الخدمت کی خدمت اور سیاسی المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


نوول کورونا کووڈ 19 کی عالمی وبا 210 ملکوں، ریاستوں اور علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لینے، اکیس لاکھ لوگوں کو اپنا اسیر بنانے کے بعد سوا لاکھ قیمتی زندگیوں کے خون سے اشنان کر چکی ہے مگر اس کی ہوسِ خون ہے کہ مٹنے تو دور، تھمنے میں بھی نہیں آ رہی۔ کوئی دن نہیں گزرتا کہ جب بری سے بری خبر سننے کو نہ ملے۔ کئی ممالک نے تنگ آ کر اب لاک ڈاؤن کی کیفیت کو گھٹانا اور ختم کرنا شروع کر دیا ہے، اب دو ہفتوں بعد کیا ٹریلر دیکھنے کو ملے گا، پوری دنیا دم سادھے اس کی منتظر ہے۔

دوسری جانب تمام ممالک کی حکومتیں ہیں جو اپنے اپنے تئیں کام تو کر رہی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ غیر محسوسانہ انداز میں ہاتھ بھی کھڑے کر چکی ہیں، ایسے میں ذمہ داری نجی شعبے اور خود عوام کے اپنے کاندھوں پر آن پڑی ہے۔ وزیراعظم پاکستان اس وقت ترقی یافتہ ممالک اور اوور سیز پاکستانیوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ یہ کوئی زلزلہ یا سیلاب کی آفت نہیں، جس نے کسی مخصوص علاقے یا خطے کو اپنا نشانہ بنایا ہو، یہ وہ آفت ہے، دنیا کی نوے فیصد سے زائد آبادی جسے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ ملاحظہ کر رہی ہے، کسی کو نہیں پتا یہ اگلے لمحے کیا کروٹ لے لے، وہ ممالک جو آج ہمیں ترقی یافتہ نظر آ رہے ہیں، کچھ بعید نہیں کہ کورونا کے باعث یہ ہمیں ہماری جگہ پر کھڑے نظر آئیں اور ہم کہیں پیچھے جا چکے ہوں۔ اس وقت اوور سیز پاکستانیوں کی حالت بھی پتلی ہے اور کئی ممالک نے تو باقاعدہ طور پر ڈاؤن سائزنگ بھی شروع کر رکھی ہے، جہاں ڈاؤن سائزنگ نہیں ہو رہی وہاں تنخواہوں پر کَٹ لگایا جا رہا ہے، لہٰذا یہ وقت اوور سیز کی طرف دیکھنے کا نہیں بلکہ اپنے زورِ بازو کو مصرف میں لانے کا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں پر بے شمار نجی فلاحی تنظیمیں کام کر رہی ہے، بے شمار سیلیبرٹیز اپنے اپنے طور پر رفاہی کاموں میں مصروفِ عمل ہیں۔ جو تنظیم ان دنوں میں سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے وہ ”الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان“ ہے۔ اگرچہ الخدمت کا شمار پاکستان کی سب سے پرانی فلاحی تنظیموں میں ہوتا ہے اور اسے اندرون و بیرونِ ملک لوگوں کا اچھا خاصا اعتماد اور بھروسا بھی حاصل ہے جس کے سبب یہ خیبر سے کراچی تک اور گوادر سے خنجراب تک ہر جگہ موجود ہے مگر اس کا جو سب سے بڑا المیہ ہے وہ اس پر جماعت اسلامی کی مخصوص چھاپ ہے۔

حالانکہ الخدمت والے خود ہر جگہ پر اپنی الگ شناخت کے قائل ہیں اور کھلے عام جماعت سے اپنی وابستگی کی تردید کرتے ہیں مگر جماعت اسلامی اس کا وہ کمبل ہے جو اتارے نہیں اتر رہا۔ اگرچہ میں جماعت اسلامی سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں رکھتا مگر جتنا مجھے الخدمت کے دوستوں کے ذریعے الخدمت کو جاننے کا موقع ملا، اس کی روشنی میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ دنوں میں الخدمت کو جماعت اسلامی نے پوری طرح ”اغوا“ کر لیا ہے۔ اس وقت الخدمت کے تمام کاموں کا کریڈٹ جماعت اسلامی اور سراج الحق صاحب لے رہے ہیں جبکہ الخدمت کو ہر جگہ جماعت کے زیر اثر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

کورونا کے بعد الخدمت کے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ اس بار الخدمت خصوصی طور پر یہ اسٹرٹیجی اپنا رہی ہے کہ بلاتفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل ہر کسی کی خدمت کرے، جو درحقیقت اس تنظیم کا ماٹو بھی ہے، اسی لیے منادر، گوردواروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں اور اقلیتی طبقات کو خصوصی طور پر ترجیح دی جائے گی۔ اس سب کام کا مقصد الخدمت پر لگی جماعت کی چھاپ مٹانا تھا، مگر ہوا کیا؟

دو دن پہلے جو مجھے الخدمت کے دوستوں نے بتایا، وہی سب کچھ سراج الحق صاحب نے ٹویٹ کر دیا کہ ہم یہ یہ اسٹرٹیجی اپنا رہے ہیں اور میں نے ’الخدمت کو خصوصی ہدایت‘ کی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جماعت اسلامی کے امیر کی الخدمت کے رضا کاروں کو ہدایت۔ چہ معنے دارد؟

مجھے الخدمت کے آفیشلز کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ یہ سب اعلانات الخدمت کے صدر جناب عبدالشکور صاحب باقاعدہ پریس کانفرنس میں کریں گے، مگر اس سے پہلے ہی سراج صاحب کا ٹویٹ آ گیا، پھر الخدمت نے اپنے دس ہسپتالوں کے وینٹی لیٹرز اور وہاں بنائے گئے آئیسولیشن وارڈز حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا، پنجاب اور سندھ میں کچھ قرنطینہ سنٹرز بنائے، ان کے افتتاح وغیرہ کے موقع پر بھی الخدمت کی جگہ سراج الحق صاحب، لیاقت بلوچ صاحب اور جماعت اسلامی کی دوسری قیادت ہی نظر آئی۔

میڈیا سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ رمضان المبارک یا ایسے خصوصی مواقع پر رفاہی تنظیموں سے وابستہ افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح چینلز میں کوئی پروگرام سلاٹ مل جائے اور ان تنظیموں کو اپنا موقف اور اپنی خدمات عوام تک پہنچانے کا موقع مل جائے، اس بار یہ دیکھ کر بھی حیرانی ہوئی کہ جتنے بھی پروگراموں میں الخدمت کا ذکر ہوا، وہاں بجز معدودے چند، الخدمت کا موقف ”الخدمت کی جیکٹ پہنے“ جماعت اسلامی کے لوگ بیان کر رہے تھے۔

الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے نائب صدر اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) سندھ کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کورونا مریضوں کا علاج کرتے خود کورونا کا شکار ہو کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے تو ان کی شہادت پر بھی جماعت والے ہی ”سیاست“ کرتے نظر آئے۔

اس وقت الخدمت جو ڈائیگناسٹک سنٹرز بنا رہی ہے جہاں کورونا کے ٹیسٹ کی سہولت میسر ہوگی، اگلے چند دنوں میں دیکھیے گا، ان کا افتتاح بھی جماعت اسلامی کے وہی لوگ کریں گے جن کی سیاست بری طرح پٹ چکی ہے اور جو سیاسی طور پر بالکل آؤٹ ہو چکے تھے مگر کورونا میں الخدمت کی خدمت نے انہیں پھر اِن کر دیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل مجھے دو ایک پاکستانی اداروں کے بارے میں خبر ملی تھی جنہوں نے الخدمت کی مالی اعانت سے ہاتھ اس وجہ سے کھینچ لیا تھا کہ الخدمت پر ”سیاسی چھاپ“ لگی ہوئی ہے، چند عالمی ادارے بھی اسی وجہ سے الخدمت کی جانب دستِ تعاون نہیں بڑھا رہے کہ الخدمت ایک سیاسی جماعت کی ”ذیلی تنظیم“ ہے، اور الخدمت ہر جگہ یہی وضاحت دیتی ہے کہ الخدمت کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ویسے بھی اگر مولانا مودودی نے اس کی بنیاد رکھی یا قاضی حسین احمد نے اسے موجودہ شکل دی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہمیشہ جماعت اسلامی کی طفیلی تنظیم ہی بنی رہے گی اور جماعت اسلامی کے رہنما ہی ہمیشہ اس کا کریڈٹ لینے کو موجود رہیں گے؟

اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ بہت سی جگہوں پر جماعت اسلامی سے وابستہ افراد ہی الخدمت کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں مگر اس سے پہلے ان پہ یہ ذمہ داری عائد کی جاتی ہے کہ وہ سیاست کو بیچ میں نہیں لائیں گے اور سیاسی بنیادوں پر نہیں، میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ پھر جماعت اسلامی کے لوگ تو یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ الخدمت کا ایک الگ نیٹ ورک اور طریقِ کار ہے جس کا کریڈٹ جماعت نہیں لے سکتی مگر کیا کریں، یہ کارزارِ سیاست ہے جہاں الخدمت کے 20 ہزار رضاکاروں پر جماعت اسلامی کے 20 لوگ بھاری ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *