یہ قتل تھا یا خود کشی؟
دن کا پچھلا پہر تھا، میں باہر بیٹھا تھا، اور میرے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔ میری فکر کا دھارے کا بہاؤ کسی ایک سمت میں نہیں تھا، بلکہ تند و تیز ہواؤں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہا تھا، کہ اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے مجھے تخیلاتی دنیا سے نکال کر واپس حقیقی دنیا میں لا پٹخا۔ میں نے سیل فون اٹھایا، اسکرین پر نظر ڈالی، تو عمران کا نام جگمگا رہا تھا۔
”ہیلو“! میں نے نرم آواز میں کہا۔
”بس بہت ہوا یار، اب میں اور برداشت نہیں کر سکتا“۔
عمران نے بات بے تکے انداز میں اس لیے شروع کی، کیوں کہ وہ جانتا تھا، کہ میں اس کی حالات جانتا ہوں۔
”عمران! تم کوئی بے وقوفی مت کرنا، میں دس منٹ میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں“۔
عمران نے میری بات سنے بغیر ہی فون رکھ دیا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ آواز میں آخری بار سن رہا ہوں۔ پھر کبھی میں یہ آواز نہ سن سکوں گا، نہ کبھی بھلا سکوں گا۔ عمران کی بات اور اس کے لہجے نے مجھے چونکا دیا تھا۔ میں نے جلدی جلدی بائیک نکالی اور عمران کے گھر کی طرف بڑی تیز رفتاری سے چلانا شروع کر دی۔
میں جلد سے جلد عمران کے پاس پہنچنا چاہتا تھا۔ میری سوچ دریا کے پانی کی طرح، اب ایک ہی سمت بہہ رہی تھی۔ اس کی منزل عمران تھی۔ جس طرح دریا کا پانی نہروں اور ندی نالوں میں بٹ جاتا ہے اور آخر کار باقی ماندہ دریا سمندر میں جا گرتا ہے۔ میری سوچ بھی عمران کی یادوں اور اس کی باتوں میں بٹ چکی تھی۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ اپنے حواس بحال رکھوں اپنی سوچوں پر قابو رکھوں، مگر ناکام رہا۔ ایک سوال مجھے بار بار تڑپا رہا تھا کہ کیا ہو گا، اگر عمران نے کوئی انتہائی قدم اٹھا لیا تو؟
یہ سوال بجلی کی طرح میرے ذہں میں کوند رہا تھا۔ میں اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے بہت جلد عمران کے گھر پہنچ گیا۔ وہاں صف ماتم بچھ چکی تھی۔ ایک ماں کے جگر کا ٹکڑا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کٹ چکا تھا۔ ایک بھائی اپنی لاڈلی بہن کو چھوڑ کر جا چکا تھا۔ اپنے سب دوستوں اور رشتے داروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ چکا تھا۔ عمران نے اپنے سر میں گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔
عمران کو اس انتہائی قدم پر کس نے مجبور کیا؟ کیا عمران اکیلا اپنی موت کا ذمہ دار تھا یا کوئی اور بھی تھا جو اسے مرنے پر مجبور کر رہا تھا؟
عمران نے ایک زمین دار گھرانے میں آنکھ کھولی اس سے پہلے اس کے دو بھائی اور ایک بہن اس دنیا میں آ چکے تھے۔ عمران کے گھر والے نسلوں سے زمین دار تھے اور نسلوں سے ان پڑھ ضدی اور انا پرست۔ یہ انا پرستی اس شخص میں تو حد سے بھی زیادہ بڑھ جاتی، جو خاندان کا سربراہ ہوتا۔ عمران پیدا ہوا تو اس کے خاندان کا سربراہ اس کا والد چودھری امجد تھا۔ چودھری امجد کے پاس کئی مربِع زمین تھی۔ ان کے گھر کی ساری آمدن اسی زمین ہی کی کمائی تھی۔ لیکن امجد میں وہی خامیاں تھیں جو اکثر زمین داروں میں ہوتی ہیں۔ گردن میں سریا اور زبان پر صرف اور صرف اپنی بات۔ کسی دوسرے کی بات ماننا تو دور کی بات ہے وہ سننا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔
عمران پیدا ہوا تو اسے کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ دھن دولت، عزت، پیار سب کچھ اس کی ضرورت سے بڑھ کر تھا۔ عمران بڑا ہوتا گیا، لیکن عمران نے اپنے سب گھر والوں کے برعکس پڑھائی شروع کر دی۔ اس کے گھر میں اور کوئی پڑھا لکھا نہیں تھا۔ البتہ اس کے خاندان میں چند ایک لوگ میٹرک تک پڑھے ہوئے تھے۔ عمران کے پاس دولت بے حساب تھی۔ وہ اس دولت کو جس کام میں چاہتا خرچ کرتا، اسے کوئی روک ٹوک نہ تھی۔
اس نے بچپن ہی سے اس دولت کو اپنی پڑھائی پر خرچ کیا۔ گھر والوں سے اپنی پڑھائی کے لیے ضد کرتا، نا کہ کسی اور چیز کے لیے۔ عمران بڑھتا رہا اور پڑھتا رہا۔ وہ ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا۔ عمران اپنے خاندان کا پہلا فرد تھا جو اتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکا۔ باقی خاندان میں سے چند لوگ ہی میٹرک تک پڑھے ہوئے تھے۔
عمران نے عملی زندگی کا آغاز ایک پرائیویٹ کالج کے قیام سے کیا۔ وہ اپنی دولت سے اس دنیا کے اندھیرے ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ دوسروں کو سکھانا چاہتا تھا کہ ہمیں دوسروں کی بات بھی ماننی چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر وقت ہمی جو بات کریں، وہی درست ہو۔ اس میں روایتی خاندانی ہٹ، خون میں ضد تھی۔ ایک رات جب عمران گھر لوٹا، تو اس کے ابو نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا عمران میں نے تمہارا رشتہ تمہاری پھوپھی کی بیٹی سے پکا کر دیا ہے اور تمہیں اس سے شادی کرنا پڑے گی۔
عمران یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا اور منہ سے بغیر کوئی لفظ ادا کیے، وہاں سے اٹھ کر جانے لگا تو چودھری امجد نے پکارا، ”عمران مجھے تمہاری ہاں کا انتظار رہے گا“۔ عمران چپ چاپ چلا گیا۔ جس لڑکی سے امجد نے عمران کی شادی پکی کی تھی، وہ بالکل ان پڑھ تھی۔ اگر چہ اس خاتون کو زندگی گزارنے کا سلیقہ آتا تھا، مگر پھر بھی عمران اسے اپنا ہم سفر بنانے کا قائل نہ تھا۔ وہ اپنی طرح کی اعلی تعلیم یافتہ لڑکی کو جیون ساتھی بنانا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ چودھری امجد اس کی خواہش کو اپنے قول پر آسانی سے حاوی نہیں ہونے دے گا۔
عمران نے اپنے انکار پر سب کو حیران تو کیا تھا، کیوں کہ اب تک چودھری امجد کی بات اس طرح سے کسی نے بھی نہیں ٹھکرائی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چودھری امجد کو غصہ بھی دلا دیا تھا۔ امجد جب بھی عمران سے ملتا، اسے اپنے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو کہتا، مگر عمران ٹال دیتا۔ ایک سال تک عمران کو اس کے ابو کی ضد نے اتنا زچ کر دیا، کہ وہ خود کو نفسیاتی مریض سمجھنے لگا۔ ایک دن جب امجد کو اس کی بہن کا پیغام ملا، کہ اب شادی ہو جانی چاہیے اور تم اپنی اولاد کو راضی کر لو۔
اس رات امجد نے عمران کو سب کے سامنے اپنے ڈیرے پر بلایا اور کہا، دیکھو برخوردار! میں اپنی بہن کو زبان دے چکا ہوں۔ اب تمہیں نادیہ سے شادی کرنا ہی پڑے گی۔ کل سے ہم شادی کی تیاریاں شروع کر دیں گے اور مجھے انکار پسند نہیں۔
سب کے سامنے عمران نے چودھری امجد کو اپنا فیصلہ سنایا کہ وہ نادیہ سے شادی نہیں کرے گا۔ عمران کے انکار پر چودھری امجد آگ بگولا ہو گیا اور بے عزت کر کے عمران کو وہاں سے نکال دیا۔ دوسرے دن عمران اپنے کالج گیا۔ یہ مہینے کا پہلا ہفتہ تھا۔ عمران نے سب عملے کو ان کی تنخواہیں دیں اور سب سے مل کر واپس آ گیا۔ وہ اپنے سر کسی کا قرض نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے گھر آیا، اپنے کمرے میں گیا، پستول نکالا اور خود کو سر میں گولی مار لی۔
آپ بے شک اسے ایک خود کشی کہیں، مگر میری نظر میں یہ ایک قتل ہے۔ ایک آزاد انسان کی آزادی کا قتل۔ ایک انسان کے جذبات کا قتل۔ ایک انسان کو مارنا پوری انسانیت کو مارنے کے برابر ہے۔ لیکن ایک انسان کو مرنے پر مجبور کرنا بھی کسی قتل سے کم نہیں۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں، کہ ہم جس کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر رہے ہیں، وہ بھی ہماری اولاد ہے۔ ہماری ہی نسل کا ہے اور اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون بھی ویسا ہی انا پرست اور ضدی ہے۔
ہم کیوں کسی کی زندگی بچانے کے لیے اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتے؟ کیا ہمارے بولے وعدے کے چند لفظ قرآن کے حروف ہو گئے، جو بدل نہیں سکتے؟ کیا ہم کسی کو اس کی اپنی مرضی سے جینے نہیں دے سکتے؟ کیا ہمارے وعدے یا ہماری بات کسی کی زندگی سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں؟
جب عمران نے پڑھنے کا ارادہ کیا تو اسے کسی نے نہ روکا۔ اس نے اپنا بزنس شروع کیا تو اسے کوئی روک ٹوک نہ ہوئی۔ جب اپنی زندگی کے سارے فیصلے اس نے خود کیے تو یہ فیصلہ کیوں نہیں، جو اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ تھا؟ یہ بھی اسے خود کرنے دیا جاتا۔ عمران نے مرنے سے پہلے کاغذ پر یہ بات لکھ کر رکھی تھی۔
Relationships never die a natural death.
They are murdered by ego, disrespect, selfishness and disloyalty.۔
میں یہاں عمران کے اس قدم کو سراہ نہیں رہا۔ اسے شاباش نہیں دے رہا۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں جھک جانا چاہیے۔ ہمیں کبھی تو دوسروں کی بات مان لینی چاہیے۔ یہ سب ہمارے ضدی پن اور انا پرستی کا کیا دہرا ہے۔ ایسے نقصان سے بچنے کے لیے ہمارے پیارے نبیؐ نے کئی صدیاں پہلے فرمایا تھا:
”جھک جانا، برداشت کرنا، صبر کرنا سیکھ لو۔ اگر تمہاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا“۔


