آزادی صحافت اور انسانی ترقی میں کیا رشتہ ہے؟


Amartya Sen

پریس کا تحفظاتی کردار تسلیم کیا جانا چاہیے بلکہ اس پر اصرار کیا جانا چاہیے۔ جب حالات معمول پر ہوں اور کوئی ہنگامی صورتحال لاحق نہ ہو تو پریس کا یہ کردار زیادہ نمایاں نہیں ہوتا لیکن جب حالات سنگین ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ پریس انسانوں کا تحفظ کرنے میں کس قدر بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مشرق ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے حالیہ معاشی بحران یہی کہانی سناتے ہیں۔ ان کے اقتصادی بحران کی بہت سی وجوہات میں ایک یہ بھی تھی کہ وہاں آزادیاں محدود تھیں۔ سب سے بڑھ کر وہاں صحافت کو مکمل آزادی حاصل نہ تھی۔ جب 1997 ءمیں ان کا مالیاتی بحران ایک خوفناک قسم کے معاشی بحران کی شکل میں سامنے آیا تو احساس ہوا کہ جمہوری آزادیوں کی تحفظاتی قوت کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ آزادی صحافت قحط جیسی آفتوں میں ہی نہیں، معاشی بحرانوں میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے اقتصادی بحران میں جائیدادوں، کاروباروں اور گھروں سے محروم ہونے والوں کی آواز اٹھانے والا کوئی نہ تھا۔ انڈونیشیا یا جنوبی کوریا میں بے روزگار ہونے والے لوگ جمہوری آزادیوں کی قدر و قیمت اس وقت محسوس نہیں کر سکتے تھے جب یہ ملک اقتصادی اعتبار سے روز افزوں ترقی کر رہے تھے۔ لیکن معاشی انحطاط میں جب سماجی تضادات واضح ہوئے (جیسا کہ معاشی بحرانوں میں اکثر ہوتا ہے ) تو جمہوری آزادیوں خصوصاً آزادی صحافت کی غیر موجودگی کے سبب شہریوں کی آواز غیر موثر ہو گئی۔

یہی وجہ تھی کہ اقتصادی بحران کے دوران اور بعد میں شہری اور جمہوری حقوق کے مطالبات اٹھائے گئے۔ ان ممالک کے شہریوں کے حالیوں احتجاجوں میں انہی مطالبات کی بازگشت سنی گئی۔ جس کے بعد جنوبی کوریا اور انڈونیشیا سمیت اس خطہ کے کئی ملکوں میں جمہوری آزادیوں کی سمت موثر اور بامعنی پیش رفت ہوئی۔

جمہوری اور شہری حقوق میں آزادی صحافت مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ دوسری طرف سماجی اقدار کے بامعنی اور مثبت ارتقا کے لیے بھی ضروری ہے کہ معاشرتی مسائل پر درست معلومات پر مبنی غیر جانبدار بحث و مباحثہ جاری رہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس مقصد کے لیے آزادی صحافت بنیادی ضرورت ہے۔ سماجی قدروں کا ارتقا بڑے پیمانے پر تبادلہ خیال کے بغیر ناممکن رہتا ہے اور تبادلہ خیال آزادی اظہار کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً چھوٹا خاندان یا پیدائش میں وقفہ جیسی حالیہ سماجی اقدار کا فروغ تبھی ممکن ہے کہ لوگ اس مسئلہ پر گفت و شنید کریں اور ہر قسم کی رائے بلا روک ٹوک منظر عام پر آ سکے۔

حتیٰ کہ ”بنیادی ضرورت“ کا تصور بھی آزادی صحافت کے بغیر جامد ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ ”بنیادی ضروریات“ کیا ہیں اور ان کی ترجیحات کیاہیں۔ اس کا دارومدار عوامی بحث و مباحثہ پر ہے۔ انسانوں کو بہت سی محرومیاں اور مسائل لاحق ہیں۔ ان مسائل میں کچھ کافوری ازالہ ممکن ہے اور کچھ کے لئے وقت درکار ہے۔ اس لئے ”بنیادی ضرورتوں“ کی ترجیحات طے کرنالازم ہے ورنہ تمام تر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور تمام تر محرومیوں اور مسائل کا خاتمہ ایک ناممکن ہدف ہے۔ اس لئے ممکن الحصول اہداف کا تعین ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ہر قسم کی بیماریوں کا مکمل خاتمہ یا انسان کو موت سے نجات دلانے کی جدوجہد ایک قابل احترام خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا حصول بہت دور دراز کی بات ہے۔

ہم اس نوعیت کے اہداف کو بنیادی ضرورتوں میں شمار نہیں کرتے ’نہ ہی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ناممکن الحصول ہیں۔ موت کا خاتمہ ایک خوبصورت خواب تو ہو سکتا ہے‘ ٹھوس ہدف نہیں بن سکتا۔ بنیادی ضرورتوں کے متعلق ہماری آگہی اسی صورت میں درست ہو سکتی ہے جب ہم نہ صرف محرومیوں کی نوعیت کا درست ادراک کریں بلکہ یہ بھی طے کریں کہ ان محرومیوں کے خاتمے کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ یہ ادراک و آگہی آزادی صحافت ہی کی مدد سے حاصل ہو سکتی ہے۔ لہذا معاشرتی اقدار کے ارتقا میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے آزاد پریس انسانی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

اپنی بات ختم کرنے سے پہلے میں ان تحدیدات کا ذکر کرنا چاہوں گا جن کی وجہ سے پریس نہ صرف مثبت کردار ادا نہیں کر پاتا بلکہ بعض اوقات منفی کردار ادا کرتا ہے۔ اخبارات پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ غیر جانبداری کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت نقصان دہ نہیں ہوتی جب مختلف اخبارات مختلف نکتہ نظر پیش کر رہے ہوں اور مجموعی طور پر ہر قسم کا نکتہ نظر عوام کے سامنے آرہا ہو۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پریس مجموعی طور پر کسی نکتہ نگاہ کے خلاف جانبدار ہو جائے۔ اس تناظر میں اخبارات کی نجی ملکیت پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اور اخبارات کی پالیسی پر اشتہاری کمپنیوں کے اثر و رسوخ کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ اعتراضات مکمل طور پر رد نہیں کیے جا سکتے۔ ربع صدی قبل ایک برطانوی صحافی حنان سویفر نے لکھا تھا ”برطانیہ میں آزاد • صحافت کا مطلب اخباری مالکوں کے ان خیالات کی اشاعت کی آزادی ہے جن پر اشتہار دینے والوں کو اعتراض نہ ہو“۔ ممکن ہے یہ بیان زیادہ سخت اور قنوطیت زدہ دکھائی دے لیکن اس کے باوجود یہ نکتہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اخباری مالکوں کی طاقت سے بچاؤ کا کوئی آسان طریقہ موجود نہیں۔ اخباری مالکان اخبارات سے متعلقہ جائیداد ’آلات اور ان کے لئے ضروری سرمائے کے مالک ہوتے ہیں۔ اس بات کی یقین دہانی کیسے کرائی جائے کہ مالکان صرف کاروباری نکات تک محدود رہیں اور اخباری پالیسیوں میں بالکل مداخلت نہ کریں۔ اخبارات کو سرکاری تحویل میں دینا اس مسئلہ کا حل نہیں کیونکہ اس طرح اخباری پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت مالکوں کے ہاتھ سے نکل کر حکومت کے پاس چلی جائے گی۔ اور آزاد • صحافت کا مقصد بھی فوت ہو جائے گا۔

یہاں میں جان کینتھ گلبرائتھ کا حوالہ دینا چاہوں گا جس نے ”متبادل قوت“ کا نظریہ پیش کیا۔ یعنی ایک قوت کا خاتمہ کرنے کی بجائے اسے دوسری متضاد قوت سے متوازن کیا جائے۔ موجودہ تناظر میں یہ اس طرح ممکن ہے کہ اخبارات کی ملکیت کے حصص نہ صرف کاروباری دنیا کے مختلف شعبوں میں منقسم ہوں بلکہ سماجی تنظیموں اور دستوری اداروں کو بھی ملکیت کے حصص حاصل ہوں۔ اخبارات کے علاوہ ریڈیو ’ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ بھی معلومات کے تنوع میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جانبداری کا مداوا کرنے کے لئے ہمیں ذرائع ابلاغ میں مقابلے کی فضا تیار کرنا ہو گی۔

صحافتی اخلاقیات اور اقدار کی پابندی بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ یہ صرف دیانت داری اور معروضیت تک محدود نہیں (حالانکہ یہ دونوں اقدار انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ) بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ صحافی کے اندر تخئیل کی قوت ہو، وہ پریس کے مثبت کردار پر یقین رکھتا ہو اور اس کے لئے عملی اقدامات کرنے پر تیار ہو۔ سنگین مسائل پر تو ہر صحافی بڑھ چڑھ کر بات کرتا ہے (بے روزگاری ’خانہ جنگی وغیرہ) لیکن کم سنگین مسائل (رہائش اور تعلیم وغیرہ کے مسائل) کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے صحافی کا اپنا تخئیل اور عزم لازم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر بھارت میں 1947 ءکے بعد کوئی بڑا قحط نہیں پڑا۔ اس کی بہت سی وجوہات میں (برطانوی راج کے برعکس) ایک نسبتاً آزادپریس بھی ہے۔ لیکن ایسے مسائل جو ہنگامی صورت نہیں رکھتے مثلاً بچوں کی عدم غذائیت ’ناخواندگی وغیرہ خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے صحافیوں کے اپنے شعور اور عزم کی بھی ضرورت ہے اور ایسے سماجی گروہوں کی بھی ضرورت ہے جو ان مسائل کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہیں او راخبارات کی توجہ ان کی طرف مبذول کراتے رہیں۔ یعنی سماجی کارکن‘ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دوسرے ادارے ایک ”متبادل قوت“ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے کئی شعبوں میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مثلاً بھارت کی حقوق نسواں کی تنظیموں نے صنفی امتیاز کی نوعیت اور شدت واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

میں آخر میں وہی بات کروں گا جس سے میں نے آغاز کیا تھا۔ یعنی یہ کہ انسانی ترقی کے لئے آزادی صحافت ایک لازمی شرط کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن آزاد صحافت کے پھیلاؤ اور اثر و نفوذ میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ آزاد پریس کئی مختلف کردار ادا کرتا ہے۔

( 1 ) یہ ترقی کے سفر میں مثبت کردار ادا کرتا ہے ’

( 2 ) معاشرے میں معلومات فراہم کر کے سماجی شعور بلند کرتا ہے ’

( 3 ) محرومیوں اور عدم تحفظ کے خلاف آواز اٹھا کر شہریوں کے لئے ایک تحفظاتی قوت کا کردار ادا کرتا ہے اور

( 4 ) تبادلہ خیال ممکن بنا کر معاشرتی اقدار کے ارتقا میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم ان میں سے کوئی کردار میکانکی انداز میں نہیں ہوتا۔ اس کے لئے نہ صرف صحافیوں کے شعور اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ایسے اداراتی ڈھانچوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو صحافت کی تحدیدات کے خلاف متبادل قوت کا کردار ادا کریں۔ ہمیں آزادی صحافت کا بھرپور دفاع کرنا چاہیے لیکن یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ آزاد صحافت کی اپنی اقدار اور ذمہ داریاں بھی ہیں۔ درحقیقت آزادی صحافت حقوق اور ذمہ داریوں کے ایک تعمیری امتزاج کا نام ہے۔ اور ہمیں ان دونوں کی حفاظت کے لئے کھڑا ہونا چاہیے۔

(ممتاز ماہر معیشت اور نوبل انعام یافتہ فلسفی امرتیو سین نے یہ مضمون 2002 میں لکھا تھا۔ ہم سب کے لئے اس کا ترجمہ محترم تنویر افضال نے کیا ہے۔)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2