عوامی گورنر“ پر تبصرہ”

  (نوائے وقت مورخہ 12 مارچ 2025 میں مطبوعہ ”میاں حبیب“ کا کالم ”سپیڈ بریکر“ اور اس میں ”عوامی گورنر“ کی چاپلوسی) پاکستانی سیاسی تاریخ میں چاپلوسی پر ایک باب تحریر کیا جائے گا تو اس کے مندرجات ساری پاکستانی تاریخ پر بھاری ہوں گے۔ جب جنگ عظیم دوئم کے دوران جرمنی کے آمر کو فیوہرر یعنی قائد کا لقب دیا گیا تو اس کے ساتھ اس کی پرستش کا بھی سلسلہ شروع ہوا جس سے بر صغیر کے سیاسی

Read more

بے عزتی زیلنسکی کی ہوئی یا ٹرمپ کی؟ پر تبصرہ

آج مورخہ 4 مارچ 2025 کے کالم میں نصرت جاوید صاحب نے ٹرمپ زیلنسکی ملاقات کو موضوع بنایا ہے۔ اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک پاکستانی میڈیا کے دانشوروں کی طرف سے ظاہر کیا گیا تھرڈ کلاس رد عمل بھی ہے جس کے مطابق وہ پاکستانی حکومتی نمائندہ کی گت بننے کی آرزو کا اظہار کر رہے ہیں۔ اپنے کالم میں اٹھائے گئے اعتراضات مثلاً ٹرمپ کا جو بائیڈن کے متعلق انتقامی طرز اظہار ہے جو اگر امریکہ میں

Read more

جرمنوں کا ذوق مطالعہ

ایک پرانا محاورہ ہے کہ اچھے موسم میں فرانسیسی کھاتے، جرمن پڑھتے اور انڈین سوتے ہیں۔ اس محاورے کا کوئی مستند ذریعہ یا مخصوص ادبی ماخذ تو نہیں ہے البتہ ایسا لگتا ہے کہ یہ یورپی لوک داستانوں یا غیر رسمی محاوروں کا حصہ ہے، جو ممکنہ طور پر پرانے علاقائی تصورات کی عکاسی کرتی ہے۔ غالباً 19 ویں یا 20 ویں صدی میں یہ خیال ابھرا ہو گا جب یورپ میں ثقافتی تصورات اور قومی خصوصیات پر عام بحث

Read more

آبادی کنٹرول نہیں کرتے

روزنامہ نوائے وقت کی مورخہ 29 اگست 2024 کی ایک تین کالمی سرخی کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق نذیر تارڑ صاحب کا یہ فرمانا ہے کہ "ہر چیز میں مغرب کی طرح ہونا چاہتے ہیں مگر آبادی کنٹرول نہیں کرتے۔“وزیر قانون شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی ثانیہ زہرا کے کیس میں پولیس کی طرف سے بریفینگ لے رہے تھے۔ اسی موقعہ پر جناب اعظم نذیر تارڑ صاحب نے یہ کمنٹ دیا کہ ” ہمیں اندازہ

Read more

علامہ اقبال اور حرم کی پاسبانی پر تبصرہ

نوائے وقت مورخہ 21 اپریل 2024 میں شائع ہونے والے مضمون بعنوان ”علامہ اقبال اور حرم کی پاسبانی“ محررّہ محترم ڈاکٹر سید محمد اکرم اکرام صاحب کے آغاز میں حرم کی تعریف میں لکھا گیا ہے : ”علامہ اقبال نے اپنے کلام میں لفظ حرم نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔ وہ کعبہ شریف کے علاوہ حرم سے قرآن مجید، توحید و رسالت، ملت اسلام، دین اسلام اور عالم اسلام بھی مراد لیتے ہیں۔ دراصل یہ سب اصطلاحات ایک

Read more

سائرن یا نیرو کی بانسری

پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگار جناب محمد اکرم چوہدری صاحب نے مورخہ 27 فروری 2024 کو اپنے سائرن نامی کالم میں ”شہر بانو، عربی خطاطی اور ہمارے رویے!“ کے عنوان کے تحت جو دانش کے موتی بکھیرے ہیں ان پر تبصرہ ضروری ہو گیا ہے۔ آپ نے مذکورہ واقعہ کا ذکر کر کے لکھا کہ : ” لوگوں نے سمجھا کہ خاتون شاید کہیں توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہیں“ اور بے بس خاتون کو چھڑانے کے

Read more

تبصرہ بر مضمون نصرت جاوید صاحب

آج مورخہ 31 اکتوبر 2023 کے نوائے وقت میں محترم نصرت جاوید صاحب کا کالم بعنوان ”برملا“ میں قضیۂ فلسطین کے پس منظر پر فیض احمد فیضؔ صاحب کے حوالہ سے کچھ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ فیض صاحب کی یہ شیئر کردہ باتیں منطقی لحاظ سے درست ہونے کے باوجود پذیرائی حاصل نہ کر سکیں اور آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں بے شک یہ نصف صدی قبل بھی بھانپ جانا ممکن تھا۔ فیض صاحب جانتے تھے کہ

Read more

عمران ریاض خاں کی بازیابی باعث مسرت

نامور صحافی جناب عمران ریاض خاں بازیاب ہو کر اپنے اہل خانہ سے آ ملے ہیں۔ الحمد للہ ان کی مصیبت ٹل گئی ہے اور ان کے اہل خانہ کی خوشی میں خاکسار صدق دل سے شامل ہے۔ خاکسار قانون کا طالب علم ہوتے ہوئے ہر ماورائے عدالت اقدام کو جرم سمجھتا ہے۔ جرم خواہ کوئی فرد، گروہ کرے یا ادارہ، اس کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، لہذا ان کی گرفتاری کی مختلف مواقع پر مذمت کرتا رہا

Read more

اعجاز الحق کا عذر گناہ

اعجاز الحق صاحب ابن جناب جنرل ضیا الحق صاحب مرحوم کا ایک مضمون مورخہ 8 جولائی 2023 کو نوائے وقت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ 5 جولائی 1977 کے اقدام اور آئین کی بالادستی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”جہاں بھی حکومت آئین کی اس بنیادی روح کو نہیں سمجھے گی اور اسے نظر انداز کرے گی تو پھر آئین کہتا ہے کہ ملک کا ہر شہری آئین کا وفادار ہو گا۔ یہ وہ ذمہ داری

Read more

عقل مندی کا زعم

” محبت ایک وہم ہے“ جانسن کے نزدیک یہ بات ایک حقیقت تھی اور صرف کچے ذہن ہی محبت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی میں معاشیات کا ایک ہونہار طالب علم تھا جو یونیورسٹی کے ایک ہوسٹل میں مقیم تھا جہاں سینکڑوں دیگر طالب علم رہتے تھے۔ اس کی لیاقت کے چرچے تھے اسے اور اس کے واقف کاروں کو اس کا شاندار مستقبل سامنے نظر آ رہا تھا۔ اس کا آخری تھیسز لکھا جا چکا تھا اور کام

Read more

بھا سعید بھی چلا گیا

دیسی کلچر میں بعض ایسی اقدار ہیں جو اس کل یگ میں بھی بدستور قائم ہیں اور ان کی نگھی تاثیر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہمارے رشتوں کے ناموں میں بہت کچھ پوشیدہ ہوتا ہے اور اسے پوشیدہ کو جانتے بھی سبھی ہیں۔ بعض رشتے ایسے ہیں جو ”منہ بولے“ بھی رحمی رشتوں کی طرح ہی مقدس ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے پرانی باتوں کو دہراتے ہوئے ایک مرحوم دوست کے ذکر میں بتایا کہ اس

Read more

گوہر تاج صاحبہ کی کتاب: خاک سے کیمیا ہوئے جو لوگ

فیس بک پر اس کتاب کا علم ہونے پر محترمہ گوہر تاج صاحبہ کی خدمت میں کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے مجھے یہ ای۔ میل کے ذریعہ ارسال کر دی۔ پہلے دن ہی نصف پڑھ لی اور بوجہ مصروفیت اس کا مطالعہ اگلے دن مکمل ہوا۔ کتاب ”خاک سے کیمیا ہوئے جو“ جس طرح سے نام سے ظاہر ہے ایسے لوگوں کے حالات پر مشتمل ہے جن میں اکثر سے گوہر تاج براہ راست یا قریبی

Read more

ہمارے موجودہ فقیہان حرم

پاکستان اپنے تحریری آئین کے مطابق ایک اسلامی جمہوریہ مملکت ہے۔ اور یہ بات 1949 میں طے کی گئی تھی کہ : ”پاکستان کے جمہور کو“ جو اختیار و اقتدار ”اس (اللہ تعالیٰ) کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہو گا“ وہ ایک مقدس امانت ”ہے اس غرض کے لئے“ چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ

Read more

”کامسیٹس یونیورسٹی اور مکالمہ کی مرتی ہوئی روایت“ پر تبصرہ

زیر تبصرہ مضمون محترم عبدالستار صاحب کا ہے جو 21 فروری کو ہم سب میں شائع ہوا ہے۔ خاکسار مضمون نگار کی روشن خیالی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہمیشہ پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مذکورہ مضمون میں چند ایسے دلائل دیے گئے ہیں جو ان کے موقف کی تو شاید حمایت کرتے ہیں لیکن صورتحال پر منطبق صحیح نہیں ہوتے یا ان کا وزن یک طرفہ ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ : ”جولی

Read more

قصہ چاچے مولا داد کا

دنیا بھر میں رشتے مختلف ناموں سے پہچانے جاتے ہیں اور حسب مراتب ان کی تکریم ہوتی ہے یا چھوٹے ہوں تو شفقت کا سلوک کیا جاتا ہے۔ مثلاً والدین ہیں تو ان کا ادب کیا جاتا ہے ان کے ورثہ کا انسان حقدار ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے برعکس والدین وارث ہوتے ہیں۔ والدین کی وجہ سے رشتہ دار ماموں خالہ وغیرہ جذباتی لحاظ سے تایا چچا سے ذرا قریب لگتے ہیں۔ یوں تو آج کل انکل کا

Read more

الوداعی خطوط لکھ رکھے ہیں

مارچ 2003 کی بیس تاریخ، جمعرات کا دن اور عصر کا وقت ہے کہ ٹیکسی سٹینڈ پر میری پہلی باری آ جاتی ہے۔ ایک لگ بھگ اسی سال کی خاتون آ کر ٹیکسی میں بیٹھ جاتی ہے۔ علیک سلیک کے بعد گاڑی چلاتے ہوئے سامنے مین روڈ پر پہنچنے پر میں اس خاتون سے اس کی منزل دریافت کرتا ہوں تو جواب ملا۔ ”میں نے ہائی وے پل تک جانا ہے“ ہائی وے کے دو پل شہر کے وسط سے

Read more

آپ کے انڈر ویئر کا رنگ کون سا ہے؟: ایک تبصرہ

مکرم جناب عبدالستار صاحب آف میاں چنوں کا مورخہ 28 نومبر 2021 کا مضمون ”ہم سب“ میں پڑھا ہے۔ یہ باتیں بڑی عمدہ لکھتے ہیں۔ آج کے مضمون میں کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر تبصرہ و تنقید حسب ذیل ہے۔ انہوں نے لکھا ہے : 1۔ ”یہ سوال پوچھیں گے کہ آپ جو انڈر ویئر پہنتے ہیں اس کا رنگ کیا ہے؟ اس بات کا واضح امکان موجود ہے کہ وہ آپ کو فوری طور پر بدتمیز اور بے

Read more

تبصرہ بر تبصرہ بابت حقوق نسواں

کوئی پانچ گھنٹے قبل ”ہم سب“ کے فیس بک گروپ پر ایک قاری جناب سیف اللہ صاحب کا تبصرہ نظر سے گزرا۔ اس تبصرے پر مزید باون کمنٹ اب تک ہو چکے ہیں اور ابھی سلسلہ جاری ہے۔ عاجز جناب سیف اللہ صاحب کی تحریر پر تبصرہ سے پیشتر دیگر احباب و خواتین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہے کہ آپ کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس عزیز کی رائے سے جس حد تک اختلاف ہے اسے

Read more

اسلامو فوبیااور غیر اسلامی اسلامو فاشزم

فوبیا ایک اضطرابی ذہنی کیفیت ہے جو کسی شے یا صورتحال سے مستقل اور ضرورت سے زیادہ خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ متاثرہ افراد صورتحال سے بچنے کے لئے سب کچھ کر جانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ انفرادی ہو تو فرد کے لئے زندگی اجیرن کر دیتا ہے اور اگر یہ سماج یا معاشرے کے ایک گروہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور اس کا وقت پر تدارک نہ کیا جائے تو اس کے نتائج نہایت سنگین

Read more

نافعہ اکرام پر تیزابی حملہ اور مغربی فنڈڈ ٹولہ

محترمہ طیبہ ضیاء صاحبہ کا مورخہ 26 اپریل کا، نوائے وقت میں کالم، امریکہ میں سترہ مارچ 2021 کو ایک پاکستانی نژاد بچی پر تیزاب پھینکنے کے واقعہ پر ہے۔ موصوفہ واقعہ کی تفصیل لکھتی ہیں: ” گھر کے گیراج کے پاس اچانک پیچھے سے ایک بندہ دوڑتا ہوا آیا، اس کے ہاتھ میں سفید رنگ کا گلاس تھا جس میں تیزاب تھا اور تیزی سے نافعہ کے اوپر پھینک کر رفو چکر ہو گیا“ اور لکھتی ہیں کہ: ”واقعہ

Read more

تبصرہ بر مضمون مجاہد علی صاحب

اس اعلان برات کے ساتھ کہ راقم کو عمران سے کوئی عقیدت یا توقع نہیں ہے۔ مجاہد صاحب کے مضمون ”ہم سب“ میں مطبوعہ مورخہ 19 دسمبر 2020 کی تحریر میں ایک طرف جھکاؤ کو درست کرنے کے لئے عرض ذیل ہے :۔ 1۔ مضمون نگار کا پہلا۔ ”مصرع“ ہی بے وزن ہے کہ:۔ مضمون کا عنوان۔ ”ملک کو بھارت سے خطرہ ہے یا وزیر اعظم کی غیر ذمہ داری سے؟ تبصرہ:۔ یہ ایک ایسا تقابل ہے جو سیاسی غزل

Read more

عبدالودود قریشی صاحب کی وڈیو پر تبصرہ

محترم ودود صاحب! آپ نے پروگرام کا نام فیکٹس ود ودود نام رکھا ہے لیکن اگر میں فیکٹس سے آگاہ نہ ہوتا تو آپ کی بات کو شاید سچ ہی سمجھ لیتا۔ آپ نے جو باتیں اپنی وڈیو میں مورخہ 22 ستمبر 2020 کو بیان کی ہیں وہ فیکٹس کے مطابق ہرگز نہیں ہیں۔

1۔ آپ نے کہا ہے کہ ”تاریخ بتاتی ہے کہ 1929 سے ہی مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد سے اختلاف کرتے ہوئے انفرادی طور پر مصروف عمل تھے“ ۔ فیکٹ یہ ہے کہ مرزا صاحب تو 1908 میں وفات پا چکے تھے۔

Read more

آئین کی بالا دستی کا بیانیہ

محترم مجاہد صاحب کا یہ ایک ٹھوس موقف ہے جس کو وہ نیک دلی سے درست سمجھ کر ہر بار گھما پھرا کر پیش کرتے ہیں آج مورخہ چھ نومبر 2020 کو بھی انہوں اپنے مضمون میں اسی سمت رہنمائی فرمائی ہے۔ انہیں چونکہ پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار ایک آنکھ نہیں بھاتا، لہذا منطقی طور پرسیاستدانوں کی حمایت میں جمہوریت کی بحالی کی خاطر دلائل دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے سیاست دان اگر حقیقت میں جمہوریت پسند ہوتے

Read more

اگر مجھے قتل کیا جاتا!

قائد آباد میں ہونے والے واقعہ قتل کی روداد تو اب سوشل میڈیا کی مہربانی سے دنیا بھر میں نشر ہو چکی ہے۔ اور ابتداء سے لے کر اب تک جو معلومات تحریری یا وڈیو کی صورت میں شیئر کی گئی ہیں ان کے مطابق:۔ 1۔ ”خوشاب میں توہین رسالت کرنے پر پر بینک مینجر کو گارڈ نے گولی مار دی ہے۔ نیشنل بینک کا مینیجر جو کہ قادیانی تھا اس نے ایک سیکورٹی گارڈ کے سامنے حضور اقدس (ص)

Read more

سفیر فرانس کے نام کھلا خط

بخدمت عزت مآب جناب سفیر صاحب جمہوریہ فرانس۔ اسلام آباد کسی اور ذریعہ سے آپ تک رسائی میری جیسے ایک معمولی انسان کے لئے آسان نہیں لہذا ”ہم سب“ کے توسط سے اس توقع کے ساتھ کہ کسی ذریعہ سے یہ مکتوب پا کر آپ ٹھنڈے دل سے پڑھ کر اس کے مندرجات کو درست سمجھیں تو حکومت فرانس کو عاجزانہ رائے سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرے۔ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی روک تھام

Read more

اسرائیل میں قادیانی: عمران ریاض کے وڈیو پر تبصرہ

عزیزم مکرم عمران ریاض صاحب آپ کا اسرائیل میں قادیانیوں پر پروگرام ایک محب وطن پاکستان کی حیثیت سے کوئی بھی سنے تو اس کے جذبات کا انگیخت ہونا اس کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اس حد تک تو بات جائز اور درست ہے لیکن اس خبر کی تصدیق آپ نے جن ذرائع سے کی ہے راقم ایک سابق فوجی کی حیثیت سے پہلے کر چکا ہے اورثابت ہوا ہے کہ یہ تدریجی جھوٹ یک طرفہ مشہور کیا جا

Read more

آیا صوفیا: تبصرہ بر مضمون سید مجاہد علی صاحب

مسجد آیا صوفیہ کی ”بطور مسجد بحالی“ یقیناً کئی لوگوں کے لئے باعث آزردگی ہوئی ہے۔ عیسائیوں کے متبرک مقام کو فاتح استنبول کے اس جگہ کو مسجد بنانے پر زخم لگا تھا اس پر محترم اتاترک صاحب نے اسے میوزیم قرار دے کرجو مرہم رکھا تھا اس کو اردگان نے پھر ہٹا دیا ہے۔ لیکن غیر عیسائی یا غیر دینی حلقے اور خاص طور پر فرنچ لابی کے یورپین اس کی مخالفت کسی اور وجہ سے کر رہے ہیں۔

Read more

استاد محترم

کل تاریاں ہیٹھ کھڑو کے میں مضطرؔ! ادھی رات جد کھڑکی کھولی وقت دی آئی صدیاں دی خشبو محترم فرخی صاحب کی میرے اپنے خیال کے مطابق بے وقت لگتی وفات کی بدولت ماضی کی کھڑکی سے پرانی یادوں کے جھونکے در آنے لگے ہیں۔ اور ایک جھونکا ظاہری نگاہ سے بہت ہی معمولی سے واقعہ کی یادگار ہے لیکن خاکسار کی سوچ پر اس کا ایک مثبت اثر پڑا جس سے عمر بھر فیوض حاصل کیے جو ایک گڈرئیے

Read more

اسلامی جمہوریہ جرمنی

اسلامشے ریپبلک ڈوئیچلانڈ۔ جرمن زبان میں۔ اسلامی جمہوریہ جرمنی، کے الفاظ سن کر کرنل گستاف کے گویا کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا۔
”کیا مطلب؟“

ان کے اضطراب کو گویا نظر انداز کرتے ہوئے میں نے پھر دہرایا، تا کہ ان کو تسلی ہو جائے کہ انہوں نے صحیح سنا ہے۔ اسلامشے ریپبلک ڈوئیچلانڈ۔ اسلامی جمہوریہ جرمنی۔ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان یا اسلامی جمہوریہ ایران سے بخوبی آگاہ تھے۔ اس سے پہلے ان سے میری قومی اور بین الاقوامی معاملات پر سیکڑوں بار گفتگو ہو چکی تھی۔ جیسے میں ان کے زاویہ نگاہ سے واقف تھا وہ بھی میرے نظریات سے آگاہ تھے۔ امریکا اور روس کے معاملے میں ہمارے درمیان کسی حد تک ہمیشہ اختلاف رہا۔ آرمی میں ملازمت کے دوران سے وہ امریکا نواز تھے اور بعد میں بھی یورپ میں روسی بالا دستی کے اندیشے کے پیش نظر اس موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔

Read more

سائرن کا جواب

محترم مولانا محمد اکرم چوہدری صاحب کا مضمون بعنوان سائرن آج مورخہ تیس اپریل 2020 کے نوائے وقت کی زینت بنا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے چند نکات اٹھانے کے بعد حکومت کو وارننگ بھی دی ہے۔ اسی اخبار میں گجرات کے چوہدری صاحبان کا بیان بھی باسی کڑھی میں ابال کی مانند آیا ہے جس میں انہوں نے اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کی (جن کو پاکستان کے نیک۔ دیندار اور دیانتدار لوگ قادیانی کہہ کر بزعم خود اپنی

Read more

سید مجاہد علی کے اداریے پر اظہار خیال

”آئین سے غداری اور ملک سے بغاوت کیا ہوتی ہے”؟ اس عنوان کے تحت، محترم سید مجاہد علی نے بعض امور کی طرف نشان دہی کی۔ اس طرح متعفن پھوڑے کے گرد و پیش کا ذکر تو کیا، لیکن اپنی تشخیص کو فقط اپنے دردِ دل کے اعلان تک محدود رکھا۔ انہوں نے اس مرض کا ممکنہ علاج پیش نہیں کیا۔ ظاہر ہے اس بیماری جو کئی دیگر بیماریوں کا مجموعہ ہے، کو کسی ایک دوا سے ختم کرنا ممکن

Read more

ڈاکٹر دیتلف خالد۔ المعروف خالد دوران

ڈاکٹر خالد دوران گزشتہ صدی کے آٹھویں دھاکے میں جرمن ادارہ مشرقیات میں بطور سکالر ملازمت کر رہے تھے تو میرے ایک ملتانی دوست چوہدری نذیر احمد صاحب بھی ان کے ساتھ جزوقتی کام کرتے تھے۔ چوہدری نذیر احمد صاحب نے پاکستان انجمن ہمبرگ کو۔ ری آرگنائز۔ کیا تھا اور پاکستان کے حوالے سے بہت کامیاب تقریبات بھی منعقد کروائیں۔ ان سے ملنے جرمن ادارہ مشرقیات ہمبرگ گیا تو وہاں ڈاکٹر خالد صاحب سے 1980 میں ملاقات ہوئی۔

Read more

محترم یاسر پیرزادہ صاحب! ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

”ہم سب“ میں شائع شدہ پانچ فروری 2020 کے اس کالم میں جو محترم یاسر پیرزادہ صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ محترم پیرزادہ صاحب اسرائیل اور پاکستان کے درمیان مادی ترقی میں تفاوت۔ اس کے پسِ منظر اور وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”جب ہم بے بس ہو کر خدا سے دعا کرتے ہیں تو دراصل اُ سے ان قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں جو ممکن نہیں۔ “ :پھر ایک غلط فہمی کی

Read more

عبدالسلام کی بچی اور اصل حقیقت

مورخہ 21 نومبر 2019 کے "ہم سب "میں محترم ڈاکٹر شیر شاہ سیّد صاحب صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے۔ راقم ان کے مضامین کا بڑی باقاعدگی سے مطالعہ کرتا ہے جو انسانی زندگی کے تجربات کا عکس ہوتے ہیں۔ ان مضامین کے مظلوم کرداروں سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور ظالموں کی چیرہ دستیوں سے کراہت ہوتی ہے۔ ان کا مذکورہ بالا مضمون بھی اسی نوعیت کا ہے جس میں پاکستان کے نوبل انعام یافتہ سائینس دان جناب ڈاکٹر

Read more

وزیر اعظم پاکستان کے نام کھلا خط

محترم و مکرم جناب وزیر اعظم صاحب! ۔ معافی چاہتا ہوں کہ معمول کے برخلاف۔ پاکستان کے مقدس آئین کے تحت بنائے گئے ایک بزعم خود محبِ اسلام کے نافذ کردہ قانون کی خلاف ورزی سے بچنے کے لئے۔ آپکی خدمت میں کچھ عرض کرنے سے پیشتر۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔ راقم ایک تارک وطن پاکستانی ہے جو پیشہ وکالت چھوڑ کر پنشنر ہونے تک بیرون ملک محنت و مزدوری کرتا رہا ہے۔

Read more

عمران خاں کی تقریر پر تبصرے پر تبصرہ

راقم کو عمران خاں سے کوئی عقیدت تونہیں ہے لیکن محض ایک پاکستان سے محبت رکھنے والے کی حیثّیت سے اس کی تقریر پر معزز دانشور جناب مجاہد علی صاحب نے جو تبصرہ کیا ہے اس پر تبصرہ کرنا پڑ گیا ہے جو ذیل میں پیش خدمت ہے۔ :موصوف مذکور لکھتے ہیں اس تقریر میں جن معاملات کو اور خاص طور سے کشمیر کے مسئلہ کو جس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے، کیا اس کے بعد دنیا

Read more

جی ہاں ہم محبت کا راز بخوبی جانتے ہیں

محترم ڈاکٹرخالد سہیل صاحب ایک عالم انسان ہیں اور ان کی تحاریر کا مطالعہ شوق سے اور گہرائی میں جا کر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے تازہ مضمون کا عنوان رکھا ہے کیا آپ محبت کا راز جانتے ہیں؟ پھر اس کے جواب میں یہ مضمون تحریر کیا ہے۔ ظاہر ہے وہ محبت کو سمجھنے کے لئے اس کی تعریف اپنے نظریہ کے مطابق ہی متعین بھی کریں گے۔ اگرچہ انہوں نے مثالیں دے کر اس کی کسی حد

Read more

کلمہ طیّبہ کی حرمت اور سعودی پرچم

سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے اور اس کے صوبے حجاز میں حرمین شریفین کے ہونے کی بدولت اس کو عالمِ اسلام میں ایک امتیازی خصوصیّت حاصل ہے۔ جس طرح ہر ملک کو اپنی امنگوں اورجذبات کے مطابق ملکی علامات ترانہ، جھنڈا وغیرہ بنانے کا اختیار ہوتا ہے وہ اس ملک کا بھی حق ہے۔ سعودی عرب کے جھنڈے میں کلمہ اوراس کے نیچے ایک تلوارہے۔ سعودی عرب کی موجودہ ریاستی تشکیل میں تلوار کا ایک نمایاں رول تھا۔ اس کے اظہارسے ان کی بہادرانہ کاوشوں کا اظہار درست ہے۔

Read more

حامد میر صاحب کے مضمون ’کلین شیو مولوی‘ پر تبصرہ

مضمون زیر تبصرہ محترم میر صاحب نے اپنی ہی تقریر پر کیے گئے تبصروں پروضاحتی تبصرے کی صورت میں لکھا تھا۔ ابتداء میں ہی عرض کرنا مناسب ہے کہ راقم کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اور محبت کرنے والے ننھیال کا تعلق احرارِ اسلام سے۔ دونوں طرف کے موقف سے بخوبی آگاہ ہے پاکستانی قومی ترانہ کبھی بیٹھ کر نہیں سنا۔ اور ہر دن پاکستان کی بہبود کی فکر میں رہتا ہے۔ یہ حب الوطنی نہ کسی پر احسان

Read more

عاطف میاں کا بیان، کرپشن اور ہمارا بنیادی مسئلہ

مورخہ 24 جولائی کو بی بی سی اردو کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے عاطف میاں نے پاکستان کے معاشی مسائل پر گفتگو کے دوران کہا کہ ”اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کرپشن نقصان تو پہنچاتی ہے، لیکن ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے جو ترقی کا ماڈل اپنایا ہے یہ اب بنیادی طور پر چل ہی نہیں سکتا ہے۔ ’ مزید یہ کہا کہ ”کرپشن ہو یا نہ ہو، اب یہ ممکن ہی

Read more

بجواب یونیورسٹیاں یا فحش کدے؟

حمزہ شریف کا مضمون۔ یونیورسٹیاں یا فحش کدے؟ ۔ ان کے مخلصانہ مگرغلط معلومات۔ نظریات پر مبنی خیالات کا پَرتو ہے۔ اس پر برہمی کے بجائے ان کی حتی المقدور درستگی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے

انہوں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ
۔ یونیورسٹی کے طلبہ میں دین سے بیزاری کا عنصر روز بروز سرطان کی طرح زور پکڑتا جا رہا ہے

Read more

محبت ناکافی سمجھنے کی تین غلط وجوہات

محترمہ ڈاکٹر لبنہ مرزا صاحبہ نے۔ وہ تین وجوہات جب محبت ناکافی ہوتی۔ کے زیر عنوان ہم سب کے لئے ایک مضمون تحریر کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے نظریہ اور تجربہ کی بنیاد پر لکھا ہے۔ ان کے اس معاملہ میں اخلاص اور اندرونی سچائی پر شک کیے بغیر اور ان کی کوشش کی تعریف کے ساتھ ان کی ناپختہ تحریر پر تنقید لازم ٹھہرتی ہے۔ عنوان پڑھ کر لگتا تھا کہ وہ۔ محبت۔ کی تعریف بھی کریں

Read more

پاکستانی سیاست پر انگریزی تبصرہ

آزاد کشمیر 1973 میں سردار عبدلقیوم خاں صاحب کے زیرِ اقتدار تھاجو اپنے اسلام کو حقیقی اسلام سمجھتے تھے۔ انہوں نے نفاذ اسلام کے نام پر نظامِ عدل کو مشرف با اسلام کرنے کے لئے قانون دان جج صاحبان کے ساتھ ان کی اعانت کے لئے مذہبی علماء ( سکالرز) کی قاضیوں کی تقرریاں بھی فرمائیں۔ اسی سال مئی میں آزاد کشمیر کے ایک نامور وکیل جناب چوہدری محمد منظور صاحب مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا۔ پنجاب میں ان دنوں گرمی نے اُدھم مچا رکھا تھا۔

Read more

دیار غیر میں وطن کی مہک کا المیہ

مغرب میں مصنوعات کی کھپت کے لئے تشہیر ایک اہم شعبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر قصبے میں علاوہ علاقائی اور قومی اخباروں کے ایک آدھ ہفتہ وار اخبار بھی نکلتا ہے جس میں کمرشل اشتہارات کے علاوہ پیدائش اموات کے اشتہارات اور کچھ مقامی خبریں بھی درج ہوتی ہے۔ یہ اخبار ہر گھر میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں اور لوگ ایک نظر ڈال کر کوڑا دان میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی کچھ اس اخبار کے ساتھ

Read more

سوا لاکھ یورو سالانہ ٹیکس دینے والا چپڑاسی

چپڑاسی ہونے کو ہمارے معاشرہ میں حقیر سمجھتے ہیں۔ لیکن آج مئی 1975 کی تیرہ تاریخ اور منگل کا دن ہے۔ منگل کا دن برِ صغیر کے باسیوں کے لئے خوشی کا دن ہوتا ہے میں ایک بُجھے ہوئے دل کے ساتھ لاہور سے سرگودھا جانے والی سڑک کے شیخوپورہ سے پہلے چیچو کی ملیاں سن شائین ملز کے سامنے بس سٹاپ کے پر کھڑا ہوں۔ گرمی کا موسم تو ہے لیکن باہر کی گرمی اندر کی گرمی سے کم

Read more