عمران کارکنوں کا مان تو کب کا توڑ چکا


میں اس آخری دھرنے کا فیصلہ بدلنے کی بات نہیں کر رہا۔ بلکہ سچ بات یہ ہے کہ میں خان صاحب کے ضد چھوڑ دینے پر خوش ہوں۔ یہ دھرنا تو ایک اور فاش غلطی \"saleemتھی۔ خان صاحب اس سے باز آ گئے تو ٹھیک کیا۔ صبح کا بھولا شام کو نہ سہی دوسرے تیسرے دن ہی گھر آ گیا تو اچھا ہی کیا۔ میں تو پرانی بات کر رہا ہوں۔ کارکنوں کا مان تو بہت پہلے ٹوٹ چکا تھا۔

عمران قومی ہیرو تھے اور بہت مقبول تھے۔ سیاست میں آ کر تبدیلی کا نعرہ دیا تو وہ بھی بہت مقبول ہوا اور بہت لوگوں کی امید بندھی۔ اس ملک میں تبدیلی کی بہت ضرورت تھی اور ہے۔ گو کہ خان صاحب اس نعرے کو سپورٹ کرنے کے لئے کوئی پلاننگ تو نہ دکھا سکے مگر پھر بھی تبدیلی کے نعرے کو لوگوں نے قبول کیا۔ پی ٹی آئی کےکارکن بہت فخر اور اعتماد کے ساتھ تبدیلی کا دعویٰ کرتے اور دلیل میں پرانے کرپٹ روایتی سیاستدانوں سے چھٹکارے کی بات کرتے تھے۔

عمران نے اس ملک میں حقیقی تبدیلی کی بات کبھی نہیں کی تھی۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بہت سارے حقیقی مسائل کا کبھی ذکر بھی نہیں کیا۔ مثلاً پاکستان کے آئین میں کچھ چیزیں مبہم ہیں اور پاکستانی شہریوں میں تفریق کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان کا آئین اپنے تشخص میں مذہبی ہے۔ ریاست کا بھی ایک عقیدہ ہے اور شہریوں کی شخصی آزادی گھٹن کی حد تک محدود ہے۔ آئین کی اس اساس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل تبدیلی بھی اسی سے پھوٹے گی۔ ترقی، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کی سر بلندی کی راہیں کھولنا ایک سیکولر آئین کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جماعت اسلامی آئین کی ان خامیوں کی محافظ ہے اور عمران ان کا اتحادی ہے۔ تبدیلی کی بات کرنا تو مضحکہ خیز ہے۔

پاکستان کا ایک اہم مسئلہ فوج اور منتخب خکومت کے درمیان طاقت کا غیر متوازن ہونا ہے۔ وزیر اعظم چاہے دو تہائی اکثریت لے کر ہی کیوں نہ آ جائے پھر بھی عملاً اسے آرمی چیف کے ماتحت ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ مارشل لاء کے نزول کا ڈر دائمی مرض کی طرح ہے۔ اگر حکومت آرمی کی لائن سے ذرا سا بھی ہٹنے کی کوشش کرے تو اسے سخت نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ 1988 کے بعد کی مختصر سی تاریخ دیکھ لیں۔ سارے وزارئے اعظم اور ان کی حکومتیں مکمل طور پر بے بس اور بے اختیار تھیں۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ آپ جنرل اسلم بیگ سے جنرل راحیل شریف تک تمام آرمی چیف کو دیکھ لیں سب کے سب ہی\”باس\” تھے اور جمہوری حکومتیں ڈر ڈر کر اپنے دن گزارتی نظر آئیں۔ صرف جنرل جہانگیر کرامت اس سے مستثنیٰ تھے۔بس وہی چند مہینے تھے جب منتخب حکومت نے اپنی مرضی کرنے کی کوشش کی۔ غلط کیا یا صحیح کیا، وہ بات الگ ہے۔ جہانگیر کرامت کے علاوہ جنرل وحید کاکڑکو نہ چاہتے ہوئے بھی صدر اور وزیراعظم کے درمیان آ کر دونوں کو گھر بھیجنا پڑا۔ جمہوری حکومتیں نہ صرف بے اختیار ہوتی تھیں بلکہ اکثر اوقات وہ ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بھی سمجھی جاتی تھیں۔ ہمارے تمام آرمی چیف کا یہی احسان کچھ کم نہیں ہوتا کہ انہوں نے مارشل لا لگا کر وزیراعظم اور کابینہ کو جیل نہیں بھیج دیا۔ عمران نے اس مسئلے کا کبھی ذکر تک نہیں کیا۔

الیکشن میں دھاندلی اس ملک کا ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ عمران کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ اس مسئلے کی جڑوں کی نشاندہی کرتا اور پھر پانچ سال اپوزیشن میں بیٹھ کر اس پر قانون سازی کرانے پر ساری توانائی لگاتا۔FAFEN جیسے اداروں نے اس پر بہت کام کیا اور علمی مواد تیار کیا ہوا ہے۔ اس تحقیق اور علم کو صرف استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ ایسا نظام بنانا ممکن تھا جس کے نتیجے میں دھاندلی ممکن نہ ہوتی۔ اصغر خان کیس ایک اہم موڑ پر تھا۔ اس نے ذمہ داروں کا تعین کر دیا تھا۔ انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیئے تھی۔ یہ کام اسمبلی میں بیٹھ کر ہونے تھے۔ لیکن عمران نے اسمبلی کی بجائے سڑکوں کی راہ لی نتیجہ یہ نکلا کہ حالات ویسے کے ویسے ہیں۔ اگلے الیکشن کو صاف شفاف بنانا یا کہنا ممکن نہ ہو گا۔ ووٹوں کی گنتی کے جھرلو قائم ہیں اور الیکشن جیتنے کے لئے لوگ اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہی دیکھا کریں گے۔

عمران خان نے مالی بدعنوانی اور اقربا پروری کا معاملہ خوب اٹھایا ہے۔ یہ مسئلہ بھی بہت ہی اہم ہے مگر اس کا کچھ نہیں ہو سکتا جب تک سسٹم کو اوپر بیان کی گئی خامیوں سے پاک نہیں کیا جاتا۔

نوجوان عمران کے مداح تھے۔ ہمارے نوجونوں کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ فوراً تشدد کی راہ لیتے ہیں۔ عمران نے اس مسئلے کو مزید ہوا دی ہے۔ عمران نے خود بھی جاہل سیاستدانوں کی طرح بڑھکیں لگائی ہیں اور لوگوں کو للکارا ہے۔ اپنے پیروکاروں کو بھی قانون ہاتھ میں لینے سے کبھی نہیں روکا بلکہ اس پر اکسایا ہی ہے۔ اگر کوئی قانون دان عمران کی تقاریر کو غور سے سنے تو لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے درجنوں مقدمات درج ہو سکتے ہیں۔ عمران کو اس سے مختلف ہونا چاہیئے تھا۔

تبدیلی کا نعرہ ان ساری خامیوں کے باوجود پر اثر تھا۔ لوگ تبدیلی چاہتے تھے اور عمران کی صورت میں امید کی ایک کرن نظر آئی تھی۔ بہت لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ تھے۔ لیکن پھر وقت آ گیا الیکشن کا اور عمران نے لوگوں کی طاقت پر بھروسہ نہ کیا۔ عمران کو اپنی کامیابی الیکٹ ایبلز میں نظر آنے لگی۔ وہی روائتی سیاستدان خاندان جو جنرل ضیاالحق کے ساتھ مل کر اسلام نافذ کر رہے تھے پھر بے نظیر اور نواز شریف کے ساتھ مل کر جمہوریت کے چیمپیئن رہے، مشرف کے ساتھ مل کر روشن خیالی پھیلائی، اب عمران کے ساتھ مل تبدیلی کے دھنی ہیں۔ اب تبدیلی کا نعرہ بالکل ہی کھوکھلا ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے مخلص اور سمجھ بوجھ رکھنے والے کارکن مایوس ہو گئے۔ تبدیلی کی دلیل چھن گئی۔ مان ٹوٹ گیا۔ سب کو نظر آ گیا کہ دو کی بجائے اب تین سیاسی قوتیں ہو گئی ہیں۔ تینوں ایک جیسی ہیں۔ کوئی بھی روایتی سیاستدان ان میں سے کسی کا بھی \”لیڈر\” بن سکتا ہے۔

 

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik