خدارا! کرونا سے ڈر جائیں

دریافت کیا کہ اس صورت حال کی وجہ کیا ہے؟ عمران کا کہنا تھا، لاک ڈاؤن کے شروع کے دنوں میں خوب دُکان داری چلی، ہر شخص نے روٹین سے بڑھ کر خریداری کی، ٹماٹر، پیاز آلو سب کچھ منٹوں میں بک جاتا۔
اب یہ حال ہے کہ لوگوں کے پاس خریداری کرنے کو پیسے نہیں۔ اس لئے گاہک نہیں مل رہا۔ سارا دن بیٹھ بیٹھ کر چند سو روپے کماتا ہوں اور باقی سبزی گھر لے جاتا ہوں۔ اکثر چیزیں گل سڑ جاتی ہیں کیوں کہ موسم تبدیل ہو گیا ہے۔ اوپر سے گھر کے اخراجات۔ آخر میرا کیا بنے گا۔ اگر عوام نے اپنا رویہ نہ بدلا تو لاک ڈاؤن بڑھ جائے گا۔ میرے ساتھ ساتھ کئی دوسرے لوگوں کے گھروں میں بھی فاقے ہو جائیں گے۔ ایک سوال پر عمران نے کہا، بھائی جی۔ میں کچھ دنوں کے لئے روکھی سوکھی کھا لوں گا، مگر اس کے بعد کیا ہو گا؟ ہم لوگ تو گھروں میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔ خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یہ ایک عمران کی کہانی نہیں۔ اس وقت پورے ملک میں سفید ہوش طبقہ اور دیہاڑی داروں کی یہ حالت ہے، جس کی ذمہ داری کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن پر نہیں ڈالی جاسکتی، کیوں کہ عالمی وبا سے نا صرف پاکستان بلکہ درجنوں دیگر ممالک متاثر ہیں اور ہر ملک میں صورت حال اس سے مختلف نہیں۔ لاک ڈاؤن مجبوری ہے، کیوں کہ حکومت اگر ایسا نہ کرتی، تو آج صورت حال قدرے مختف نوعیت اختیار کر جاتی۔
عمران کی باتیں سن کر، میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ بازاروں اور سڑکوں پر جس طرح عوام ”دندناتے“ پھر رہے ہیں، گلی کوچوں اور چوراہوں میں جس طرح ”لاک ڈاؤن“ دیکھنے نکل پڑتے ہیں اور چھوٹے بچوں کو بھی موٹر سائیکل پر اپنے آگے بٹھا لیتے ہیں، کیا ہمارا یہ رویہ ہمارے اپنے اور اپنوں کے لئے درست ہے؟
حکومت اپنے تئیں اقدامات کررہی ہے۔ غریبوں کو احساس ایمرجنسی کیش اسکیم کے تحت پیسے دیے جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود عوام کی غیر سنجیدگی ہمیں سنگین صورت حال کی جانب لے کر جا رہی ہے۔
لاک ڈاؤن کے شروع کے چند دن، عوام میں ایک خوف تھا۔ ہر شخص کرونا وائرس کے متعلق گفتگو کرتے پایا گیا، مگر جیسے جیسے وقت گزرا، خوف کم ہوا اور آج یہ صورت حال ہے کہ لوگ کرونا وائرس کی خطرے کو یکسر نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ اکثر نے ماسک پہننا چھوڑ دیا ہے۔ سینیٹائزرز کا استعمال کم کردیا اور سب سے بڑی بات سیلف آئسولیشن اور سوشل ڈسٹنسنگ کے فارمولے پر عمل در آمد نہیں کیا جا رہا۔ اب تو تاجروں نے بھی مارکیٹیں کھولنے کی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ خدانخواستہ اگر مارکیٹیں زبردستی کھول لی گئیں تو حالات کس سمت جائیں گے۔ اس کے نتائج پھر عوام کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
عمران جیسے مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کے لوگ چند دن کی فاقہ کشی لیں گے، لیکن اگر عوام کی غیر سنجیدگی کے باعث صورت حال مزید خراب ہوئی، تو لاک ڈاؤن کا دورانیہ کئی ماہ تک بڑھ بھی سکتا ہے۔ ان حالات میں کرفیو بھی ناگزیر ہو جائے گا، کیوں کہ ہر روز پاکستان بھر میں مریضوں کے تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کے اتنے وسائل نہیں کہ طویل عرصے کے لاک ڈاؤن کو برداشت کر سکے۔ یہی بات وزیر اعظم بار بار عوام کو سمجھانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
اسپتالوں میں جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر سہولیات نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ گزشتہ روز ملتان سے خبر آئی ہے کہ تیس سے زائد ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف جو نشتر اسپتال میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا، وہ وائرس سے متاثر ہو گیا ہے۔ ان کے پاس حفاظتی کٹس اور دیگر سامان نہیں تھا۔ اگر ڈاکٹرز بھی محفوظ نہیں رہ پا رہے تو پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔
خدارا! حالات کی سنگینی کو سمجھیں۔ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ معاشی حالات بلاشبہ تنگ ہیں، گھروں میں دو کی بجائے ایک وقت کا کھانا کھا کر ہی گزارا کر لیں۔ آپ کی معاونت ہی سے اس موزی وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ وائرس لوکل سطح پر پھیلا اور پورے ملک کو بند کر دیا گیا اور یہ بندش کئی ماہ تک ہو، تب آپ کہاں جاؤ گے۔
ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں، کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ تو آج کچھ دنوں کے اپنی مصروفیات، اپنی تفریح، اپنا گھومنا پھرنا، لوگوں سے میل ملاپ، غیر ضروری کام، سب کچھ ترک کر دیں، تا کہ آپ ایک خوش گوار زندگی پھر سے پا سکیں۔ سارا پاکستان پھر سے کھل اٹھے گا اور وہ وقت زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ بس تھوڑا سا وقت اور لگے گا۔ بس تب تک ڈر جائیں، کرونا کا خوف دل میں بٹھا لیں۔ اور پھر دھڑلے سے کہیں: ہاں ہم ڈر گئے ہیں۔
اور خدارا اسی ڈر کو لے کر اپنے گھروں میں بیٹھیں تا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔


