’چن جی‘، ایک داستان گو نہ رہا


(مِینو کے قلم سے)

\"yawar-yahat\"1973ء میں پی ٹی وی کے ڈرامے ’جھوک سیال‘ سے شہرت پانے والے نوجوان پروڈیوسر اور ہدایت کار یاور حیات کو پاکستان ٹیلے ویژن کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پی ٹی وی کا ڈراما جو اپنی طرز کی مثال آپ ہے، اسے یہ شکل دینے میں یاور حیات کا نمایاں ہاتھ ہے۔ بہت کم نام ایسے ہوتے ہیں، جن کا ذکر ہو تو اس کے جاننے والے اس کی توصیف بیان کیے جائیں۔ اُنھی میں سے ایک نام یاور حیات کا ہے۔

18 اکتوبر 1943ء کو لاہور میں پیدا ہونے والا یہ بچہ برگیڈیئر عظمت حیات خان کی پہلی اولاد تھی۔ عظمت حیات خان، سر سکندر حیات کے بیٹے تھے۔ حکیم احمد شجاع کے ہونہار بیٹے انور کمال پاشا، یاور حیات خان کے ماموں تھے۔ جو پاکستان فلم انڈسٹری کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک تھے، اور کئی کام یاب فلمیں دیں۔ یاور حیات نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج سے حاصل کی، اور پھر ایف سی کالج سے گریجوایشن کیا۔

پینورامک شاٹ، جس میں جامع شاٹ کا انتخاب کرتے تاثر پیدا کیا جائے، یہ عظیم فلم ساز، اسکرین پلے رائیٹر، ہدایت کار ڈیوڈ لِین کی شناخت ہے۔ یاور حیات کے کام پر ڈیوڈ لِین کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ لیکن وہ خود اپنے کام کا موازنہ امریکی مصنف ولیم فالکنر کے کام سے کرتے تھے۔ ان کی ہدایات میں بننے والے جھوک سیال، سمندر، دہلیز، گونج، فرار، حیرت کدہ، لیمپ پوسٹ، نشیمن، ساحل، جزیرہ، جھیل، لمبے ہاتھ، وادی، زنجیر، پرواز، نجات، شناخت، اور بہت سے ڈرامے ہیں، جو پاکستان ٹیلے ویژن کارپوریشن کی پیشانی کا جھومر ہوئے۔ یاور حیات وہ جادوئی شخصیت تھے، شوبز کی دُنیا میں جن کے بہت س قصے زبان زدِ عام ہیں۔ ’چن جی‘ ان کا تکیہ کلام تھا۔ ’مصنف کہانی لکھ کر ایک کوڈ لگاتا ہے، ہدایت کار اُس کوڈ کو ڈی کوڈ کرتا ہے، اور پھر اپنا کوڈ لگاتا ہے‘ یاور حیات سے منسوب یہ جملہ مجھے بہت پسند ہے۔ یہ چن جی، یہ داستان گو 3 نومبر 2016ء کو اپنی کہانی کو اپنا کوڈ لگا کر اس دنیا کو خیر باد کہ گیا۔

Facebook Comments HS