میں پہلی بار کرفیو ہی میں اپنا پورا گھر دیکھ سکا ہوں: مکیش امبانی

’’میں پہلی بار کرفیو ہی میں اپنا پورا گھر دیکھ سکا ہوں”۔
یہ ٹویٹ مکیش امبانی کا ہے، جو انڈیا کا سب سے بڑا سرمایہ دار ہے اور اس کو اپنے دس ارب ڈالرس سے بھی زائد مالیت کے محل نما مکان پر بہت ناز ہے۔ ویسے محنت سے مکان بنانے کے لیے آدمی کو پوری زندگی لگتی ہے، تنکا تنکا چن کر آشیانہ بنانا پڑتا ہے اور کٹیا کے لیے زمین کا تھوڑا سا ٹکڑا ملنا بھی نہایت مشکل ہوتا ہے۔

لاکھوں کروڑوں محنت کشوں کی محنت سے حاصل کیا منافع کچھ سرمایہ داروں کی تجوریوں میں جاتا ہے اور وہ حکمرانی کرتے ہیں۔ عالمی میڈیا، مفکرین، دانشور، ادیب، ریاستیں اور ریاستی ادارے، حتیٰ کہ مذہبی رہ نماؤں کو بھی سرمایہ داروں نے خرید رکھا ہے۔ تبھی تو ان کے گیت گاتے ہیں۔

کرونا وائرس ایک مہلک وبا تو ہے مگر اس سے کئی گنا زیادہ مہلک وبا سرمایہ داری نظام ہے، جس نے اتنی پیداوار اور وسائل کے باوجود اس کرہء ارض کے سات ارب انسانوں کی زندگیاں موت کے حوالے کر دی ہیں۔ اس نظام میں صرف ایک نیسلے کمپنی کے پاس اس وقت اتنی غذا، صاف پانی اور دودھ موجود ہے جو کئی ماہ تک سات ارب انسانوں کو فراہم کر سکتی ہے مگر وہ ہر سال لاکھوں ٹن فوڈ دریا برد کر دیتی ہے مگر اس قیامت جیسی مصیبت کے وقت دو تین ماہ کے لیے بھی انسان کی بھوک دور نہیں مٹانا چاہتی۔

کارل مارکس کے بقول: ”ان سرمایہ داروں کو پھانسیاں دی جائیں، تبھی وہ پھانسی کے پھندے بنانے کی فیکٹریاں لگائیں گے، تا کہ منافع حاصل کیا جا سکے”۔

غریب بھی اپنے بچوں سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں، جتنا طبقہء اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بچوں سے۔ پر کیا ہے کہ مزدور غربت کی وجہ سے نا تو اپنے بچوں کے لیے کھلونے خرید سکتا ہئ اور نا ہی دودھ کی بوتل، جوس کیا خریدے گا۔ محنت کش تو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کھیل کود کی عمر میں مزدوری پہ لگاتے ہیں۔ اس طرح نسل در نسل ظلم کی چکی میں پستے چلے جاتے ہیں۔

اکثر محنت کش اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کی جستجو میں نہ تو اپنا مکان بنا سکتے ہیں اور نا ہی اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے مناسب لباس خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ جب دن رات کی محنت اور غذا کی کمی ان کے جسم کو نا تواں کرتی ہے، تو وہ بیمار پڑ کر بھی اپنا علاج نہیں کروا سکتے، نا چار بنا علاج مر جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بربریت ہے کہ جو محنت کرتا ہے وہ عذاب کی زندگی جیتا ہے، مگر ان کی محنت سے گنتی کے چند سرمایہ دار عیاشیاں کرتے پھرتے ہیں۔ انسان کو آزاد سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

مزدوروں کو بانٹنے کے لیے قوموں، ریاستوں، فرقوں رنگ، نسل، لسان و مذہب، علاقوں میں رکھا ہے مگر طبقاتی جبر اور درد کے رشتے یہ سب مصنوعی سرحدیں ختم کردیں گے۔ انسان اب جلد ہی یہ زنجیریں توڑ کر اس سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ ایک برابری و انصاف کا نظام برپا کرے گا، جسے سوشلزم کہتے ہیں۔

وبا کے دنوں میں بھی سرمایہ دار لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے۔ اوپر سے وبا کے سبب بنک، ہوائی جہاز کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی ہیں۔ اس بحرانی حالت میں کینیڈا کی دو بڑی ہوائی کمپنیاں ایئر کینیڈا اور ویسٹ جیٹ نے اپنے بارہ ہزار ملازموں کو نکال دیا ہے، جو ان کی بے حسی کا ثبوت ہے۔ کرونا بحران جیسے ہی ختم ہو گا تو سرمایہ دارانہ جبر کی وارداتوں میں تیزی آئے گی، ممکن ہے کہ ہوائی جہازوں کی کمپنیاں مزید کئی سالوں تک سنبھل نہ سکیں، کیوں کہ وائرس کی ویکسین یا ممکنہ علاج دریافت ہونے کے پراسیس اور سرمایہ داری کے ابھرنے میں بہت سال درکار ہوں گے۔ یہ بھی کہ ایک ملک دوسرے ملک کے شہری سے بہت عرصے دوری بنائے رکھے گا۔ اس دوران میں کئی ہوائی کمپنیاں گھٹنوں کے بل گر سکتی ہیں۔ بنک اور بیمہ کمپنیاں بھی نقصان میں جائیں گی۔ کرونا بحران نے سرمایہ دارانہ نظام کو یوں برہنہ کر دیا ہے، جو شاید کسی عظیم جنگ یا عالم گیر انقلاب کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ ایک زکام کے وائرس نے اسے شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

جہاں ہر طرف ڈاؤن سائزنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اس سے لاکھوں محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے۔ قوت خرید مزید کم ہو جائے گی، جس سے یہ بحران اور شدت اختیار کر لے گا۔

اس بحران نے ثابت کر دیا کہ چین اور کیوبا جیسے نیم سوشلسٹ ممالک نے لاک ڈاؤن کے دوران میں عوام کی صحت اور بنیادی سہولیتوں اور خوراک کا بندوبست کرنے میں کام یابی حاصل کی، جب کہ یورپ کے کچھ ممالک میں عوام کو بنیادی سہولیتیں ریاستوں کے ذمہ ہیں اور ان کے شہریوں کی حالت بھی قدرِے بہتر ہے مگر وہ بھی نا کام ثابت ہو رہی ہیں۔ اٹلی جیسے ملک سے المیوں کی تصاویر نظر آنے لگی ہیں۔ امریکا نے مزدوروں کو کچھ خیرات کے طور ریلیف دیا مگر وہاں بھی ٹرمپ، ہمارے حکمرانوں کی طرح اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہے۔ دنیا کا سرمایہ دار انسانیت کے بجائے اس نظام کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہے جو پہلے معمول کے حالات میں کئی بحرانوں کا شکار تھا اب مزید بد حال ہے۔

ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں تو حالت اور بھی ابتر ہے۔ یہاں پہلے ہی کرپشن، خانہ جنگیاں، جاگیرداری، آمریت اور بد ترین حکمرانی کی وجہ سے بدترین پس ماندگی اور غربت ہے۔ اس لیے یہاں بھی پس ماندہ طبقات کسانوں، دلتوں، کھیت مزدوروں، دیہاڑی مزدوروں کو نئے مسائل کا سامنا ہے اور یہ مسائل اور بھی گہرے ہوں گے۔

مارکس کے بقول، تباہی اور سوشلزم دو ہی راستے دنیا کے سامنے ہیں۔ اس وقت محنت کش طبقات کے روایتی مسائل کے لیے جدوجہد کرنا اور انسانیت کو بچانا ہم سب کا فرض ہے۔ کرونا سے بھی خطرناک وباوں اور مشکل وقت کا پہلے ہی انسان مقابلہ کر کے کام یاب ہوا ہے اور اس بار بھی ہو گا اور اس وبا کو ارتقا کا موقع سمجھ کر انسان ایک ایسی نئی دنیا کا قیام عمل میں لائے گا، جہاں انسانی رشتے سرمائے میں نہیں تولے جائیں گے۔ درجہ بندی سے پاک معاشرہ ناگزیر ہے اور اس مساوات کے لئے جدوجہد ہمارا فرض ہے۔ محنت کش طبقہ نئے نظام کی نوید بن کر انسانیت کی ارتقا کا سفر آگے بڑھائے گا، اور اس سماج میں ہر انسان کو بنیادی حقوق، آشیانہ، تعلیم، صحت، خوراک اور آزادی اس کا بنیادی حق سمجھ کر دی جائے گی۔ جہاں کوئی اوچ نیچ اور ظلم نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words