کرونا وبا کے موسم میں شہنشاہ اشوک کی گیارہویں تعلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کرونا وائرس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کچھ نا گفتنی سی ہے۔ اللہ اس موذی کرونے کو غارت کرے۔ اس کے باوجود ہمیں اعتراف ہے کہ کچھ فرصت بہم ہوئی ہے۔ آب و دانہ کی سعی ناتمام جو ہمارے روز و شب پر محیط رہی ہے، اس کرونے کی وجہ سے ایک مقام پر آ کے رک سی گئی ہے۔ چلیں اس میں بھی کچھ اچھائی کا پہلو نکلا کہ درون دل گفتنی بہت کچھ ہے۔ آج کل اکثر دل میں خیال آتا ہے کہ ہمارے انسانی خاندان کے لاکھوں کروڑوں انسان چکی کی جس مشقت سے روز روز گزرتے ہیں بھلا ان پر کیا گزر رہی ہو گی، کہ پیٹ کے ایندھن کی ڈنڈھیا ہر جانب ہے۔ ن۔ م۔ راشد بے پناہ یاد آ رہے ہیں :

روزگار اک پارہ نان جویں کا حیلہ ہے
گاہ یہ حیلہ ہی بن جاتا ہے دستور حیات
اور گاہے رشتہ ہائے جان و دل کو بھول کر
بن کے رہ جاتا ہے منظور حیات
ن۔ م۔ راسشد کے ساتھ ہمارا ایک رومانوی رشتہ ہے وہ اپنی جگہ۔ ہمارے ذہن رسا میں ابھی ابھی اپنی مذہبی تعلیمات کی ایک قندیل پھوٹی ہے، جس میں صدقہ، خیرات اور زکوۃ کا حکم ہے۔ سوچا کہ صدقہ، خیرات اور زکوۃ کی بنیاد پر اٹھایا ہوا نظام کیا اتنے انسانوں کی رستگاری کا ضامن ہو سکے گا؟ اللہ معافی دے اور ایسے فاسق خیالات سے ذہن کو محفوظ رکھے، رزق کا وعدہ تو ازل سے ہے اور کوئی تو ہے جو پتھر میں بھی کیڑے کو روزی دیتا ہے اور کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، اس سے کیا کلام۔ ہاں، یہ بات علیحدہ ہے کہ یہی وہ کرہ زمین ہے جس پر بیماری، وبا اور قحط جیسی آلام کا نزول آسمانی آزمائش ہے اور یہ ہماری انسانی تاریخ کا جزو لاینفک ہے۔ تاریخ میں یہ ہوتا آیا ہے اور گمان ہے کہ مستقبل میں بھی یہی ہو گا۔

بحیثیت نوع انسانی، ہم وباؤں سے کب نجات حاصل کو سکیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا مگر زندگی کی کم مائیگی کی تصویر جنگ و جدل میں بھی وہی ہے جو کسی وبا کے پھوٹ پڑنے پر ہوتی ہے۔ صرف اردگرد کے حالات کا فرق ہے۔ وبا، قحط اورجنگ کے درمیان مشترکہ اکائی انسانوں کی غربت ہے جس کے ساتھ بندھے اور بہت سے سماجی، سیاسی اور اخلاقی مسائل ہیں اور یہ بہت تفصیل طلب معاملہ ہے۔

نوع انسان کی پچھلی صدی میں اور اس موجودہ صدی میں انسانوں کے پاس مادی وسائل کی اتنی بہتات ہوئی ہے کہ غربت کا خاتمہ کچھ بڑی بات نہیں تھی۔ مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ ہمارا زندگی کا مطمح نظر جنگ ہے جس کے واسطے آلات حرب بنانے میں اور ان کی ترسیل میں ایسے ایسے دلائل وضع کیے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ زندگی کو ختم کرنے کا سامان پہلے ہے اور زندگی کہیں بہت پیچھے ہے اور غیر اہم ہے۔ بس یہی بات باعث بیتابی دل ہے۔

یہ بیتابی دل آج ہمیں کہاں لے آئی ہے۔ آج ہندوستان کے پرانے بادشاہ اشوک کی یاد آ گئی ہے۔ شہنشاہ اشوک یا اشوکا موریا بادشاہت کے تیسرے فرمانروا تھے جو ہندو مذہب میں پیدا ہوئے۔ یہ مہاتما بدھا کے کوئی دو سو سال بعد کی بات ہے۔ ان کی بادشاہت کا زمانہ قریباً تیس برس پر محیط تھا۔ کہتے ہیں کہ کالنگا کی جنگ کے بعد جیت کا جشن ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ بادشادہ کے دل میں سمائی کہ ذرا باہر نکل کر دیکھا جائے کہ میدان جنگ کے حالات کیسے ہیں اور یہیں سے ہندوستان کی تاریخ، بادشاہت کے قوانین اور مذاہب عالم کی معاشرے میں روشنی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔

اشوکا نے جیت کے نشے میں جب باہر نکل کر دیکھا تو کسی نے کہا کہ بادشاہ سلامت جنگ میں جو کھیت رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں اور اب تو ان کی لاشوں پر رونے والا بھی کوئی باقی نہیں بچا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اشوکا نے میدان جنگ پر نظر دوڑائی تو تاحد نظر انسانوں اور جانوروں کی لاشیں تھیں۔ اشوکا کو خیال گزرا کہ ہماری راجدھانی کی دشمنی دوسری سلطنت کے ساتھ تھی، یہ جو اتنے انسان اس جنگ میں کام آئے، ہماری ان سے تو کوئی دشمنی نہیں تھی اور یہ جو اتنے جانور ہماری جنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں، ان کی دشمنی تو کسی سے بھی نہیں تھی۔ بس یہ ایک لمحہ کایا کلپ کا لمحہ تھا۔

شہنشاہ اشوک نے اس دن سے توبہ اختیار کی اور بدھ مت کو اپنا لیا۔ اشوک کی تعلیمات آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں گندھارا تہذیب کے نشان کے طور پر مل جاتی ہیں۔ اشوکا کی تعلیمات ہمارے پاکستان میں مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں پتھروں پر کندہ ہیں۔ [ہم نے کافی عرصہ پہلے برادرم عزیز عدنان کاکڑ کی ایک تحریر ”ہم سب“ پر پڑھی تھی جو اسی سلسلے میں تھی، اس وقت اس کا لنک مل نہیں سکا۔ اگر کسی طرح سے مل جائے تو ضرور پڑھیں]۔ انگریزی زبان کے تاریخ دان ایچ۔ جی ویلز لکھتے ہیں کہ تاریخ کے ایوانوں میں ہزاروں لاکھوں بادشاہوں کی داستانیں رقم ہیں، ان کے جاہ و حشم کے قصے ہیں اور ان کے لطف و عنایت کی قصیدہ گوئی ہے لیکن تاریخ کے آسمان پر اگر کوئی ستارہ چمکتا ہے تو وہ اشوک ہے۔

دیکھیں، بات تاریخ کی بھول بھلیوں میں کہاں سے کہاں نکل گئی، بات آج کے کرہ زمین پر غربت کی تھی۔ موذی کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں جو مر مٹے ان کا دکھ اپنی جگہ مگر اس وبا کے دوران جو ہو رہا ہے اس بات حیثیت مختلف ہے۔ گمان غالب ہے کہ اس وبا کے بعد سب سے زیادہ مفلوک الحال غریب لوگ ہوں گے۔ جرم ضعیفی کی سزا کوئی اور نہیں بس یہی ہے، یعنی کہ زندگی کرنا اور کیے چلے جانا۔

غریب انسان کے لئے زندگی کرنا بھی حکومتوں اور بادشاہتوں کے مزاج کی بات ہے۔ ہم سب نئے زمانے اور نئی روشنی کے پروردہ ہیں مگر کیا یہ ممکن ہے کہ ہم سب بدھ مت کے پیرو کار پرانے بادشاہ اشوک کے اقوال زریں سے کرونا وبا کے اس موقع پر زیادہ نہیں تو ایک سبق ضرور سیکھ لیں۔ اشوک اپنی گیارہویں تعلیم میں فرماتے ہیں۔ رقم کا بہترین استعمال یہی ہے کہ کوئی بھوکا نہ رہے اور اسے سکون کی دولت نصیب ہو۔

معاشرے میں کوئی بھوکا نہ رہے۔ یہ بات دو ہزار تین سو سال پرانے زمانے میں کہی گئی تھی اور آج بھی بجا ہے۔ آج کے زمانے میں کیا ایسا کوئی نظام ہو سکتا ہے کہ جس میں کوئی انسان بھوکا نہ سوئے؟ یہ عین ممکن ہے مگر ہمیں جنگ و جدل کی سوچ کی بجائے امن کی سوچ کی راہیں استوار کرنا ہوں گی اور امن و آشتی کی یہ گفتگو جاری رہنے کے لئے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *