عدالتی کمیشن کس کی توقعات پوری کرے گا؟


\"edit\"ملک میں کئی ماہ کی سیاسی کشمکش ، دھمکیوں ، جلسوں اور دھرنوں کے بعد بالآخر پاناما لیکس کی تحقیقات کا معاملہ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ ایک رکنی کمیشن تک محدود ہوجائے گا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے آج کی سماعت میں واضح کیا ہے کہ عدالت اس معاملہ پر وقت ضائع نہیں کرے گی۔ اس لئے تمام پارٹیوں کو فوری طور پر اپنے ٹی او آرز TORs جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدالت ٹی او آرز کا فیصلہ کرکے سوموار تک کمیشن کے قیام کا اعلان کرے گی۔ اس حوالے سے کسی پارٹی کی پسند یا ناپسند کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ اس طرح یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عدالت وزیراعظم یا دیگر اراکین قومی اسمبلی کی اہلیت کے سوال پر غور کرنے کی بجائے پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے الزامات کے بارے میں بے یقینی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے منگل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے فریقین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کمیشن کے قیام سے پہلے تحریری طور پر یہ یقین دہانی کروائیں کہ کمیشن کا فیصلہ بہرصورت قبول کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم نواز شریف کے پاس اس مطالبہ کو ماننے کے سو اکوئی چارہ نہیں تھا۔ عمران خان پاناما پیپرز اور وزیراعظم کی مالی بدعنوانیوں کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے کارکنوں کی توقعات میں بے پناہ اضافہ کر چکے تھے لیکن 2 نومبر کو وہ احتجاج کےلئے چند ہزار لوگ بھی اسلام آباد میں لانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اسی طرح نواز شریف اپریل میں مالی بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات سے مزید گریز کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مان کر ان دونوں لیڈروں نے ملک کو درپیش ایک افسوسناک بحران سے نجات حاصل کی ہے۔ تصادم کی صورت میں حکومت کی شہرت اور سیاسی پوزیشن کو تو نقصان پہنچتا لیکن تحریک انصاف بھی دھرنے اور حکومت کو غیر فعال کرنے کے دعوؤں کے بعد مناسب سیاسی قوت کا مظاہرہ نہ کر کے، بدحواسی کا شکار ہوتی اور اس کی صفوں میں انتشار زیادہ تیزی سے رونما ہوتا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی آڑ میں تحریک انصاف اور حکومت دونوں کو اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے خود اپنے پیدا کردہ بحران سے نکلنے کا موقع ضرور ملا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں ہی طے ہو سکے گا کہ کس پارٹی کو اس کی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس بات کا بڑی حد تک انحصار سپریم کورٹ کے مقررہ کردہ کمیشن کے فیصلہ پر ہوگا اور یہ کہ وہ کتنی جلدی کس قسم کے حتمی فیصلہ کا اعلان کر سکتا ہے۔

اب اس کمیشن کے قیام اور کارروائی کی راہ میں قواعد و ضوابط پر سیاسی عدم اتفاق تو رکاوٹ نہیں بنے گا لیکن یہ سوال بہرحال متعدد سیاسی رہنماؤں کےلئے سوہان روح بنا رہے گا کہ کمیشن کا ممکنہ فیصلہ کس حد تک ان کی توقعات کے مطابق ہوگا۔ کمیشن کو پاناما پیپرز کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے اور ان کی تصدیق کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ آج نیب نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملہ کی تحقیقات کا معاملہ اس کے اختیار سے باہر ہے۔ کارروائی جوں جوں آگے بڑھتی ہے تو دیگر وفاقی ادارے بھی اپنی مجبوری اور معذوری سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ یا اس کا مقرر کردہ کمیشن تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے۔ اسے حقائق تک پہنچنے کےلئے موجودہ نظام کے اداروں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ اس لئے کمیشن کےلئے ضروری ہوگا کہ وہ اس معاملہ کی تفصیلات میں جائے بغیر یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کو سنگین مالی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے آج کی کارروائی کے دوران واضح کیا ہے کہ اس نے اس معاملہ کی سماعت عوامی اہمیت اور بنیادی حقوق کے پیش نظر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے 2 نومبر کے تصادم سے گریز کی صورت پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے اس حد تک تو سپریم کورٹ اپنے مقصد میں فوری طور پر کامیاب ہوئی ہے۔ البتہ مزید کارروائی کے دوران عدالت کو اس بات کا تعین کرنا پڑے گا کہ اس اسکینڈل میں کس کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے تھے، جن کے تحفظ کےلئے سپریم کورٹ کمیشن کے قیام اور اس کے قواعد و ضوابط کی از خود تیاری کے غیر معمولی اقدام پر راضی ہوئی ہے۔ ملک میں پیدا کردہ سیاسی بحران کی صورتحال میں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ خوشگوار اور خوش آئند دکھائی دیتا ہے لیکن یہ فیصلہ آئینی اور قانونی پیچیدگیوں سے مبرا نہیں ہو گا۔ ایک طرف سپریم کورٹ اور اس کے مقرر کردہ کمیشن کو ایک خاص مدت میں اس معاملہ پر کوئی رائے دینا پڑے گی لیکن اس کے ساتھ ہی اسے پیشگی ضمانتیں حاصل کرنے کے باوجود اس بات کا اندیشہ رہے گا کہ فیصلہ کے قانونی و آئینی پہلوؤں سے اختلاف سامنے آئے گا اور اس پر نظر ثانی کی درخواستیں جمع کروائی جائیں۔

پاناما پیپرز میں عوامی دلچسپی کا پہلو ملک کے سیاستدانوں کی یک طرفہ اور اشتعال انگیز بیان بازی کی وجہ سے زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران تحریک انصاف کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں نے عوام کو یہ یقین دلادیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کثیر قومی وسائل ملک سے لوٹ کر غیر قانونی طریقہ سے (منی لانڈرنگ کے ذریعے) ملک سے باہر لے گئے تھے اور اب اس غیرقانونی سرمائے سے نواز شریف کے بچے آف شور کمپنیاں قائم کرکے دولت بنا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ اور کمیشن کو آئندہ دنوں میں احساس ہوگا کہ سیاسی بیانات میں الزام عائد کرکے کسی کو ملزم سے مجرم ثابت کرنا ایک بات ہے لیکن عدالت کے لئے ان الزامات کو ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کے بغیر قبول کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ فاضل ججوں کو بلاشبہ اس مشکل کا اندازہ ہوگا اور وہ اس سے نکلنے کےلئے حدود متعین کرنے اور ایک خاص پہلو سے پوری صورتحال کو پرکھنے کی کوشش کریں گے۔

اس تنازعہ کے اہم ترین فریق تحریک انصاف اور عمران خان تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ نواز شریف کے خاندان نے قومی وسائل چوری کئے ہیں اور یہ دولت غیر قانونی طور سے ملک سے باہر منتقل کی گئی ہے۔ عمران خان نے ستمبر میں رائے ونڈ کے جلسہ میں اسکرین پر جو شواہد دکھا کر اپنا مقدمہ ثابت کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ شریف خاندان اور کابینہ کے مختلف ارکان کے مختلف اوقات میں دیئے گئے بیانات پر مبنی تھے۔ کیا اس قسم کے اخباری یا ٹیلی ویژن بیان کس عدالتی کمشین کے سامنے وزیراعظم کی بدعنوانی کو ثابت کر سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کو اپنے لائق فائق وکلا کے ذریعے عدالتی کمیشن کو اس بات پر قائل کرنا پڑے گا کہ یہ شواہد قانونی لحاظ سے قابل قبول ہیں اور وہ عمران خان کی بات مانتے ہوئے نواز شریف کو بدعنوان قرار دے سکتا ہے۔ تاہم یہ پیچیدہ معاملہ اس قدر آسان ثابت نہیں ہوگا۔

اس اسکینڈل کا انکشاف اس سال اپریل میں ہؤا تھا جب ایک نامعلوم شخص جسے جان ڈو کے نام سے پہچانا جاتا ہے، نے جرمن اخبار سودیتشے ذائتینگ SZ کے ایک صحافی سے رابطہ کرکے پاناما کی کمپنی موسائیک فونسیکا کی 11 ملین سے زائد خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اخبار نے اس حوالے سے انٹرنیشننل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے ساتھ رابطہ کیا۔ اس طرح دنیا کی ایک سو سے زائد میڈیا کمپنیوں میں کام کرنے والے 400 سے زائد صحافیوں نے ایک برس تک ان دستاویز کی چھان بین کرکے یہ یقین کرنے کی کوشش کی کہ وہ درست کاغذات ہیں۔ اس کے بعد اس سال اپریل میں چند سو دستاویزات جاری کی گئیں جن میں دنیا کے متعدد ملکوں کی اہم شخصیات ، سیاستدانوں اور حکمرانوں کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا۔ اگرچہ عام طور سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ان بااثر لوگوں نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اپنے ناجائز وسائل کو ہی چھپایا ہوگا لیکن کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ آف شور کمپنیوں کے سب مالکوں کی دولت ناجائز ہے۔ موسائیک فونسیکا کے کاغذات سے حاصل ہونے والی معلومات کو ابھی کسی عدالت میں کسی ایک شخص کے خلاف غلط یا درست ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ البتہ متعدد سیاسی رہنماؤں کو اس کی سیاسی قیمت ضرور ادا کرنا پڑی ہے۔ لیکن کئی حکمران ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان انکشافات اور معلومات کو خاطر میں لانے اور ان پر تبصرہ کرنے کی بھی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔

اس پس منظر میں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کا قائم کردہ کمیشن کس حد تک پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنے اور ان سے سچائی برآمد کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ اگر الزام لگانے والے لوگ اور جماعتیں از خود اس حوالے سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کر سکے اور جن لوگوں پر الزام عائد ہے انہوں نے خود کسی غلطی کا اعتراف نہ کیا تو کمیشن ان تفصیلات میں جانے سے گریز کرے گا۔ اس صورت میں یہ کمیشن سچائی جاننے کےلئے کس حد تک سود مند ثابت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید کمیشن کی حتمی رپورٹ بھی فراہم نہ کر سکے۔

الزام تراشی کی زد میں آئے ہوئے نواز شریف اپنے طور پر خود کو بے گناہ قرار دیتے ہیں۔ پاناما پیپرز میں اپنے بچوں کی آف شور کمپنیوں کے نام سامنے آنے کے بعد انہوں نے 2 بار قوم سے خطاب کیا اور ایک بار پارلیمنٹ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلئے تفصیلی تقریر کی اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کے خاندان نے یہ وسائل متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کاروبار اور صنعتکاری کے ذریعے حاصل کئے تھے اور اب ان کے صاحبزادگان خود مختار ہیں اور کامیاب کاروبار کے ذریعے اپنی اور خاندان کی دولت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کی اکثریت اس وضاحت کو درست تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن سپریم کورٹ یا اس کے مقرر کردہ کمیشن کےلئے عوامی تاثر کو بنیاد بنا کر وزیراعظم کو قصور وار ٹھہرا دینا آسان نہیں ہوگا۔ کمیشن البتہ عوامی تاثر کو بیانات اور مہیا دستاویزات میں موجود تضادات کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اور وزیراعظم کے خاندان کے کاروباری معاملات پر شبہ کا اظہار کرسکتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کمیشن کی طرف سے اس قسم کے ریمارکس سے نواز شریف کی سیاسی پوزیشن کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کمیشن کتنی معلومات حاصل کرسکتا ہے اور وہ کن الفاظ میں کتنی شدت سے اپنے شبہ کا اظہار کرتا ہے۔

عمران خان اور نواز شریف نے چونکہ پاناما پیپرز کے حوالے سے انتہائی موقف اختیار کئے ہیں، اس لئے یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ کمیشن کے فیصلہ سے دونوں کو مایوسی ہو اور دونوں اپنے اپنے طور پر اسے مسترد کرتے نظر آئیں۔ اس کے علاوہ کمیشن کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاناما پیپرز میں نواز شریف کے بچوں کے علاوہ تین سو کے لگ بھگ دیگر اہم پاکستانی خاندانوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف اور ان کے حلیف عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر بھی الزامات عائد کرکے، ان کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کریں گے۔ ان حالات میں کیا عدالتی کمیشن خود کو صرف نواز شریف کے معاملات کی جانچ تک محدود کر سکے گا یا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلئے اسے بعض دوسرے معاملات پر بھی غور کرنا پڑے گا۔ یہ بھی ایسا مشکل سوال ہے جس کا جواب آئندہ چند دنوں میں سامنے آ سکتا ہے اور جس کی روشنی میں کمیشن کے دائرہ کار اور اس کے امکانات کے بارے میں بھی اندازہ قائم کیا جا سکے گا۔

اس دوران نواز شریف اگر وقتی طور پر سکھ کا سانس لے رہے ہیں تو عمران خان کو اپنی پارٹی کے ناراض کارکنوں کو راضی کرنے کا اہم کام درپیش ہے۔ وہ خود اعلان کر چکے ہیں کہ 2 نومبر کے بعد کوئی احتجاج نہیں ہوگا۔ اب وہ سپریم کورٹ کو منصف مان کر یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ وہاں سے انصاف ہی ملے گا۔ تاہم تحریک انصاف کے کارکن تو اپنے چیئرمین کے ان الفاظ کو پورا ہوتا دیکھنا چاہیں گے کہ نواز شریف وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہوں اور ان کے پورے خاندان کو بدعنوانی کے الزام میں جیل کی ہوا کھانی پڑے۔ عمران خان اور ان کے کارکنوں کا یہ خواب پورا ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali