کورونا۔ ذمہ دارانہ رویہ ہی نجات کا ضامن


بد قسمتی سے دنیا گزشتہ سال دسمبر سے کورونا وائرس نامی وبا کی لپیٹ میں ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت دو کروڑ سے زائد لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ اس وائرس کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار بیٹھے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کو بھی اس وبا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تک قریب سات ہزار لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ طبی ماہرین کی رائے میں پاکستان میں کورونا سے متاثر افراد کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے۔

یہ اعداد و شمار اس لئے بھی قابل یقین نہیں ہیں، کیوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹ نہیں کیے گے۔ جہاں چین، اٹلی، امریکا، ترکی اور دیگر کئی ممالک اس سے بری طرح متاثر ہوئے، وہیں کچھ ممالک نے اس وبا کو خاطر خواہ حد تک کنٹرول بھی کیا ہے۔ ان میں نمایاں نیوزی لینڈ، فن لینڈ، ہانگ کانگ ہیں۔

چین نے اس وبا کے پھوٹنے کے ابتدائی دنوں میں خاصا نقصان اٹھایا لیکن پھر بہتر حکمت عملی، مضبوط اداروں اور درست ارادوں کے ساتھ اسے ایک ہی شہر تک محدود رکھا اور آخر میں اسے مات دی۔ اسی طرح نیوزی لینڈ، فن لینڈ اور دیگر ممالک کی لیڈر شپ اور عوام کے تعاون سے وبا کو پھیلنے سے روکے ہوئے ہے۔

شومئی قسمت پاکستان کی لیڈر شپ کوئی واضح حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی۔ بلا شبہ پاکستان کے حالات ترقی پذیر ملک ہونے کی وجہ سے مختلف ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی واضح حکمت عملی نہ ہونا حکومت کی ناکامی ہے۔

دوسری طرف صوبائی حکومتوں نے اپنے طور پر اقدامات کیے، جن میں سندھ حکومت کی کارکردگی اور حکمت عملی واضح رہی۔ اسی کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر خان نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے واضح پالیسی اپنائی، لیکن اب ان کو بھی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عوام کا عمومی رویہ غیر سنجیدہ رہا ہے۔ عموم کی طرف سے یہ رویہ دیکھنے میں آیا ہے کہ موت بر حق ہے اور ہمارا اللہ پر توکل ہے۔ اس وجہ سے بعض اوقات وہ احتیاطی تدابیر اپنانے کو کم زور ایمان سے تعبیر کرتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی حکومت نے پابندیاں لگانے کی کوشش کی، مختلف عناصر کی طرف سے اس کی مزاحمت سامنے آئی ہے۔ خصوصاً ان میں دینی حلقے اور تاجر یونین شامل ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ تاجر اس وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ریاست نے ان کے ازالے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ تاہم ان کی طرف سے ریاست کے فیصلوں کے مغائر کاروبار کھولنے کی منطق نہ صرف ریاست کے کم زور ہونے کا باعث بنے گی بلکہ وبا کو پھیلانے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

علمائے کرام کی پریس کانفرنس کے ذریعے یہ اعلان بھی سننے کو ملا کہ رمضان کے دوران مساجد میں تراویح اور پنج گانہ نماز کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ سراسر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور تمام تر عقلی تقاضوں کے منافی ہے۔ جس قوم کا شعور اس وبا کے خطرے ہی کو سمجھنے سے قاصر ہو، وہ خفاظتی تدابیر کیا اختیار کرے گی؟ عمرہ، ایران سے زائرین یا عموماً بیرون ممالک سے وطن پلٹ لوگوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اس مشکل وقت میں دینی احکامات کی صحیح تشریح کر کے ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

علمائے کرام، عوام کی درست رہ نمائی کریں اور انہیں توکل کے معنی سمجھائیں جیسا کہ سورہ کہف میں ذوالقرنین کا واقعہ بیان کرتے ہوئے، اللہ تعالی ہماری رہ نمائی فرماتا ہے۔ ’اسباب اختیار کرو پھر اللہ پر توکل کرو‘ ۔

وبا کے حوالے سے بھی خضور پاک ﷺ کی واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاو، لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور اور تم وہاں موجود ہو تو اس جگہ سے نکلو بھی مت”۔ (صحیح بخاری: 5728)۔ اس کے ساتھ ساتھ حکمران وقت کی اطاعت کرنا بھی دینی حوالے سے فرض ہے۔ خصوصاً جب معاملہ اس قدر سنجیدہ اور اجتماعی مفاد کا ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں کورونا وائرس کے اصل کیسزکا اندازہ 60 دنوں کے بعد ہوتا ہے، جیسا کہ امریکا، اٹلی، چین اور دیگر ممالک کے تجربے سے اخذ کیا۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا تھا، لہذا اس ریسریچ اور ٹرینڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے ماہرین پاکستان میں 26 اپریل سے یکم مئی تک کا عرصہ انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں اور اس وائرس میں اضافہ کے ساتھ زیادہ ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی رٹ کو بحال کرے اور غیر سنجیدہ فیصلوں کے خلاف چینی ماڈل اپناتے ہوئے سخت کارروائی کرے۔ لاک ڈاون کو کم از کم یکم مئی تک بڑھائے۔ یقینا یہ مشکل فیصلہ ہے لیکن دوسری صورت میں بڑے جانی نقصان کا احتمال ہے۔

Facebook Comments HS