کرونا کی وجہ سے دنیا میں تبدیلیاں اور ہم

پوری دنیا میں ایک نئی تبدیلی کی لہر نے جنم لیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کرونا جیسی موذی وبا کا شکار ہو گئی۔ دنیا کی کوئی بھی سپر پاور بھی اس کے آگے ٹک نہ سکی اور اس موذی جان لیوا بیماری نے پوری دنیا کو مقبوضہ کشمیر بنا دیا اور جیسے بھارتی ظالم افواج نے ان کشمیر کے مظلوموں کو بند کیا اسی طرح اس وبا نے پوری دنیا کو ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک بند کر دیا اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ وبا جانے کے بعد کیا نقوش چھوڑ کر جائے گی یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ پوری دنیا اس سے شدید مندی کا شکار ہو گی اور پوری دنیا کی معاشی حالت تباہ ہو جائے گی لیکن اس سب میں ایک دفاعی نقطہ نظر بھی ہے جو اس وبا کے جانے کے بعد دنیا کی سپر پاور کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہی نہ کردے
امریکہ اور برطانیہ بشمول یورپ کے کئی اور ممالک اس سے اب تک شدید متاثر ہوئے ہیں۔ امریکہ ابھی سے چین پر شکوک و شبہات کا اشارہ دے رہا ہے اور دنیا کے کئی اور ممالک بھی چین کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ بہت سارے ممالک اس قدرتی بیماری کی بجائے اس کو چائنا کا وائرس گردانتے ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ اس وبا کو پوری دنیا میں عام کرنے میں نہ چاہتے ہوئے بھی چین کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
یہ ایک مفروضہ بھی ہو سکتا ہے اور سچ بھی۔ یہ چائنا کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش بھی ہو سکتی ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑھ رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم اس کو قدرت کا امتحان ہی سمجھتے ہیں لیکن شاید مغرب اس پر یقین نہیں کرتا ہے۔
چین اس معاملے پر ابھی تک چپ سادھے ہوئے ہے لیکن کب تک؟ شاید وہ اس کا جواب اس وبا پر قابو پانے کے بعد دے گا لیکن کیا تب تک ا امریکہ چپ کر کے بیٹھے گا؟
نہیں ایسا نہیں ہو گا اس وقت امریکہ کے اندر نئے الیکشن کی تیاری ہو رہی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بیماری کے علاوہ بھی اور سیاسی مشکلات کا سامنا ہے وہ کسی صورت بھی اپنی پوزیشن کو کمزور نہیں کرے گا۔
امریکہ کو جو کامیابی افغان طالبان سے امن مذاکرات پر ملی تھی وہ شاید اس وبا نے واپس چھین لی ہے اس کی سپر پاور کا نشہ ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ جیسی سپر پاور بے بس دکھائی دیتی ہے
واشنگٹن اس بات پر حیران ہے کہ چین جس میں اس وبا نے جنم لیا اس میں اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں جتنی امریکہ میں اب تک ہو چکی ہیں اور اب باقاعدہ طور پر اس کے خفیہ ادارے چین کے خلاف اپنی معلومات جمع کر رہے ہیں۔
یہ جنگ تو ماضی قریب میں جاری تھی، ایک دوسرے کی معیشت کو تباہ کرنے کی جنگ۔ لیکن اب اس تباہی میں کردار تبدیل ہو گیا ہے یہ کردار ان دیکھا ہے اور اب تک وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں جس نے بھی اس کردار کی مدد کی یا اس کی معلومات پوشیدہ رکھی اس نے پوری دنیا سے دشمنی کی اور اس کا خمیازہ اس کو قدرت کی طرف سے بھگتنا ہو گا۔
اس سارے معاملے میں بیالوجیکل جنگ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ماضی میں یہ دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف اس قسم کے الزامات پہلے ہی لگا چکی ہیں۔ لیکن اب کی بات ان کی نہیں اب پوری دنیا اس وائرس کی لپیٹ میں ہے اور اب اس کا کنٹرول کسی کے ہاتھ میں نہیں سوائے اللہ پاک کے۔ اور وہی اس میں سب کو محفوظ رکھے گا۔
یہ تبدیلیاں کوئی اچھی نہیں اور اس کا نقصان شاید ہمارے جیسے غریب ممالک کو زیادہ ہو گا کیونکہ پاکستان تو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے اور اب اس کے بعد تو ہماری معیشت کو شدید اور بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ ان دونوں ممالک کی کشمکش کا نقصان ہمیں بھی ہوگا کیونکہ امریکہ پہلے ہی چین کے ساتھ ہمارے قریبی روابط پر خوش نہیں۔
لیکن اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ اس مشکل وقت میں یہ ممالک سیاست کی بجائے انسانیت کی بھلائی کے فیصلے کریں گے۔ اسی میں پوری دنیا کی بھلائی ہے۔

