کرونا کو شکست دینے کا انتہائی روایتی طریقہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر! پچھلے چند سالوں میں ان دنوں ہم سب پاکستانی ڈینگی مچھر سے اس قدر خوف زدہ ہوا کرتے تھے کہ اس سے بڑی آفت کا تصور ہی محال تھا۔ اخبارات، نیوز بلیٹن، خواتین کی الوداعی گفتگو ہو یا اپوزیشن کے الزامات کچھ بھی ڈینگی کے ذکر کے بغیر نا مکمل تھا۔ لیکن اب کرونا نے ایسی آفت مچائی ہے کہ ڈینگی کا سیزن تو آگیا ہے مگر ڈینگی کا کوئی اتا پتا نہیں۔ رات جب بہت کوشش کے بعد بھی نیند مہربان ہونے کو تیار تو ہم نے سوچا کہ قوم کہ وسیع تر مفاد میں کھوج لگایا جائے کہ آخر ڈینگی کی کوئی خیر خبر کیوں نہیں آرہی۔

معمولی سے غور و خوض کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈینگی کو شکست فاش دی جا چکی ہے۔ (نام دیکھا ہے۔ ڈینگی ڈینگو۔ جیسے کوئی منہ چڑا رہا ہو۔ مچھر کو اپنا یہ نام پتہ چلے تو شرم سے ہی فوت ہو جائے۔ ) اور ڈینگی کی اس شکست کا باعث کوئی اور نہیں کالج اساتذہ ہیں۔ باقی محکموں کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن کالج اساتذہ کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ ان سے ان کی بطورمعلم کارکردگی کے حوالے سے کوئی باز پرس ہو نہ ہو ڈینگی کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نظرانداز نہیں کی جاتی تھی بالخصوص بیالوجی کے پروفیسر۔

کالج پہنچتے ہی کالج میں جاری ڈینگی کے سدباب کے حوالے سے جاری سرگرمیوں کی تصویری روداد اپ لوڈ کرنا بیالوجی کہ پروفیسر کی اولین ذمہ داری شمار ہوتی تھی۔ اگر چند دن مسلسل تصویریں اپ لوڈ نہ ہو تو بڑی سرکار کے دربار میں حاضری یقینی۔ کالج میں جاری نصابی سرگرمیوں کو روک کر ڈینگی کے متعلق سیمینار کا انعقاد ہو، ڈینگ کے متعلق پینا فلیکس آویزاں کرنا ہویا ڈینگی ڈسک کا قیام۔ ہم نے ان تمام اقدامات کو ہمیشہ خانہ پری ہی سمجھا۔

لیکن آج ڈینگی کی (اپنی) تباہی دیکھ کر اپنے پچھلے تصورات سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ لہذا ہم حکومت سے التماس کرتے ہیں کہ اگر وہ واقی کرونا کا رونا نکالنے میں سنجیدہ ہے تو فی الفور کالجز کھولنے کا اعلان کرے۔ ویسے بھی پطرس بہت پہلے کالجز کو طلبا سازی کے کارخانے قرار دے چکے ہیں۔ جہاں اتنا کچھ کھلنے کا اعلان کردیا گیا ہے وہاں یہ صنعت بھی کھل جائے تو کرونا کی ایسی کی تیسی ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ صبح سویرے پروفیسر حضرات ہاتھوں میں سینیٹائزر لئے طلبا کے منتظر ہوں گے۔

کلاسز کو ڈس انفیکٹ کرنے کی تصویریں 9 بجے سے پہلے اپلوڈ کرنا ہوں گی۔ کالج میں جا بجا کرونا کی کریہہ صورت تصاویر والے پینا فلیکس آویزاں ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ طالبات ماسک پہن کرکالج آئیں گی تو بہت سی معاشرتی برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی اور میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والیوں کو ایسا صدمہ پہنچے گا کہ اگلے سال عورت مارچ کا انعقاد ہی خطرے میں پڑ جائے گا (سوچیں کتنا بڑا فتنہ ختم ہو جائے گا اور ہماری صنف کرخت کو اپنی توانائیاں کہیں اور لگانے کا موقع ملے گا) کرونا کے حوالے سے نصابی سرگرمیاں روک کر سیمینار کا انعقاد کرنا۔ ان تمام کارروائیوں کے بعد کرونا ایسے دم دبا (مجھے بھی لگتا ہے ہو نہ ہو کرونا بھی ایک کیڑا ہی ہے جو کئی دوسرے کیڑوں کی طرح ڈھیٹ بنا ہوا ہے ) کر بھاگے گا جیسے ڈینگی منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔

آپ کو میری یہ باتیں مضحکہ خیز معلوم ہو رہی ہوں گی۔ واللہ ان میں رتی برابر بھی مبالغہ نہیں۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو میں مزید مثالیں بھی دے سکتی ہوں۔ نیب کو ہی لے لیں نیب نے ملک سے کرپشن کے سدباب کے لئے کالجز میں تقاریر، خاکوں، مصوری، خطاطی وغیرہ کے مقابلوں کے انعقاد کا اہتمام کر رکھا ہے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر ان مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آج تک آپ نے کسی کالج کے طالب علم کو نیب کی پیشیاں بھگتتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔

جس ملک میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے لے کر سابق وزیراعظم (سابق ہونا ضروری ہے ) تک نیب کی پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہوں وہاں طلبا کا مالی (اخلاقی کرپشن کے سد باب کے لئے فی الحال کسی محکمے کے وجود سے میں لاعلم ہوں ورنہ ہمارے عزت مآب نیب کے چیئرمین کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ان کا خود زیر تفتیش ہونا لازمی تھا) کرپشن سے پاک ہونا کوئی معجزہ نہیں بلکہ نیب کی جانب سے کروائی جانے والی یہی سرگرمیاں ہیں جو نصابی سرگرمیاں چھوڑ کر کالج کے پروفیسرز حضرات کو منعقد کروانا ہوتی ہیں۔

آپ اب بھی قائل نہیں ہوئے۔ ایک اور مثال حاضر ہے۔ ہم نے آج تک اپنے کالج کی کسی طالبہ کو نشے کا عادی نہیں پایا (دوران لیکچر ٹن ہوجانا الگ بات ہے ) اب یہ مت کہیے گا کہ ایسے پسماندہ علاقے کی لڑکیاں اگر چائے کے نشے کا شکار ہو جائیں تو بھی بڑی بات ہے۔ نشے کی اس لعنت پر ہم نے کیسے قابو پا رکھا ہے؟ وہی سیمینار، پینا فلیکس تقریریں اور ڈرامے۔ میرا مطلب ہے خاکے اسکٹ وغیرہ۔ ہر مہینے باقاعدگی کے ساتھ نصابی سرگرمیوں کو معطل کرکے ان تمام ہم نصابی سر گر میوں کا انعقاد یقینی بنایا جاتا ہے۔

لہذا اوپر بیان کردہ تمام امثال یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اگر واقعی کرونا کا خاتمہ چاہتی تو فی الفور کالجز کی چھٹیاں منسوخ کر کے مندرجہ بالا سرگرمیوں کا انعقاد یقینی بنائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ایک روایتی معاشرہ ہیں۔ یہاں کوئی غیر روایتی سرگرمی (یہی لاک ڈاون وغیرہ) اپنا رنگ نہیں جما سکتی چاہے ہم خود نیلے نہ پڑ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سمیرا انجم کی دیگر تحریریں

One thought on “کرونا کو شکست دینے کا انتہائی روایتی طریقہ

  • 17/04/2020 at 11:04 pm
    Permalink

    Doc sahiba itne durrrr ki koori app he laa sakte the….shandar koshish

Leave a Reply