے لگا جس کی وہ زیادہ شکایت کرتے ہوئے مجھے بھی بہت زیادہ پریشان کردیا اور کہنے لگا کے میں زندہ نہیں بچ پاؤں گا۔ میں نے فوراً جہاز کے عملے کو بلانے کے لیے بیل بجایا اور اس کا سر بھی دباتا رہا۔

ایئر ہوسٹس فوراً پہنچ گئی دوست کا حال بتایا اور دوائی کی طلب کی جو کہ انہوں نے فی الفور مہیا کی جس کو لینے کے بعد میرے دوست کی طبیعت بہت بہتر ہوئی۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد طیارے میں موجود مسافر حضرات بشمول ہمارے سینڈ وچ مہیا کیے گئے۔ اس کے بعد تقریباً صبح کے 6 بجے کے قریب ہمارا طیارا ابو ظہبی کے ایرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔

ابو ظہبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دیکھنے کے بعد یہ اندازا ہوا کہ یہ ائیرپورٹ ویسے تو اچھا تھا لیکن مجھے، بیجنگ دبئی اور اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے زیادہ خوبصورت نہیں لگا۔ البتہ دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کولمبو کے بندارانائکے ایئرپورٹس سے بہت بہتر تھا۔ دو دن اور دو راتوں کے طویل سفر بشمول بیجنگ سے ابو ظہبی تک آٹھ گھنٹے سے زیادہ کی فلائٹ کے بعد میں بہت تھک چکا تھا اور مزید چلنے کی ہمت ختم ہو چکی تھی۔

میرا دوست ایئرپورٹ گھومنے میں مصروف ہو گیا۔ یہاں ہمارا قیام 9 گھنٹے کا تھا اور میں آرام کرنا چاہتا تھا۔ آرام کرنے کے لیے وہاں ایئرپورٹ پر آرام دہ سیٹس تھیں۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں جاگا اور ایئرپورٹ پر تفریح کی۔ اس دوران میں گرما گرم کافی سے لطف اندوز ہوا اور تازہ دم ہوگیا۔ چونکہ مجھے سفر کرنے کا بہت شوق رہا ہے اور میں اس سے پہلے بھارت اور دبئی کے سفر کے دوران دہلی کا اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کولمبو کا بندارانائک ایئرپورٹ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور پاکستان کے پنجاب اور سندھ کے تمام ایئرپورٹس دیکھ چکا تھا اور اب میں ابو ظہبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا کونا کونا دیکھنا چاہتا تھا۔

اسی لیے میں ایئرپورٹ پر گھومنے لگا۔ میں نے ابو ظہبی، دبئی اور سعودی عرب کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہاں زیادہ تر پاکستانی لوگ مختلف کاموں کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن مجھے ایئرپورٹ پر کافی شاپ سے لے کر صفائی کرنے والے تک انڈین ہی ملا۔ اس بات کو جاننے کے لیے میری بے چینی بڑھی اور میں نے وہاں ایک انڈین ورکر سے یہ ما جرا جاننے کی کوشش کی تو اس نے مجھے بتایا کہ ابو ظہبی ایئرپورٹ کے انڈین سپروائزر کا تعلق ہمارے گاؤں سے ہے تو میں انہی کی مدد سے یہاں پہنچا۔

میری پر تجسس فطرت نے مجھے سکون نہ لینے دیا اور میں نے اگلا سوال اس کی تنخواہ کے بارے میں داغ دیا۔ تو اس نے مجھے اپنی تنخواہ 1200 درہم بتائی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ کئی لوگ ایک ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور اس طرح وہ کچھ رقم بچا کر بھارت میں اپنے گھر والوں کو بھیجتا ہے۔ میں اس کے سپر وائز سے بھی ملنے میں دلچسپی رکھتا تھا لیکن ہماری فلائٹ کا وقت بہت قریب آ گیا تھا اور میری یہ کوشش پوری نہ ہو سکی۔

آخرکار ابو ظہبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 9 گھنٹے کے قیام کے بعد ہم ایک بار پھر اتحاد ایئرویز پر سفر کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس وقت سہ پہر کے تین بج رہے تھے اور ہماری یہ پرواز کراچی کے لیے تھی۔ طیارے میں دوسرے کئی ممالک سے آنے والے مسافر بھی پاکستان روانہ ہونے کے لیے سوار ہو گئے۔ چند گھنٹوں کی پرواز کے بعد جہاز ہمیں لے کر کراچی کے جناح انٹر نیشن ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کرگیا۔

یوں چین جانے اور چھٹیوں کے لیے پاکستان واپس آنے کا یہ پہلا سفر اختتام پذیر ہوا جو میری زندگی کے ایڈونچرز میں سے ایک تھا۔ یہ سلسلہ قانون کی ماسٹر ڈگری کے لیے شروع ہوا اور آج میں بین الاقوامی قانون کی پی ایچ ڈی تحقیق کے لیے چین میں مقیم ہوں۔ یوں میرا تعلق چین کے ساتھ جڑ گیا جس کے لیے میں نے کئی سفر کیے اور یہ حسین تعلق آج بھی قائم ہے۔

Facebook Comments HS