رشوت کی ایماندارانہ تقسیم


چینی کے حوالے سے مبینہ کرپشن کی رپورٹ سامنے آئے کافی دن گزر گئے ہیں تاہم ابھی تک یہ رپورٹ کسی نہ کسی حوالے سے زیر بحث ہے۔ حال ہی میں ایک سنئیر صوبائی وزیر کے حلف کے بعد اس بحث میں دوبارہ جان پڑ گئی ہے۔ میرے خیال میں اس بحث کو اب تک ختم ہو جانا چاہیے تھا بالکل ایسے ہی جیسے پچھلے دنوں ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل کی رپورٹس اور ان رپورٹس پر دی گیں مزید وضاحتیں جس کی حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعبیر و تشریح فرمائی، ماضی کا حصہ بن گئی ہیں اور آئندہ بھی ایسی تمام رپورٹس ماضی کا حصہ بنتی رہیں گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کرپشن کو نہ ہی جر م سمجھتے ہیں اور نہ ہی گناہ۔ چینی مافیا میں مبینہ طور پر ملوث وہ لوگ دکھائے گئے ہیں جو عوامی نمائندے ہیں یا رہے ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے اور اپنا ڈیرہ چلانے کے لیے کسی نا کسی سطحی پرشاید کرپشن کی ضرورت پیش آتی ہو تا کہ ایسی حاصل کردہ رقم سے قیمتی ووٹوں اور ڈیرے پر تقسیم ہونے والی چائے اور کھانے کا انتظام کرسکیں لیکن سوچیں ائیر پورٹ پر تعینات ان سرکاری اہلکاروں کو جو حکومتی خزانے سے تنخوا ہ بھی لیتے ہیں لیکن آٹھ ہزار رشوت کے عوض کرونا کے مریضوں کو ائیر پورٹس سے باہر تک رسائی دیتے رہے اور تندرست لوگوں کو رشوت نہ دینے کی وجہ سے اس مرض کے نام پر بلیک میل کرتے رہے۔ بات وہی ہے کہ ہمارے ہاں کرپشن نہ جرم ہے نہ گناہ۔

مجھے نہیں معلوم کہ کرپشن کو پرکھنے کے لیے ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل نے کیا پیمانے اور معیار مقرر کر رکھے ہیں میں تو انتا جانتا ہوں کہ پاکستان میں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے اداروں میں کام کرنے کے لیے جو اعلیٰ تریں خوبی آپ میں درکار ہے وہ آپ کا کرپٹ اور با اثر ہونا ہے۔ اور کرپشن سے حاصل کی ہوئی رقم کو انتہائی ایمانداری سے تقسیم کر کے متعلقہ احکامات تک پہنچانے کی صلاحیت رکھنا ہے۔

کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کو ایک اور اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کرپشن کے خلاف ہونے والے زیادہ تر پروگرام، سیمنار اور لیکچر کرپشن کی رقم سے منعقد کروائے جاتے ہیں اور یہ محض یہ جذباتی رائے نہیں بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو ایسے ہی ایک ادارے میں کام کرنے کے دوران مجھ پر عیاں ہوئی۔ ان پروگراموں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، بڑے بڑے افسر مقررین میں شامل ہوتے ہیں جو مختلف مذہبی سماجی اور معاشی حوالہ جات دے کر قوم کا مردہ ضمیر جھنجوڑتے ہیں۔

پڑھے لکھے مقررین سے یاد آیا کہ میری آبائی تحصیل میں ایک ڈاکٹر خاتون بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھی اور وہ اتنی ”رحم دل“ تھی کہ ہر پٹواری سے رشوت کا حصہ وصول نہیں کرتی تھی بلکہ صرف دو پٹواری اس کام کے لیے مقرر کر رکھے تھے اور وصولی کا معیار ان کی تعلیم کی طرح بہت زیادہ تھا۔ ایسے ہی پڑھے لکھے مقررین ان پروگراموں میں جب کرپشن کے حوالے سے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کو شیلڈ سے نوازا جاتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے ضلع کا مالک پولیس افسر مختلف ایس۔ایچ۔ اوز کو ”کارکردگی“ کی بنیاد پر انعامات سے نوازتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ کارکردگی سے مراد جرائم رکنا نہیں۔ ڈکیتوں کو پکڑ کر لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا نہیں ہے بلکہ کارکردگی سے مراد یہ ہے کہ آپ رشوت کی رقم اس طرح وصول کریں اور وہ احکام بالا تک پہنچائیں کہ لوگ عش عش کر اٹھیں کہ ضلع کا مالک سے بڑا نہ تو کوئی ایماندار ہے اور نہ ہی درد دل رکھنے والا ہے۔ اور اگر کبھی کوئی ایس۔ ایچ او کرپشن میں پکڑا بھی جائے تو لوگ اس کے خلاف جہاد کرنے کے لیے اس کے حصہ دار یعنی ضلع کے مالک پولیس آفسر کے پاس ہی پہنچیں۔

تو پھر وہی ضلع کا مالک پولیس افسر آپ کو بذریعہ فون اطلاع دے کہ اپنی ”کارکردگی“ بہتر کریں تا کہ لوگ مجھ تک نہ پہنچیں۔ اس لیے میرے خیال میں مبینہ چینی سکینڈل اب تک دفن ہو چکا ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے نزدیک کرپشن نہ تو جرم ہے اور نہ ہی گنا ہ ہے بلکہ یہ اتنی اعلیٰ و ارفع چیز ہے کہ اس کے حصول کے لیے ہم کلرک سے لے کر اعلیٰ افسران، سیاستدان بلکہ سب کچھ بننے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS