آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں


ہمارے یہاں قصہ گوئی کی ایک تاریخ ہے۔ ہم برصغیر والوں کی تاریخ ایران عرب کی کہے بہ غیر مکمل نہیں ہوتی۔ عرب میں داستان گوئی کی روایت بڑی مضبوط رہی ہے۔ "لیلا مجنوں” سے برصغیر والے بھی واقف ہیں۔ ایران کے "شیریں فرہاد”، "رُستم و سہراب” سے لے کر کے "قصہ چہار درویش”، "طلسم ہوش رُبا” اور سیکڑوں اساطیر آج بھی ان کی داستان گوئی کے فن کی عظمت کا پتا دیتی ہیں۔

داستان سُننے اور داستان کہنے میں برصغیر کا قصہ گو کسی طرح بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ اس دھرتی کی ناٹک کی روایت بہت مضبوط رہی ہے۔ ہند سند کے باسی نوٹنکیوں کی شائق تھے، شائق ہیں۔ "مہا بھارت” سے لے کر "اندر سبھا”، کالی داس کی "شُکنتلا” تک، اور کالی داس سے لے کر کے لوک داستان ہِیر لکھے کے شہرت پانے والے دمودر، اور وارث شاہ تک۔ "سسی پُنوں”، "سوہنی منیہوال”، "نُوری جام تماچی”، یُوسُف شہر بانو” اور بے شمار لوک کہانیاں آج بھی زندہ ہیں۔ یہ کہانیاں نجی محفلوں کے علاوہ، میلوں ٹھیلوں میں رچنے والی نوٹنکیوں میں گا کے سُنائی جاتی تھیں۔

نوٹنکیوں نے جدید رُوپ دھارا تو اسٹیج سے امتیاز علی تاج، آغا حشر کاشمیری جیسے داستان گو طلوع ہوئے۔ پس یہ ثابت ہے، کہ برصغیر کے باشندے، قصے کہانیاں سُننا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہی پہ کیوں موقُوف، ہر خطے کے لوگ افسانہ سُننا چاہتے ہیں۔ شرط یہ ہے، کِہ سُنانے والے کو خاکے میں رنگ بھرنے کا ڈھنگ آتا ہو۔

 سو سال سے کچھ ہی برس اوپر ہوئے ہوں گے، کہ سنیما کی بنیاد پڑی۔ ایک طرف یہاں میلے ٹھیلے لگتے تھے جہاں منچ پر ناٹک رچتے۔ انھیں نوٹنکیاں کہا جاتا تھا۔ دوسری طرف سلولائیڈ کی ایجاد سے خاموش فلموں کا دور آ گیا۔ اول اول سنیما پر تھیٹر کے اثرات تھے۔ مغرب زرا جلد اور ہم نسبتہ زرا دیر سے روایتی تھیٹر کے اثرات سے باہر نکلے، لیکن ایک حد تک۔ قدیم نوٹنکیاں ہوں، یا جدید تھیٹر، موسیقی اس کا بنیادی جزو رہی ہے۔ ہماری لوک داستانیں بھی منظوم ہیں، جنھیں گا کے سُنایا جاتا تھا۔

ایک طرف فلم اور دوسری طرف ریڈیو جدید دور کی ایجادات تھیں۔ ان کے ہمارے معاشرے پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1932ء میں ہندستان کی پہلی بولتی فلم "عالم آرا” نے گویا روایتی تھیٹر کے لیے ایک اور مشکل کھڑی کر دی۔ آج فلم کی سو سوا سو سال کی تاریخ میں ہم کہاں کھڑے ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں، محسوس کر سکتے ہیں۔یہاں

 یہ بات ذہن میں رکھیے، کہ پاکستان کی تاریخ ہندستان کی تاریخ کا ذکر کیے بہ غیر نا مکمل ہے۔ ہماری فلم کی، ہمارے فنون کی تاریخ ایک ہی ہے۔

صدیوں سے قائم نوٹنکیوں، ماضی قریب میں فلم، ریڈیو اور بعد میں ٹیلی ویژن نے یہاں کے لوگوں کے مزاج، بُود و باش، طرزِ معاشرت، اندازِ فکر پہ اپنے نقوش ثبت کیے۔ جیسا کہ اداکاروں کی نقالی میں فیشن ٹرینڈ سیٹ ہونے لگے۔ یہاں اس نکتے کو واضح کرتا چلوں، کہ ریڈیو اور ٹی وی کی ابتدا سرکاری پروپگنڈے کی نیت سے ہوئی۔ مختلف حکومتوں نے اسے عوام کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا۔ اگر چہ آج بھی دنیا بھر میں پروپگنڈے کے لیے دیگر میڈیم کے ساتھ ساتھ فلم پر انویسٹ منٹ کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ عوام کو بے وقوف بنانے کو آج کی حکومتیں سوشل میڈیا کا ویسا ہی استعمال کر رہی ہیں، لیکن فی الحال ہم اس ٹاپک پر بات نہیں کرتے۔ ہمارا فوکس اسکرین پلے رائٹنگ اور اُس کی تکنیک پر ہونے جا رہا ہے۔

اس تمام تر تمہید کا مقصد یہ ہے، کہ فلم، ٹی وی کے ہر طالب علم کو اسٹیج، ریڈیو اور فلم کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، خواہ سرسری سا سہی، تا کہ وہ ماضی سے جُڑ کے، گزرے کل سے رہ نُمائی لیتے آگے بڑھے۔ ٹیلی ویژن اور فلم کے لیے لکھنے والے، اگر مغرب کی نقالی کرتے ہوئے، صدیوں سے چلے آ رہے برصغیر کے عوامی مزاج کو نظر انداز کرتے ہیں، تو وہ ٹھوکر کھاتے ہیں یہ دُرست بات ہے، کِہ فلم اور ٹی وی پروگرام کی تکنیک وہی ہیں، جو مغرب نے دریافت کیں، لیکن مشرق میں مشرق ہی کا متن، یا کانٹینٹ کار آمد ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے اردو غزل کی تکنیک عربی فارسی سے مستعار لی گئی، لیکن اگر غزل کے مضامین اس دھرتی کے نہیں ہیں، جس زمین پر شاعر کے قدم پڑتے ہیں، تو وہ ٖشاعری اور شاعر غیر متعلق ہو جائیں گے۔ پھل میں رنگ و خُوش بُو دھرتی کی ہوتی ہے، چاہے اُس پودے کو کہیں اور سے لا کے بویا جائے۔

افسانہ ہو، ناول، ریڈیو، ٹی وی پروگرام، یا فلم، لکھنے والے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے، کِہ جو داستان وہ سنانے چلا ہے، وہ کس کے لیے ہے؟ فلم، ٹی وی کی بولی میں اسے "ٹارگٹ آڈینس” کہتے ہیں۔ سُننے والے یعنی "ٹارگٹ آڈینس” کی علمی، ذہنی استعداد، فکری، شعوری سطح کیا ہے؟ اس کے مسائل کیا ہیں، اس کے دُکھ درد کیا ہیں۔ ہذا القیاس۔ داستان گو سامعین و ناظرین کی ذہنی سطح کا اندازہ نہیں کر پاتا، تو بہت ممکن ہے، وہ سامع کی توجہ حاصل کرنے میں نا کام رہے۔

دِل چسپی کیسے پیدا کی جاتی ہے، اور کیوں کر پیدا کی جا سکتی ہے، یہ مہارت سے سمجھ آتا ہے۔ دِل چسپی وہ پہلا عنصر ہے، جو پروفیشنل رائٹر کے ذہن میں ہر وقت ہونا چاہیے۔ جب آپ قصہ گوئی اور قصہ گو کی تاریخ پڑھیں گے، تو آپ کو معلوم ہو گا، قصہ گو، تماش بینوں کے نبض شناس تھے۔ آپ میں سے کسی نے وہ تماشے دیکھے ہوں، جو سڑک کنارے یونانی دوا بیچنے والے، یا بسوں، ٹرینوں میں منجن، ٹافی بیچنے والے پیش کرتے آئے، تو خیال رہے، فلم، ٹی وی کا کام اسی مداری کے تماشے کے مانند ہے۔ شو بِز سے متعلق افراد کو عوام کا نبض شناس ہونا ہے۔

ذہن نشین ریے، ٹی وی اور فِلم کاروبار ہے۔ اس پہ کسی کا سرمایہ لگتا ہے۔ دوسرے کاروبار کی طرح تاجر اپنے رقم کا تحفظ چاہتا ہے۔ اگر فلم میکر، ناظر کی توجہ نہیں حاصل کر پاتا، تو وہ اپنا فِلم نہیں بیچ سکے گا۔ بالکل اس مداری کی طرح، جو سڑک کنارے تماشا لگائے ہوئے ہے۔ چاہے اس کے تئیں اس کا سرمہ نا بیناوں کو بینائی عطا کرتا ہو، وہ مجمع لگانے میں نا کام رہا ہے، تو جادوئی سرمہ نہیں بیچ سکے گا۔

فلم میکر کا کام ٹوپی میں سے کبوتر نکال کے دکھانے کا سا ہے۔ مجمِع میں سب جانتے ہیں، ٹوپی میں سے کبوتر نکالنا، محض ہاتھ کی صفائی ہے۔ لیکن کرتب دکھانے والا، ایسے ہاتھ کی صفائی دکھاتا ہے، کہ تماشا گاہ تالیوں سے گونج اُٹھتا ہے۔ فلم کے پردے پر ہیرو کی موت ہوتی ہے، تو ہر آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے، جب کہ تماشائی خوب جانتے ہیں، یہ منظر حقیقی نہیں ہے، جھوٹ ہے، فسانہ ہے۔ فلم کے پردے پہ مرنے والا اداکار، در حقیقت زندہ ہے، اور فلاں شہر کی فلاں گلی میں رہتا ہے۔ لیکن قصہ گو، یعنی اسکرین پلے رائٹر، ہدایت کار، کیمرا مین، اداکار اور پورا عملہ مل کے سنیما کے پردے پر ایک ایسا طلسم پھونک دیتے ہیں، کِہ اداکار ہنسے تو تماشائی ہنستے ہیں۔ اداکار روئے تو تماشائی روتے ہیں۔

اگر ایسا نہیں ہوتا، تماشائی فلم کے بدلتے مزاج، سچو ایشنز کے ساتھ نہیں جڑ پاتے، تو یہ فلم کی نا کامی کہلاتی ہے۔
ایک اچھی یا بری فِلم کی بنیاد اسکرپٹ ہے۔ الفریڈ ہچکاک کا معروف قول ہے:
ایک بہ ترین فلم بنانے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہ ترین اسکرپٹ، بہ ترین اسکرپٹ، بہ ترین اسکرپٹ۔

بہ ترین فلم بنانے سے پہلے، بہ ترین اسکرپٹ تک پہنچنے کے مراحل کیا ہیں، انھیں ایک ترتیب سے سمجھتے ہیں۔

آئڈیا:

آئڈیا کیا ہے؟ خیال، سوچ، مرکزی نکتہ۔ آئڈیا بیان کرنے والے کے لیے قصہ گو ہونا شرط نہیں۔ آئڈیا کوئی بھی دے سکتا ہے۔ آئڈیا کہیں سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ اخبار کی کسی خبر سے، کسی واقعے کو دیکھ کے، کسی کتاب کو پڑھ کے، یا یوں بھی، کِہ آپ دوست کی عیادت کے لیے اسپتال گئے ہیں۔ نرس کو معلوم ہوتا ہے، آپ مصنف ہیں، تو وہ آپ سے کہتی ہے، آپ لکھنے والے، ہمارے مسائل کو موضوع کیوں نہیں بناتے؟ یہی کِہ ہم کیسے مجروح کے زخم پہ مرہم رکھتی ہیں، لیکن ہمیں سماجی طور پہ وہ عزت نہیں دی جاتی، جو دی جانی چاہیے۔ مصنف یعنی آپ کو یہ آئڈیا پسند آ جاتا ہے، آپ اس خیال پر کہانی منتخب کرتے ہیں؛ تو کہا جائے گا، اس کہانی کا آئڈیا اس نرس نے دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں

  • 16/04/2020 at 11:33 شام
    Permalink

    سر آپ کی تحریر بہت اچھی ہے یقینا لکجنئلکھنے والوں کےلئے رہنمائی ہے اس میں ۔لیکن سر نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے ۔بڑے رایٹرز چھوٹے رائٹرز کے آیڈیاز حتی کہ ان کی کہانی اور پورا پورا ناول چرا لیتے ہیں ۔لیکن ان کا چانس نہیں ملتا ۔چینلز نئے رائٹرز کا رسک نہیں لیتے ۔اس لیے اسے طرح کی رہنمائی بے معنی ہو جاتی ہے

Comments are closed.