زکوۃ کمیٹیوں کے مشاہدات: ہمیں شرم نہیں آتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج کل ایک خبر بہت سارے چینل پر چل رہی ہے کہ ً احساس ً پروگرام کے تحت لاک ڈاؤن کے تحت غریب لوگوں کو ملنے والی امداد سے کچھ رقم کاٹ کر ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ دو تین ماہ قبل ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ بہت سارے بڑے بڑے سرکاری افسران اپنے اہل خانہ اور اپنے نجی ملازمین کے نام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں لکھوا کر ان کے نام سے تین تین چار چار سال تک رقم وصول کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس پروگرام کے تحت کم آمدنی والے لوگوں کو ماہانہ بنیادوں پر کچھ رقم امداد کے طور پر ادا کی جاتی تھی۔ ہمارے ہاں ایمانداری کا جب یہ لیول ہو تو پھر کہاں کا اسلام اور کہاں کی ہماری مسلمانی۔ یہ کام پاکستان میں نیا نہیں ہے بلکہ عرصہ سے جاری ہے۔ ہم ہر معاملے میں ایسی ایسی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو دیکھے دنگ رہ جائے۔ ایمانداری کے معنی ہیں صدق یعنی سچائی۔ سچائی سے ہم اپنی زندگی گزاریں تو ہم اپنے ملک کو جنت بنا دیں۔ جن ممالک نے ایمانداری کو فروغ دیا ہے وہ واقعی جنت میں رہ رہے ہیں۔ اپنے ملک میں ہم نے جتنا ایمانداری کو پروان چڑھایا ہے اس کی ایک جھلک آپ کو اوپر بیان کی ہے۔ اس سلسلے میں مجھے ماضی کے دو واقعات یاد آ رہے ہیں۔ جن سے آپ کو ماضی میں بھی ہماری ایمانداری کی جھلک نظر آئے گی۔

1980 میں ضیاء الحق نے ایک زکوۃ آرڈینینس کے تحت بینک اکاؤنٹس سے زکواۃ کی کٹوتی شروع کی اور غریب لوگوں میں تقسیم کرنے کا بندوبست کیا۔ تقسیم میں جب کافی گھپلے ہونے شروع ہوئے تو بینکوں کے ذریعے مستحقین کو زکوۃ تقسیم کرنے کے آرڈر آ گئے۔ ضلع زکوۃ کمیٹی کے چیئرمین مستحقین کی ایک لسٹ بینک کو مہیا کرتے اور لوکل زکوۃ کمیٹی کے چیئرمین اور سیکریٹری اس لسٹ کے مطابق زکوۃ کے مستحقین کو چیک اشو کرتے اور بینک سے ان کو ادائیگی ہو جاتی۔

میں ان دنوں دیہات کی ایک برانچ میں بینک منیجر تھا جہاں صرف میں اور میرے ساتھ ایک کیشئر تھا۔ ایک خاتون کو چیک کی ادائیگی کے وقت میں نے ان سے پوچھا کہ اماں جی کتنی رقم کا چیک ہے تو انہوں نے کہا کہ ایک ہزار کا ہے۔ میں نے چیک دیکھا تو وہ پندرہ سو کا تھا۔ میں نے انھیں بتایا کہ آپ کی رقم تو پندرہ سو کی ہے تو انہوں نے کہا کہ بیٹا، ہمیں پتہ نہیں، ہم نے تو یہ رقم زکوۃ کے دفتر جا کر جمع کرانی ہے اور وہاں سے ہمیں ایک ہزار ملے گا۔

اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ بینک میں اس وقت چھ سات اورمستحقین بھی موجود تھے اور سب کے پاس اتنی ہی رقم کے چیک تھے اور سب کا ایک ہی بیان تھا جو پہلی خاتون کا تھا۔ میں نے سب کو کہا کہ آپ کو پندرہ سو کی زکوۃ گورنمنٹ کی طرف سے ملتی ہے اس لئے آپ یہ رقم لیں اور گھر جائیں۔ کچھ لوگ تو رقم لے کر گھر چلے گئے لیکن کچھ واپس زکوۃ کے دفتر گئے اور پھر چیئرمین صاحب بینک میں آگئے۔ پہلے ہمیں ہمیں کہا کہ ہمارا دفتر کا خرچہ ہوتا ہے جو ایسے ہی ان پیسوں سے ہم پورا کرتے ہیں۔

ہمیں پتہ تھا کہ ان کو اس کے لئے علیحدہ رقم ملتی ہے اس لئے ان کی یہ بات نہیں بنی۔ پھرانہوں نے ہمیں بھی لالچ دیا جب کام بھی نہیں بنا تو پھر دھمکیاں دینے لگ گئے۔ میں نے مقامی لوگوں سے مل کر ضلعی دفتر میں یہ بات پہنچائی اور انھیں اس کام سے علیحدہ کرا دیا۔ لوگوں کو جب اصل رقم ملنی شروع ہوئی تو ان کے دل سے ہمارے لئے دعائیں نکلتیں۔

یہ سن دو ہزار کی بات ہے میں اس وقت بینک کی ایڈمنسٹریشن میں تھا کہ ایک دن ڈاک میں ایک خاتون کی طرف سے شکایت آئی جس میں اس نے ہمارے بینک منیجر کے خلاف شکایت کی تھی کہ اس نے بینک اوقات میں اس سے زبردستی جنسی زیادتی کی ہے۔ درخواست کے مندرجات ایسے تھے جو ایک خاتون نہ وہ لکھ سکتی تھی اور نا ہی لکھوا سکتی تھی۔ میرا خیال تھا کہ یہ غلط شکایت ہے۔ لیکن میرے باس نے کہا کہ ہمیں اس کی انکوائری کرانی ہے اگر یہ صحیح ہوئی تو پھر؟

اور انہوں نے میری ڈیوٹی بھی لگا دی کہ تین دن کے اندر انکوائری کر کے رپورٹ تیار کریں۔ میں نے دوسرے دن ہی دفتر کی جیپ لی اور ڈرائیور اور اپنے ایک جونیئر کے ساتھ صبح سویرے نکل پڑا۔ خاتون کا گاؤں بہت ہی دور جنگل میں واقع تھا۔ ہمیں اس کے گھر تک پہنچنے میں کافی پیدل بھی چلنا پڑا۔ اکیلا سا گھر تھا۔ وہ بہت ہی غریب سی بیوہ خاتون تھی۔ ہمیں اس نے صحن میں درخت کے نیچے چھاؤں میں بٹھایا۔ میں نے بتایا کہ ہم بینک کی طرف سے آئے ہیں۔

وہ گھبرا گئی اور پوچھا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا آپ کیوں آئے ہیں۔ میں نے اس سے اس کی بینک بک منگوا کر چیک کی اس نے واقعی پندرہ دن پہلے زکوۃ بینک سے نکالی تھی۔ میں نے منیجر کی بابت دریافت کیا تو اس نے کہا کہ وہ تو بہت اچھے ہیں میری بڑی عزت کرتے ہیں۔ باقی سارا عملہ بھی بہت اچھا ہے۔ میں نے کسی شکایت وغیرہ کا پوچھا تو اس نے انکار کر دیا۔ میں نے جب اسے شکایت کے مندرجات کے بارے میں بتایا تو وہ باقاعدہ رونے لگ گئی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔

میں نے اس کی طرف سے بیان لکھا اور اس کے انگوٹھے لگوا لئے۔ ہمیں اس کے صحن میں بیٹھے دیکھ کر قریبی ہی گھر سے دو خواتین آ گئیں۔ جب انھیں پتہ چلا کہ ہم بینک سے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون نے بھی ہمارے اس برانچ منیجر کی تعریف کی اور بتایا کہ زکوۃ والوں نے میری زکوۃ بند کر دی تھی اور دوبارہ ایک سال کی زکوۃ دینے پر مجھ سے زکوۃ کمیٹی کے سیکریٹری نے دس ہزار روپیہ لے لیا تھا۔ جو منیجر مذکور نے مجھے واپس دلایا اور اس کی ضلعی زکوۃ کے دفتر میں شکایت بھی کی جس سے اس کی دوسرے ضلع میں ٹرانسفر ہو گئی ہے۔ ہمیں اس شکایت کا جواز مل گیا تھا جو اتنا بھیانک تھا۔ ایک تو بد دیانتی دوسرا ایک غریب خاتون کی عزت کو خاک میں ملانے کی کوشش کی۔ زکوۃ کے نظام میں آپ کی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ملیں گی۔

چند ماہ پہلے اسلام آباد کے بہت بڑے شاپنگ سنٹر میں شاپنگ کر رہے تھے ایک بڑے برانڈ پر 6995 بل بنا میں نے سات ہزار روپے دیے۔ کاؤنٹر کیشئر نے مجھے بل دیا میں کھڑا رہا تو وہ میرا منہ دیکھنے لگا۔ جب میں نے پانچ روپے مانگے تو اس نے کہا کہ چینج نہیں ہے۔ اور بڑی عجیب نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے پچھلے ماہ انگلینڈ کے شہر برمنگھم کے ایک سٹور کا واقعہ یاد آ گیا جہاں میں ایک پینی کاؤنٹر پر چھوڑنے لگا تو خاتون نے باقاعدہ مجھے بلا کر وہ میرے حوالہ کی۔ میرے اپنے شہر کے بڑے بڑے سٹور اور بیکریاں کسی کو بھی چینج واپس نہیں کرتے اور جو مانگتا ہے اس کہ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔

ہم نے بچپن میں ایمانداری کی بہت سی کہانیاں پڑھی تھیں۔ honesty is the best policy پر بہت دفعہ مضمون بھی لکھے۔ والدین کی طرف سے سب بچوں کو ایمانداری کی سبق پڑھایا جاتا ہے لیکن کبھی بھی ایمانداری کا مظاہرہ ان کے سامنے نہیں کیا جاتا۔ بچے ہمیشہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *