سید مجاہد علی کے اداریے پر اظہار خیال


”آئین سے غداری اور ملک سے بغاوت کیا ہوتی ہے”؟ اس عنوان کے تحت، محترم سید مجاہد علی نے بعض امور کی طرف نشان دہی کی۔ اس طرح متعفن پھوڑے کے گرد و پیش کا ذکر تو کیا، لیکن اپنی تشخیص کو فقط اپنے دردِ دل کے اعلان تک محدود رکھا۔ انہوں نے اس مرض کا ممکنہ علاج پیش نہیں کیا۔ ظاہر ہے اس بیماری جو کئی دیگر بیماریوں کا مجموعہ ہے، کو کسی ایک دوا سے ختم کرنا ممکن بھی نہیں۔

محترم نے چند باتیں لکھی ہیں، جن پر اس تبصرہ کے ذریعے مزید گہرائی میں جانا ضروری ہے۔ گزرے دور میں کتا کنویں میں گر کر مر جاتا، تو کتے کو کنویں سے نکال کر سو بوکے (ڈول) پانی نکالا جاتا تھا، تب کنویں کے پانی کو پاک سمجھ کر استعمال کیا جاتا۔ پاکستان کے کنویں میں سے ہر بار کتا نکالے بغیر سو بوکے نکال کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ پانی پاک ہو گیا ہے، لیکن اس کا تعفن برقرار رہتا ہے۔ یہ تمہید اگر چہ صد فی صد منطبق نہیں ہوتی، لیکن مسئلے کو سمجھنے کے لئے کچھ مدد گار ہو  سکتی ہے۔

سید مجاہد علی لکھتے ہیں:
”یوں تو پاکستان میں آئین سے غدار ی کرنے والوں اور قوم فروشوں کی گنتی کی جائے تو شاید یہ تعداد اس کی آبادی سے بھی زیادہ نکل آئے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا ایسا رجحان ملک میں فروغ پا چکا ہے کہ ہر اختلاف رائے کرنے والے کو ’غدار‘ کے نام سے نوازا جانا، روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ اس صورت حال میں آئین، قانون، مجاز اتھارٹی کا حکم یا حکومت کی عمل داری بے معنی الفاظ ہو چکے ہیں۔ ملک میں صرف طاقت کو بالا دست ’قانون‘ کی حیثیت حاصل ہے“۔
یہ اصل بیماری کے علامات کی درست نشان دہی ہے۔ سینے میں دردمند دل رکھنے والے تمام محب وطن ان علامات سے آزردہ ہیں۔ سید مجاہد علی کے نزدیک اس بیماری کی بنیادی وجہ یہ ہے:
”یہ طریقہ ملک کی بیورو کریسی اور عسکری قیادت نے نظم حکومت کو اپنے زیر نگیں لانے کے لئے شروع کیا تھا، تاہم اس کے تسلسل اور ایک کے بعد دوسری ہزیمت کے باوجود سول بالادستی کی ضرورت و اہمیت سے انکار نے قومی سطح پر ایک ایسا مزاج پیدا کر دیا ہے کہ کوئی کسی قانون کو تسلیم کرنے اور کسی قاعدے کے مطابق چلنے پر آمادہ نہیں ہے۔ قانون، جسے ملکی انتظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، اب طاقت ور کے ہاتھ میں مٹی کے کھلونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا“۔

اپنے اس بیان میں انہوں نے بیور کریسی اور عسکری قیادت کو ملزم ٹھہرایا ہے۔ اور وہ دونوں کا سِول بالا دستی کی ضرورت و اہمیت سے انکار، اس قیادت کا لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے قانون کو مظلوم و مضروب کے طور پر پیش کیا ہے۔ عرض ہے کہ قانون کی تعلیم میں ایک جملہ، آغاز ہی میں پڑھایا جاتا تھا۔
”کوئی قانون ایسا نہیں ہوتا، جس کے پیچھے قوت نافذہ نہ ہو“۔
اور قوت نافذہ محض کسی اخلاقی قدر کا نام نہیں بلکہ ڈنڈا، تلوار، بندوق، توپ، وغیرہ علیٰ ہذا لقیاس جیسے ذرائع کا نام ہے۔ اور یہ قوت نافذہ، بے شک بیور کریسی اور عسکری قیادت کے ہاتھوں میں رہی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔

ان ہاتھوں کو کنٹرول کرنے والا دماغ، حقیقی سیاستدان کا ہوتا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کی گھوڑے کو سدھانے والوں کو سائیس کہتے ہیں۔ اور معاشرہ کے سائیس یہی سیاستدان ہوتے ہیں۔ اس پہلو سے صورت حال کی ذمہ داری سائیس پر آ پڑتی ہے، جس نے سماج کے گھوڑے کو جو کچھ سکھایا وہی اب ہمارے سامنے ہے۔

اصل المیہ اور حقیقت (راقم کے نزدیک) یہ ہے کہ یہ سائیس ایک طرف تو انگریزی حکومت کے جبر سے نالاں تھے، دوسری طرف ان کے انعامات کے مورد بھی تھے۔ نام نہاد آزادی سے پہلے بھی۔ یہی سائیس اپنی انا کی تسکین کے لئے رعایا کے استحصال اور انہیں غلام بنا کر رکھنے اور وقت کے ”اصلی حکمرانوں“ کی غلامی پر تفاخر کی ٹینشن میں مبتلا تھے۔ قیام پاکستان سے بظاہر وہ فرنگی غلامی سے آزاد تو ہو چکے تھے لیکن اپنے دائرے میں عوام کو غلام ہی تصّور کرتے تھے اور ابھی تک کرتے ہیں۔ ان ننگے بادشاہوں کی کم زوری سے اسی فضا کی پروردہ بیورو کریسی اور عسکری قیادت نے بھی بد نیّتی یا نیک نیّتی سے اس گنگا میں غوطے لگانے شروع کئیے جو جاری ہیں۔

سیدی مجاہد علی کا یہ کہنا برمحل ہے:
”عدلیہ کے منصف اپنے عہدے کے بل پر مصر ہوتے ہیں کہ ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر حرف، قانون اور حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی مزاج کا شاخسانہ ہے کہ عدالتی فیصلوں میں منتخب وزیر اعظم کو مافیا کاسرغنہ قرار دینے کو معیوب یا قابل شرم طریقہ نہیں سمجھا گیا“۔

عدلیہ کابھی قانون سازی میں ایک رول ہوتا ہے لیکن یہ رول تبھی معتدل نتائج پیدا کر سکتا ہے، جب عدلیہ کے نمایندے کارِ سرکار میں مداخلت کے جرم کے مرتکب ہوئے بغیر شایستہ طریقے سے کسی معاملہ میں دی گئی درخواست پر اپنی رائے ظاہر کریں۔ بد قسمتی سے عسکری قیادتوں کی عدلیہ سے وعدہ خلافی اور منتخب حکومتوں کی اپنی دھونس کے استعمال سے مجبور عدلیہ اپنے وقار کو خود بھی مجروح کر کے نیچے کی منزل پر آ چکی ہے۔ اب اس میں کسی ایک شخص کے ذریعے ارتقا کی سیڑھی پر قدم رکھنا بہت مشکل ہے۔

ملک میں دردناک صورت حال پر بجا مرثیہ نویسی کے بعد لکھتے ہیں:
”جب اس لاقانونیت کو ’احترام‘ دینا سیاسی مجبوری بن جائے، تو اس تصویر کو راسخ ہوتے دیر نہیں لگتی۔ اور قانون توڑنے کو باعث فخر سمجھنا ہی مسلمہ طریقہ مانا جاتا ہے“۔

یہ مرض یعنی ”قانون توڑنے کو باعث فخر سمجھنا“، کوئی نئی بیماری نہیں۔ یہ بیماری تخلیقِ آدم ہی سے اس کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ بانی پاکستان نے جیل یاترا یا قانون شکنی کو قابلِ فخر نہیں گردانا، جب کہ قائد اعظم کے مخالفین میں سے اکثر اسے باعثِ فخر سمجھتے رہے ہیں۔ گویا بعض لوگوں کا دماغ اس قدر ماؤف ہو جاتا ہے کہ وہ محض جیل یاترا کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ (ان کی قید اور منڈیلا کی قید کی صورت میں قربانی کے درمیان فرق ہوتا ہے)۔ جو باقی دو نمبریوں کی طرح ذاتی اغراض کے لئے قید کو بھی (جس طرح زرداری صاحب کی اسیری تھی) قابلِ فخر سمجھتے ہیں۔ جدید دور میں یہ جیل جب کمرشلائزڈ ہو جاتی ہے، تو اس کا منافع آنا بھی شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ایک آرزو ہے کہ قانو ن شکنی کو باعثِ فخر نہ سمجھا جائے، لیکن یہ صرف پورے سماج کو تعلیم کے ذریعئ بدلنے ہی سے ممکن ہے۔

علما کہلانے والوں کی طرف سے باغیانہ رویّہ کی بابت لکھتے ہیں:
”ملک میں قانونی حکومت کے احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ اسی سرکار کے وزیر مذہبی امور نے اس اجتماع میں شامل متعدد علما سے رابطہ کیا اور انہیں 18 اپریل کو ایک اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ تا کہ مساجد میں نماز کی ادائیگی کے حوالے سے ’اتفاق رائے‘ پیدا کیا جا سکے“۔

گویا یہ ہے حکومتی رِٹ کی تمام حقیقت۔ آج دنیا بھر میں حکومتیں اس قسم کے اقدامات لے رہی ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلانے والے ملک میں جمہور کی زندگی کو خطرات میں دھکیلنے اور اسلام کی تعلیم کے عین بر عکس پاکستان دشمن طرزِ عمل پر مصر جہلا کو یحمل اسفارا کے مطابق جنہوں نے قرآن کو صرف اُٹھایا ہوا ہے لیکن بقول فیض احمد فیض ”اس پر غور کر کے پڑھا نہیں“، انہیں سروں پر بٹھانا حکومت کی مجبوری ہے۔ اسی قسم کے مواقع ہی بالآخر غیر آئینی اقدامات کی خاطر آئین سے بالا جواز فراہم کرتے ہیں۔

رنج میں مبتلا سید مجاہد یہ کہنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں:
”غنڈہ راج کی اس سے بد تر مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہے لیکن اسے غنڈہ راج کی بجائے ملاّ راج کہنا بہتر ہو گا۔ غنڈہ کتنا ہی طاقت ور ہو جائے، وہ اسی وقت تک قانون کو مسترد کرتا ہے جب تک قانون کے رکھوالے اپنے مفادات کے لئے اسے ایسا کرنے کی اجازت دیں۔ پاکستان کے ملاّ کو ایسی کسی سرپرستی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیوں کہ اس نے منبر رسول سے دین کا کاروبار کر کے عوام کے دلوں میں اتنا غبار بھر دیا ہے کہ کوئی حکومت ان کے سامنے پر مارنے کا حوصلہ نہیں رکھتی“۔

اور یہ کہ:
”ملک کے ملاّؤں کا عزم اور اعلان دو ٹوک ہے۔ انہوں نے مساجد کھولنے کا اعلان کیا ہے اور وہ اس پر قائم ہیں۔ اب حکومت سراسیمہ و خستہ حال ہے۔ ایسے میں علما کے مطالبوں کو ’متوازن اور جائز‘ قرار دے کر قانون یا حکم کو تبدیل کر لے تو اس میں ہی اس کی بھلائی ہے ورنہ ملک کے علمائے کرام تو فیصلہ صادر کر چکے“۔

مجاہد صاحب اس معاملہ میں ہونے والی سیاسی اور عدالتی سر گرمیوں سے نالاں ہو کر لکھتے ہیں:
”ملکی اداروں کا یہ طریقہ ماضی کی روایات کے عین مطابق ہو گا۔ ایسے میں کس کے پاس یہ غور کرنے کا وقت ہو گا اور کون یہ فیصلہ کرے گا کہ قانون کیا بیچتا ہے اور ملک و آئین سے غداری کیا ہوتی ہے۔ جس ملک میں سب ’غدار‘ ہوں وہاں ملک و آئین سے بغاوت کی توجیہ کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے“۔

ملک میں سب غدار نہیں ہیں۔ بے شمار محب وطن ملک کے اندر اور ملک کے باہر دن رات اس فکر میں رہتے ہیں کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام ترقی کریں۔ صرف سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اور موجودہ حکومت ٹیکس اور تعلیم کے معاملے میں کوئی سنجیدہ پلان بنائے اور اس پر بنا تمیز رنگ، نسل اور عقیدہ کے عمل کرنے کا عزم کر لے۔ یہ سفر اب بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ ستر سال ضائع ہو گئے ہیں، پھر بھی پنجابی کے محاورے کے مطابق:
ڈُلہیاں بیراں دا ہالی وی کجھ نہیں گیا۔

Still it is not too late to mend۔

Facebook Comments HS