احساس پروگرام کے نام کی تبدیلی پر اعتراض کیوں؟

کل سے کچھ لوگ جو دانشور بھی ہیں اور کچھ سیاسی پارٹی کے کارکن یا سپورٹرس ہیں وہ ایک بے وجہ شور مچا رہے ہیں کہ احساس پروگرام کا نام تبدیل کر کے وفاقی حکومت نے کوئی بڑا جرم کردیا ہے۔

آخر یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کسی بھی سیاسی و روحانی شخصیت کے نام پر عوام کو عوام کے ہی پیسے دے کر احسان گنوانا بڑا جرم ہے۔

معذرت کے ساتھ کہ جو بے نظیر انکم سپورٹ کے نام پہ پیسے دیے جاتے تھے وہ کیا آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری کے ذاتی اکاؤنٹس سے آتے تھے؟ وہ پیسے بھی عوام کے ادا کیے ہوئے کھربوں روپے کے ٹیکس کی رقم سے دیے گئے۔ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ہی ٹیکس دیتے ہیں۔ پیٹرول و ڈیزل کے ہر لٹر پر 80 روپیہ ٹیکس ہے جو کرایے کی صورت میں ڈھائی سے تین سو روپیوں تلک عوام کو دینا پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی زیادہ بڑھ جاتی ہے اور عوام کو 17 روپیوں کا ٹیکس 170 میں دینا پڑتا ہے اور وہ پیسے ہی ہیں جس پر حکمران طبقات اور بیوروکریسی عیاشیاں کرتی ہے اور ان ہی عوام کے پیسوں سے درباری دانشوروں کو مراعات کی صورت میں خوشامد کی تنخواہ ملتی رہتی ہے۔ اور وہ چیختے رہتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت نے غریب طبقے کے لیے کیا اقدام اٹھائے ہیں۔ کیا ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو تحفظ کے لیے لباس دیا ہے؟ کیا دس بارہ کروڑ کا میڈیکل لباس میڈیکل اسٹاف کے بجائے وڈیروں کو دینا انصاف اور انسانیت ہے؟

کوئی حساب نہیں مانگتا کہ صابن، سینیٹائیزر کے لیے کتنے پیسے سندھ حکومت نے خرچ کیے اور یونین کاؤنسل کے چئرمینوں نے ہر گھر تلک وہ فراہم کیے یا نہیں؟

سرکاری ملازموں کی تنخواہ کاٹ کر جو اربوں روپے جمع کیے گئے ان کا حساب بھی دینا چاہیے؟
روزانہ تین سو ٹیسٹ کر کے وہ اس عفریت جیسی وبا کا خاک مقابلہ کریں گے؟
وزیراعلیٰ سندھ کہتا ہے کہ اگر پسماندہ طبقات اور پسماندہ علاقوں میں وائرس پھیل گیا تو ہماری میڈیکل سروس کی صلاحیت جواب دے جائے گی۔

اگر ایسا ہی ہے تو جناب سندھ کے لوگوں کو پسماندہ کس نے رکھا ہے؟ کس نے سندھ میں جاگیرداروں اور وڈیروں کی حکومت اور ریاست کے اندر ریاست قائم کی ہے؟ سندھ میں اکثر وقت حکومت تو پ پ کی تھی اس نے صوبے کا یہ حال کیوں کیا؟

اصل میں آفات اتنی نقصان دہ نہیں ہوتیں مگر حکمران طبقات کی کرپشن و استحصال کی وجہ سے ہی زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

سندھ حکومت نے صوبے کی محنت کش عوام کے لیے ایک مہینے میں راشن یا مالی امداد کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔

صرف لاک ڈاؤن پر زور دیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن بہت ہی ضروری ہے مگر عوام کے دیگر مسائل بھی تو ہیں اور سندھ حکومت کی ذمے داری بلکہ جوابدہی بھی ہے۔

احساس پروگرام کے نام سے خائف جو حضرات و خواتین دانشور چیخ رہے ہیں وہ یہ کیوں نہیں تسلیم کرتے کہ لاکھ کرپشن اور خرابیوں و نالائقیوں کے باوجود کم از کم عمرانی حکومت کا یہ قدم منصفانہ اور شفاف ہے۔ ایک آسان سا طریقہ ہے کہ پاکستان کا ہر مستحق شہری جو سرکاری ملازم یا خطیر رقم کا اکاؤنٹ ہولڈر نہیں ہے وہ اس احساس پروگرام کا اہل ہے۔ اس طرح لاکھوں غریب لوگوں کو سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

اس وقت وفاقی حکومت کے اس قدم کو سراہنا چاہیے اور اس کو فالو کر کے بغیر کسی بلاول یا آصف کے نام رکھنے کے حکومت سندھ کی جانب سے ایسا ہی شفاف پروگرام سندھ حکومت کو بھی فوری طور لانچ کرنا چاہیے۔ جو سندھ میں لاکھوں خاندان خانہ بدوش ہیں ان کو خوراک اور پانی رہائش کے لیے خیمہ بستیاں سرکاری و نجی زمینوں کو تحویل میں لے کر فراہم کی جائیں۔

آپ احساس پروگرام پر نام کی تبدیلی کی وجہ سے آسمان سر پر اٹھا رہے ہو۔ آپ یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر فارم مستحق لوگوں کے بجائے وڈیروں ایم پی ایز ایم این ایز کے کوٹے پر دیے جاتے تھے اور اس کے بدلے ووٹ مانگے جاتے تھے۔

پیپلز پارٹی کی سیاست کا محور ہی یہ انکم سپورٹ پروگرام رہا ہے۔ وہ لوگوں کی غربت اور مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دیدہ دلیری سے ووٹ مانگتی ہے اور پریشان بھی کرتی ہے کہ یہ پیسے ہم بند کردیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کو بیروزگاری الاؤنس اور دیگر فنڈ کسی سیاسی شخصیت کے نام اور کسی سیاسی وابستگی کے شرط کے بغیر سماجی بحالی اور فلاحی پروگرام کے نام دیے جائیں اور ہر مستحق اس سے مستفید ہو سکے مگر المیہ یہ تھا کہ پ پ کے جیالے اومنی شاپس اور بئنکوں پر غریبوں کو دھمکاتے رہتے ہیں کہ یہ پیسے زرداری صاحب کا قرضہ ہیں اور پ پ کی سپورٹ نہ کرنے پر ہم بند کردیں گے۔

سابقہ وزیراعلیٰ سندھ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جن خواتین نے پوری زندگی میں سو روپے نہیں دیکھے ہم نے انہیں 1500 اور 3000 روپے دیے۔ اس پروگرام کا ناجائز سیاسی فائدہ جتنا پ پ نے اٹھایا اتنا ملک کی کسی دوسری سیاسی پارٹی نے نہیں اٹھایا۔ عوام آج پوچھتے ہیں کیا یہ پیسے زرداری یا بھڻو فیملی کے ذاتی اکاؤنٹس سے آئے تھے؟

ننگرپارکر سے لے کر گھوٹکی کی عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ کا احسان یاد دلا کر دھمکایا جاتا تھا۔ خود یہ بے نظیر انکم سپورٹ کتنا شفاف تھا؟

خدارا ہوش کے ناخن لو یہ وبا دنیا کو الٹ کر رکھ دے گی۔ عوام کو اب زیادہ بے وقوف نہیں بنایا جاتا۔ دراصل اس وبا کے نتیجے میں جو عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں وہ عوام کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ آپ کے پاس صرف وعدہ تھا جو گزشتہ چالیس سالوں میں عوام کو بے وقوف بناتے رہے مگر آج وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔ آج عوام عمل دیکھتے ہیں ڈرامے نہیں۔

عوام کے سمندر سے کھیلنے کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوں گے اور اس وبا کے بعد انسانوں کا پورا سمندر جہاں ایک دوسرے سے الگ ہو گیا ہے وہاں ایک دوسرے سے درد کے رشتوں میں مل جل سا گیا ہے اور انقلاب ہی نہیں ارتقا کا بھی لمحہ آ پہنچا ہے سب تخت و تاج اپنی اپنی خیر مانگیں۔ پہلے کی طرح سمندر پر قذاقوں کا کنٹرول نہیں رہا ہے اور ہر لمحہ انہیں گھیرتا جا رہا ہے۔ اس بپھرے سمندر سے سب حکمران طبقات کے بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ وبا تو خیر اک بہانہ تھی اور گزر بھی جائے گی مگر جو وبا کے بعد کی دنیا ہزاروں سالوں تک کا سفر کچھ لمحوں، کچھ دنوں اور کچھ مہینوں میں ہی کر گزرے گی جو عام حالات میں صدیوں میں بھی ممکن نہیں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words