کرونا سازشی تھیوریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہفتے پہلے کراچی میں وسعت اللہ خان کے ہم راہ تھا۔ دوران گفتگو کرونا کے حوالے سے مختلف سازشی تھیوریوں پہ بات ہوئی۔ وسعت بھائی نے فرمایا، اصل بات یہ ہے کہ سازشی تھیوریوں کے تڑکے کے بغیرسواد بھی تو نہیں آتا۔ آج کچھ ”بری بری“ خبریں پڑھی ہیں، ان سے بہت سی سازشی تھیوریوں اور خود ساختہ میڈیکل ایڈوائز کا خاتمہ ہو سکتا ہے مطلب شاید اب بے سوادی ہو جائے۔

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک الیگزنڈر ملی نے بھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ یہ وائرس چین کی کسی لبیارٹری میں نہیں بنایا گیا بلکہ قدرتی ہے اور ماحول میں موجود تھا۔ (چین اور امریکا کی مخاصمت کو پیش نظر رکھ کر اس بیان کو دیکھیں)۔

اس سے پہلے مختلف ڈاکٹرز یہ بات کہتے رہے مگر ہم نے مان کر نہ دیا۔ مختلف کتابوں کے ٹوٹے، فلموں کی کہانیاں اور اپنی معاشی اور سیاسی تعلیمات سے (تھڑا یونیورسٹی سے حاصل کردہ معلومات) ثابت کرتے رہے کہ یہ چینیوں کی سازش ہے یا امریکیوں کا کارنامہ۔

فرانسیسی سائنسدانوں کا کہنا ہے، کہ کرونا کو ختم کرنے کے لئے 92 ڈگری پر پندرہ منٹ تک ابالا جائے تو پھر کہیں جا کر مرتا ہے۔

ہم گرمیاں آنے کا انتظار کر رہے تھے کہ بس ہمارے جون، جولائی آنے دو، کرونا ساڑ کے مار دیں گے۔ افسوس اب گرمیوں کا انتظار بے معنی ہو گیا ہے۔ ہاں شاید پندرہ منٹ کسی دہکتے تندور کے اندر جا بیٹھیں تو کرونا کے ساتھ ساتھ اوربھی جراثیم ختم ہو سکتے ہیں۔

وزیراعلی سندھ کا کہنا ہے، اس غلط فہمی میں نہ رہیں، کہ پاکستان میں کرونا انفیکشن کے متاثرین کم ہیں۔ جن لوگوں کو یہ بھروسا ہے کہ ہمارا دفاعی نظام گوروں سے تگڑا ہے، ان کے لئے مراد علی شاہ کا برا سندیس۔

مانسہرہ کے ایک عالم مفتی صاحب اور امریکا کے ایک جید پادری جو لوگوں کی اپنی عبادات اور دعاؤں سے صحت مند کر دینے کے دعوے دار اور کرونا سے نہ ڈرنے کی تلقین کرتے تھے، راہی ملک عدم ہو چکے۔

افسوس کہ کرونا نہ ایمان کی طاقت دیکھ رہا ہے، نا کسی مذہبی یا غیر مذہبی سے رعایت برت رہا ہے۔ اس لئے اپنا اور اپنوں کا خیال رکھنا ہی بہتر ثابت ہو گا۔ یعنی فی الوقت احتیاط ہی بہترین علاج ہے۔

مفتی منیب الرحمن اور تقی عثمانی صاحب تراویح، عبادات رمضان اور میں نہ مانوں کی رٹ، دیکھیں اب کیا گل کھلائے ہے۔

سازشی تھیوریوں کی ناکامی کے بعد، کیوں نا ایسی سائنسی تھیوریوں کی طرف توجہ کی جائے جو اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کے لئے، خدمت انسانیت کے لئے ہمی کوئی چیز بنانے میں کام یاب ہو سکیں۔

جملہ بالا ایک ایسی خواہش کے طور پر لکھا ہے، جس کے کسی معجزے کے سوا پورا ہونے کے چانس نہیں۔ ہاں آخر میں ایک دعا کی درخواست ضرور ہے کہ یہود و نصاری کو اپنی رمضان المبارک کی دعاؤں اور گریہ نیم شبی میں یاد رکھیں، کہ اللہ تعالی محض اپنے فضل سے انہیں کرونا کی ویکسین بنانے کی جلد توفیق دے، تا کہ ہم اس سے فیض یاب ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *