مقصُود گل کی منفرد قلمی کاوش: سچّل سرمست کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ



مقصود گل کا شمار سندھ کے قادرالکلام شعراء میں ہوتا ہے، جنہوں نے شعر و سخن کے ساتھ ساتھ نثرکے میدان میں بھی اپنے قلمی کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے کالم نویس، افسانہ نگار، محقق، مترجم، صحافی، بچّوں کے ادیب، خاکہ نویس اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے اپنی نمایاں ادبی خدمات کی وجہ سے شہرت پائی۔ وہ شاعر ابنِ شاعر تھے۔ ان کی پیدائش، 70 برس قبل 15 اپریل 1950 ء کو لاڑکانے ضلع کے شہر ”رتودیرو“ میں ہوئی، جبکہ پانچ برس قبل، 14 فروری 2015 ء کو وہ کراچی میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

ان کی ادبی خدمات میں ایک بہت بڑا حوالہ حضرت سچّل سرمست بھی تھے۔ مقصود گل نے نہ صرف سچل سرمست کی سندھی اور سرائیکی شاعری کے مختلف پہلُووں پر تحقیق کر کے اپنے ادبی استاد پروفیسر ڈاکٹر عطا محمّد ”حامی“ کی ادبی تقلید کی، بلکہ سچل سرمست کی فارسی مثنویات کا منظوم اردو ترجمہ کر کے بھی سچل کے ساتھ ساتھ اپنے استادِ محترم کے ساتھ محبّت کا حق ادا کیا۔ جب ہم سچل سرمست کی فارسی شاعری کا ذکر کرتے ہیں، تو اس میں سچل کا ”دیوانِ آشکار“ اور ان کی مثنویات کا مجموعہ شامل ہے۔

سندھی زبان و ادب میں دسترس ہونے کے باوجُود جب تقریباً 1998 ء میں مقصود گل نے اس ترجمے پر کام شروع کیا، تو تب تک انہیں ادب سے وابستہ ہوئے 22 برس سے زائد گزر چکے تھے اور تب تک وہ سندھی ادب کو اپنی 6 کتب دے چکے تھے، مگر اس کے باوجود یہ ان کی اپنے کام کے ساتھ کمٹمنٹ اور اس کو بہتر سے بہترین، بلکہ کامل ترین کرنے کی کوشش تھی، کے انہوں نے اردو کے سینئر شاعر، پروفیسر محمود ”شرف“ صدیقی مرحوم کی شاگردی اختیار کی۔ خصوصاً اردو ادب کی رموز سیکھیں اور سچل کا جو کلام ترجمہ کرتے گئے، وہ شرف صاحب کو تصحیح اور مشورے کی غرض سے دکھاتے گئے۔ گوکہ بقول ”شرف“ صاحب کے اس کلام کو تصحیح کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی، مگر اس کے باوجود مقصود صاحب نے یہ ترجمہ کسی اردو دان کی نظر سے گزارنا لازم سمجھا۔

اس ترجمے کو ”عشق سمندر“ کے عنوان سے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور میں قائم سچل چیئر نے دو مرتبہ ( 2003 ء میں اور 2016 ء میں ) طبع کیا ہے، جو چیئر کی ”بیسٹ سیلر بک“ رہی ہے۔ جس کو اردو حلقوں میں بیحد پذیرائی ملی۔ پہلی بار اس کتاب کو سچل چیئر کے سابق ڈائریکٹر، پروفیسر الطاف اثیم نے شایع کروایا جبکہ اس کی اشاعتِ دوم کو چیئر کے سابق ڈائریکٹر، ایاز گل نے ممکن بنایا۔

”عشق سمندر“ میں سچّل سرمست کی 7 فارسی مثنویات کا منظوم اردو ترجمہ شامل ہے (جبکہ سچل نے کُل 9 مثنویات کہی ہیں۔ ) اس کتاب میں شامل مثنویات میں ”ساقی نامہ“، ”تار نامہ“، ”راز نامہ“، ”گداز نامہ“، ”عشق نامہ“، ”درد نامہ“ اور ”رہبر نامہ“ شامل ہیں۔ اس ترجمے کو مقصود گل اپنے مُربّی استاد، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمّد ”حامی“ کے نام منسوب کرتے ہوئے، انہیں اسی کتاب سے منتخب شدہ مندرجہ ذیل شعر کی صورت میں خراج پیش کیا ہے :

موج دریائے ازل سے آ گئی
کر کے سب اسرار ظاہر، چھا گئی
سندھی و اردو و فارسی و عربی و انگریزی کے معروف عالم، دانشور اور تاریخ نویس ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، اس کتاب کے حوالے سے ”عشق سمندر“ میں شامل اپنی رائے میں تحریر کرتے ہیں : ”جناب مقصود گل نے سچّل سرمست کی فارسی مثنویوں کا منظوم اردو ترجمہ پیش کرنے کی قابلِ قدر کوشش فرمائی ہے۔ یہ ترجمہ اتنا سلیس و عام فہم ہے کہ ہر پڑھنے والا اس کو آسانی سمجھ سکتا ہے۔ البتہ متوصّفانہ فکر کو سمجھنے کے لیے مزید استعداد کی ضرورت ہوگی۔ “

یہ ترجمہ کتنا سلیس اور قابلِ فہم ہے، آئیے! اس کا ذائقہ چکھ کے دیکھیں۔
”ساقی نامہ“ میں سچّل اظہار کرتے ہیں :
ساقیا! مجھ کو بنا کر رازدار
دُور کر دے خود نمائی کے خمار
ساقیا! مجھ کو بَتا اس کے رموز
راہرو جو ہو گیا جگ سے فنا
ساقیا! اس عشق سے آگاہ کر
درد سے اور راز سے ہمراہ کر
”تارنامے“ میں فرماتے ہیں :
مجھ کو بیخود کر رہی تیری صدا
دل کو موجیں بخشتی ہے برملا
تیری ہر آواز دے مستی مجھے
راز یہ تیرا نہیں ملتا کسے
نام نامی سب بُھلا دیتی ہے تُو
جام مئے جیسے پلا دیتی ہے تُو
درد کے افلاک سے آئی ہے تُو؟
مجلسِ عُشّاق سے آئی ہے تُو
”راز نامے“ میں راز افشائی کا انداز کچھ یوں ہے :
راز وحدت کا ہُوا ہے اب عیاں
جو حقیقت کا سراسر ہے بیاں
کون ہوں؟ میں کون ہوں؟ میں کون ہوں؟
سربسر اس بات پر حیران ہوں
یار سے مل، دُور ہو اغیار سے
ساتھ غیروں کے نہ رہتا یار سے
سالکا! مولیٰ کا طالب بن سدا
اپنے دل سے وہم دے سارے بُھلا
جبکہ ”گُداز نامہ“ میں اندازِ اظہار و بیاں کچھ اس ڈھب میں ہے :
گفتگُو میری نہیں ہے، یار کی
جستجو میری نہیں ہے، یار کی
نام ہے تحریر کا ”نامہ گداز“
جسم جاں پگھلائے اس نامے کا راز
عاشقوں کا کام ہے جلنا سدا
تُو بھی پیارے! اپنی ہستی کو مٹا
یار جلنے کے سوا ملتا نہیں
بن جلے، یہ راز پھر کھلتا نہیں
243 صفحات پر مشتمل اس کتاب ”عشق سمندر“ کی ستائش کے طور پر جناب مقصود گل کو سچل چیئر کی جانب سے خصوصی ایوارڈ، انٹرنیشنل صوفی فاؤنڈیشن ایوارڈ، اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے ایوارڈ اور بے پناہ تعریف و داد سے نوازا گیا۔ اس کتاب نے سچّل سرمست کے اردو جاننے والے شائقین کی پیاس بُجھانے کے لیے ایک ایسے چشمے کا کام کیا ہے، جو آنے والے وقتوں تک سچّل کے فارسی کلام کے اس ترجمے کی ضَو سے اردو قارئین کے دلوں کو روشن کرتا رہے گا اور توحید و معرفت کے جام کے پیاسوں کی پیاس بجھاتا رہے گا۔

Facebook Comments HS