پاکستان کی معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات


کرونا وائرس چین کے صوبہ ووہان سے شروع ہوا اور آج یہ تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چچکا ہے۔ پاکستان میں کرونا کا پہلا مریض 26 فروری کو رپورٹ ہوا جو کہ ایران سے تفتان کے راستے پاکستان آیا۔ پاکستان میں اس وقت کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5040 اور مرنے والوں کی تعداد 86 تک پہنچ گئی، اب تک اس وائرس سے 1026 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے جہاں پر مریضوں کی تعداد 2430 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر صوبہ سندھ ہے جہاں پر مجموعی طور پر کرونا سے متاثر افراد کی تعداد 1315 ہے، اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں 2230، کے پی کے میں 697، گلگت بلتستان میں 216، اسلام آباد میں 119 اور آزاد جموکشمیر میں 35 مریض ہیں۔ یہ اعداد و شمار مضمون تصنیف کیے جانے کے وقت کے ہیں اور اشاعت تک ان میں تبدیلی آ چکی ہو گی۔

لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کے اس وبا سے پاکستان کیسے نجات حاصل کرے گا؟ اور ساتھ ہی ساتھ اس کی لڑکھڑاتی معیشت کیسے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گی۔ یہ وہ سوالات ہیں جس نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے ۔ پاکستان میں صورتحال اس وقت انتہائی سنگین ہے اور خدششہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں حالات مزید خراب ہوں گے، پاکستان میں اس وقت صنعتی اداروں کے بجائے مزدور طبقے کو بچانے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جو دیہاڑی لگاتے تھے تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔

وفاقی حکومت اگرچہ کوشش کر رہی ہے کہ ہر غریب کے گھر امداد پہنچے اور کسی غریب کا بھی چولہا ٹھنڈا نہ پڑے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان نے احساس پروگرام متعارف کروایا ہے جس کے تحت 144 بلین روپے منتخب کیے گئے ہیں جو کہ اگلے دو مہینے میں 12000 روپے فی خاندان کے لحاظ سے 120 ملین خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے لیکن سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا حکومت نے پہلے سے کوئی پلاننگ کی، کیا کوئی تخمینہ لگایا گیاکہ لاک ڈاؤن سے کل کتنے افراد متاثر ہوں گے، کیا چاروں صوبائی حکومتوں نے مل بیٹھ کے ایڈوانس پلاننگ کی کیونکہ ہمارے ملک مین چین، امریکہ یا برطانیہ جیسے وسائل نہیں کہ ہم ہر غریب گھرانے کی مدد کر سکیں۔

پاکستان کو اب تک تمام سیکٹرز کے اندر 3۔1 ٹریلین کا نقصان ہو چکا ہے جس میں پی آئی اے، ایگریکلچر، سٹیل ملز اور اسی طرح بہت سے دوسرے سیکٹرز شامل ہیں۔ ِمعاشی سرگرمیوں میں کمی اور سست روی کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے پاکستان میں خام تیل زیادہ تر چین سے آتا تھا جو کہ اس وقت دستیاب نہیں۔ آئی ایم ایف نے کرونا سے متاثرہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی مالی معاونت کے لئے 50 ارب ڈالر کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ غریب ملکوں کے لیے 10 ارب ڈالر قرض کیلے مختص کیے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف یہ قرض صفر شرح سود پر دے گا۔ اس حوالے سے اب تک آئی ایم ایف سے 20 ملکوں سے مالی معاونت کے لیے رابطہ کیا ہے اگر پاکستان کو اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ قرضوں کی معافی کی بجائے ان بلاسود قرقرضوں کے حصول کے لئے پالیسی بنائے۔ کچھ دن پہلے گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر نے کیمرہ بریفنگ میں یہ بیان دیا ہے کہ کورونا وا ائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو گی پاکستانی برآمدات جو کہ پہلے سے ہی دباؤ کا شکار ہیں ان مین مزید کمی آئے گی۔

کیونکہ عالمی سطح پر ایندھن کی مارکیٹ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے مگر مجموعی قومی پیداوار میں بہتری توقع کے مطابق نہیں ہو گی۔ پاکستان کی معیشت میں 5۔ 3 فیصد جی ڈی پی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا، اسٹیٹ بینک کی پیشین گوئی ہے کہ اس سال معاشی شرح نمو 3 فیصد رہے گی۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں مین گراوٹ کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں، جو کہ فروری میں 4۔ 12 فیصد تھی، کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

اس وقت حکومت کے لیے معیشت دو دھاری تلوار ثابت ہو رہی ہے۔ سندھ بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال حکومت سندھ نے 145 ارب روپے ایس آر بی کا ہدف رکھا تھا مگر حکام کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی سے ٹیکس وصولی 10 ارب روپے سے کم ہو کر 135 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ سرکاری دفاتر اور کاروبار بند ہونے سے یومیہ ایس آر بھی کا نقصان تقریبا 37 کروڑ روپے ہو سکتا ہے جو 15 دن کی بندش میں 5 ارب 55 کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔

وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت نائب صدر مظہر اے ناصر کا کہنا ہے کہ ماضی م میں جو لاک ڈاؤن مختلف سیاسی جماعتوں نے کیا تھا اس سے یہ لاک ڈاؤن کافی حد تک مختلف اور محدود ہے۔ تفریح، صنعت اور شاپنگ مالز بند ہیں لیکن باقی پوری معیشت کھلی ہے اور صنعتوں میں کام جاری ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کی طرح یومیہ 100 ارب روپے کا معاشی نقصان ہو گا۔ ابھی صرف 25 فیصد معیشت بند ہے تو یومیہ نقصان بھی 25 سے 30 ارب روپے سے زیادہ نہیں ہو گا۔ 15 دن بندش سے حکومت کی ٹیکس وصولی میں کمی کے علاوہ ملک بھر میں مختلف مصنوعات کی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جس کے باعث ملک کے دیگر حصوں میں مختلف اشیاء کی قلت پیدا ہونے کے علاوہ مقامی معیشت میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے حکومتی شعبہ صحت کے اخراجات میں مسلسل اضاففہ ہو رہا ہے، ایک طرف مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈز اور وہاں علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی، مشتبہ افراد کے ٹیسٹ، قرنطینہ سینٹرز کے لیے سہولیات کی فراہمی اور دیگر اقدامات کے لیے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تو دوسری طرف کاروبار کی بندش سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہو رہی ہے۔

یومیہ کاروبار لین دین بند ہونے سے حکومت کو ملنے والے ٹیکسوں میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس وقت تصور کر لیں کہ کراچی کا 50 فیصد کاروباربند ہے تو یومیہ کراچی شہر سے 15 سے 16 ارب روپے کا پیداواری نقصان ہو رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سالانہ پیداوار جی ڈی پی کا حجم 300 ارب ڈالر ہے۔ اگر کراچی کی معیشت کو ملک کی مجموعی معیشت کا 20 فیصد بھی مان لیا جائے تو صرف کراچی شہر کی سالانہ پیداوار 75 ارب ڈالر بنتی ہے، اور اگر اس کو یومیہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو 20 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

اور اگر ڈالر کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ کراچی میں 32 سے 33 ارب یومیہ کی معاشی سرگرمی ہوتی ہے۔ اس پورے عمل کے حوالے سے نہ ہی وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومتوں نے معاشی حکمت عملی کا پلان کیا ہے۔ حکومت کو ٹھوس بنیادوں پر نہ صرف کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے بلکہ اس سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہو ہو گا کہ حکومت امداد دینے والے اداروں سے معاونت کی کس قدر طلبگار ہے؟ یا پھر پاکستان اپنے قرضوں کو معاف کروانا چاہہتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی معیشت میں وسائل کو متحرک کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے، جس کے لئے پاکستان، چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں تیزی لانے کے علاوہ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں میں بھی اضافہ کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS