بائیس کروڑ عوام کی ریاست کا کھوکھلا پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی ادارہ صحت کی 15 اپریل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کے تناسب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جن میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔ ان حالات میں وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اقدامات پر عمل درآمد سے گریز کر رہے ہیں۔ عمران حکومت نے کورونا وبا سے بچاؤ کے لئے عالمی اداروں اور طبی ماہرین کی لاک ڈاون پالیسی سے انحراف کی روش اپنا رکھی ہے۔

عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان ایک ٹھوس اور مربوط حکمت عملی مرتب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہفتوں بے مقصد تقریروں اور بے معنی بیان بازی کے علاوہ عمران حکومت گھروں میں مقید بے روزگار محنت کشوں کی مناسب مالی امداد یا خوراک کا بندوبست کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ حکومتی ایوانوں میں پالیسی سطح پر انتشار، نا اہلی اور بے عملی کا راج رہا ہے۔

صرف صوبہ سندھ لاک ڈاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دیگر صوبوں میں نیم دلی سے لاک ڈاون کیا گیا۔ بلآخر 15۔ اپریل کو وزیراعظم عمران خان اپنا لاک ڈاون مخالف موقف منوانے میں کامیاب ہو گئے۔ صوبوں کو مکمل لاک ڈاون کی بجائے جزوی لاک ڈاون کا کہا گیا۔ اب پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان تقریبا لاک ڈاون فری ہو چکے ہیں۔ عمران خان کی لاک ڈاون اور قرنطینہ مخالف پالیسی سے عوام کو کھلے عام اکٹھا ہونے کی ترغیب ملی ہے۔ اس صورت میں سماجی فاصلہ رکھنا ممکن نہیں رہا۔ ان صوبوں کے عوام کو کورونا وائرس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس سے عالمی وبائی مرض کے تیزی سے پھیلاؤ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

بائیس کروڑ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والی ریاست اور حکومت تقریبا دو کروڑ انتہائی غریب عوام کو بھوک کے عفریت سے محفوظ رکھنے سے قاصر ہے۔ کورونا وائرس وبا نے فرسودہ اقتصادی نظام کے کھوکھلے پن، ریاستی اداروں کی نا اہلی، بے بسی اور ناکارہ پن کا پول کھول دیا ہے۔ وبائی آفت کے مشکل وقت میں حکومت نے عوام کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے آئینی فرض سے دامن چھڑا لیا ہے۔ بے رحم قدرتی آفت کی وجہ سے انسانی زندگیوں کو درپیش خطرات سے آنکھیں چرا کر حکومت قومی جرم اور انسان دشمنی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ کرونا بحران نے جاگیردار، سرمایہ دار طبقوں اور ریاستی افسر شاہی پر مشتمل حکمران اشرافیہ کا عوام دشمن کردار بے نقاب کر دیا ہے۔ ان حالات میں عوام نا اہل حکومت اور ناکارہ ریاستی اداروں پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں۔

پاکستان کا معاشی نظام اور ناکارہ ریاستی ڈھانچہ عوام کو خوشحال زندگی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ موجودہ معاشی نظام اور فرسودہ ریاستی ڈھانچے میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں لائے بغیر عوامی خوشحالی، فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نیہں ہو سکتا۔

حکمران اشرافیہ کو ازبر ہو جانا چاہے کہ عوامی زندگیوں کو غیر اہم سمجھ کر اور غیر محفوظ بنا کر قومی سلامتی ریاست پانی کا بلبلہ ثابت ہو تی ہے۔ اسلحہ کے بڑے بڑے انبار دھرے کے دھرے رہ گئے اور کورنا وائرس نے قرہ ارض کے باسیوں کو خوفزدگی کے عالم میں گھروں میں گھسنے پر مجبور کر دیا۔ ایٹم بموں اور میزائلوں سے بھرے گودام کورونا وائرس کے سامنے مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئے۔ پوسٹ کورونا دنیا میں وہی قومیں اور ملک ترقی اور خوشحالی کی منزلیں طے کریں گے جو عوام کو بلا معاوضہ طبی اور تعلیمی سہولتیں فراہم کریں گے۔ جبکہ عوام کو روزگار کی فراہمی اور بے روزگاری الاونس کی ضمانت کے بغیر قومی سلامتی محض خام خیالی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *