کشمیر جیت گیا، کہیں آپ نہ ہار جائیں


احمد حماس

\"kashmir\"معروف امریکی ناول نگار والٹر موزلے لکھتا ہے کہ آزادی ذہنی کیفیت کا نام ہے۔

موزلے کے ان جملوں کی حقیقی تمثیل آج کشمیری قوم نظر آتی ہے۔ 4 ماہ سے سلگ رہی چنار وادی کو دیکھا جائے تو کوئی ذی شعور یہ بات تسلیم نہیں کرے گا کہ کشمیری ایک غلام قوم ہیں۔ باوجود اس کے کہ جموں وکشمیر کی جنت نظیر دھرتی کو آٹھ لاکھ غاصب فوجیوں نے گھیر رکھا ہے۔ گزشتہ 125 دنوں سے کرفیو نافذ ہے، کسی شہری کا گھر سے باہر نکلنا محال ہے، گھروں کے باہر پیلٹ اور بلٹ کے پہرے ہیں، راتوں کے چھاپے ہیں، کھانے پینے کا سامان محدود ہے، تعلیمی ادارے بند ہیں، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے، مارکیٹیں اور بازار شٹر ڈاؤن ہیں، باغات اور جنگلات میں موت کا رقص جاری ہے۔ مگر اس آسیب زدہ بستی کے رہنے والے آزاد ہیں، سیاہ بوٹوں اور زعفرانی راج کا ان کے دماغوں پر کوئی اثر نہیں، وہ اپنی نفرت اور محبت کا بے خوف اظہار کرتے ہیں۔ وہ فوج سے برملا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، ریلیوں اور جلوسوں میں بھر پور شرکت کر کے اپنے حق آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کٹھ پتلی تماشوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ جب کوئی حریت پسند انتقام کے لیے قابض فوج سے معرکہ آراء ہوتا ہے اور جیسے ہی اس کی خبر ان تک پہنچتی ہے وہ فوری وہاں پہنچنا سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے معرکہ آراء بھائیوں اور بیٹوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور مد مقابل کو پتھراؤ کا نشانہ بناتے ہیں۔ مسجدیں آزادی کے ترانوں سے گونجتی ہیں اور جہلم کے کنارے مائیں اور بہنیں ترانوں سے بہادر بیٹوں کو داد شجاعت دیتی ہیں۔ گھروں میں بوڑھی مائیں پہروں ان کے لیے دعا گو رہتی ہیں۔

یہ آزادی ہر عمر کے لوگوں کو میسر ہے، 80 سالہ بزرگ کیا اور چھ سال کا بچہ کیا، وہ ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کشمیر کی زینت بنتا ہے۔ کوئی غلیل سے غاصب فوج کا نشانہ تاکتا ہے تو کوئی کھلونا پکڑے حریت کیش باغی کا \”پوز\” دیتا ہے۔ جی ہاں! یہ آزادی ہے جو چنار وادی کی غلام دھرتی کے باسیوں کو نصیب ہے۔ کیونکہ اب کشمیر میں ایک نسل نوجوان ہوچکی ہے جس نے بھارتی ظلم وتشدد میں آنکھ کھولی ہے، جس نے اپنے گھروں اور سروں پر لوڈ شدہ بندوقوں کے پہرے دیکھے ہیں، جس نے ماؤں کے آنچل خاک آلود ہوتے دیکھے ہیں، جس نے بہنوں کی عزتوں کو لٹتے دیکھا ہے، کوئی ایسی بستی اور کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں سے بے گناہوں کے لاشے نہ اٹھے ہوں اور ظلم کی داستانیں تاریخ کے قرطاس کا داغ نہ بنی ہوں۔ آج یہ نسل بھارتی سامراجی ذہنیت کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہوئے اپنے آزاد جذبوں کو تسکین دیتی نظر آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک نے زور پکڑا تو اس کا ہر اول دستہ سکول و کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم ہی تھے، ان کو بھارتی فوج کی جانب سے بربریت کا نشانہ بنایا گیا، پیلٹ کے چھروں سے ان کے جسموں کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی گئی، ان کے گرم لہو سے سڑکوں کو سیراب کیا گیا، ہزاروں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بند کیا گیا۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں کو بند کرکے وہاں فوج نے ڈیرے ڈال لیے۔

اس کیفیت میں دہلی کے زیر اثر کٹھ پتلی انتظامیہ کو یہ خیال آیا کہ ابھی امتحانات قریب آ رہے ہیں اور وہ امتحانات کا انعقاد کر کے دنیا کو باور کروایا جاسکتا ہے کہ دیکھیے کشمیر میں تو فاختائیں امن کے گن گاتی ہیں اور صبح دبکے کوئل کی آواز اس پر امن وادی میں فرحت ونشاط کا سماں باندھ دیتی ہے۔ مگر آزادی کے لیے پر عزم طلبا نے ان عزائم کو بھانپتے ہوئے امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ انہوں نے واضح موقف اپنایا کہ آزادی تک کوئی امتحان نہیں ہوں گے اور یہ کہ خون اور سیاہی کو اکٹھا بہا کر بھارتی شب ظلمت کو روشن صبح میں نہیں بدلا جاسکتا۔

پھر وادی کا ہر کوچہ ہر نگر طلبا کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ جس کے واضح پیغام نے تخت دہلی کے وفاداروں کو بوکھلا ہٹ کا شکار کر دیا۔

کشمیری طلبا وطالبات کا واضح فیصلہ یہ ہے کہ اگر امتحانات کا انعقاد کیا گیا تو وہ اپنا تعلیمی سال کشمیر کی آزادی کے لیے قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اور وہ امتحان کیسے دیں جب کہ ان کے ہزاورں ساتھی طلبا اور اساتذہ جیلوں اور ہسپتالوں میں اپنے \’\’جرائم\’\’ کی سزا بھگت رہے ہیں۔

کشمیر کی اس صورت حال پر امریکی جریدہ لکھتا ہے کہ بھارت کشمیر میں ہار چکا ہے۔ خود بھارت کے اندر حقیقت پسند حلقے سرکار کو پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق دینا پڑے گا۔ سنتوش بھارتیہ اور فاروق عبداللہ سے ارون دھتی رائے تک یہ کہہ چکے ہیں کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں اور کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

کشمیری خوش نصیب ہیں کہ ان کی تحریک ایک نظریے پر مبنی ہے اور نظریے پر کھڑی قوم کبھی تھک نہیں سکتی، کبھی ناکام ہو نہیں سکتی۔ وہ بالآخر اپنی منزل پا لیں گے۔

عالی عزم کشمیر طلبا اپنے جنون اور حوصلے سے اہل پاکستان کو بھی بیداری کا پیغام دیتے ہیں۔ آج وقت ہے کہ اہل کشمیر کے قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوا جائے، کشمیر جیت چکا ہے، اہل پاکستان کو ان کا تضاد، ان کا انتشار اور ان کا انخراف کہیں شکست نہ دے دے۔

Facebook Comments HS