ہمیں تہذیب کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے


مشہور تاریخ دان آرنلڈ جوزف ٹائن بی کا کہنا ہے کہ ہر تہذیب کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ اس چیلنج میں جیت جائے تو عروج پا لیتی ہے ہار جائے تو خاک ہو جاتی ہے۔ تہذیب نسلی یا ماحولیاتی عناصر کی وجہ سے عظمت نہیں پاتی بلکہ مختلف چیلنجوں جیسا کہ مشکل زمینی حالات اور دوسری تہذیبوں سے مقابلے وغیرہ کا کامیابی سے سامنا کرنے کے نتیجے میں طاقت پاتی ہے۔ ٹائن بی کہتا ہے کہ یہ چیلنج نا تو ایسا سادہ ہو کہ بالکل ہی بچوں کا کھیل ہو اور نا ہی اتنا مشکل کہ تہذیب کا کچومر نکال دے۔

ٹائن بی کا خیال ہے کہ تہذیبیں اسی وقت نشو و نما پاتی ہیں جب انہیں یکے بعد دیگرے ایسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے۔ اس کی رائے میں ان چیلنجوں کا حل معاشرے کی ایک تخلیقی اقلیت تلاش کرتی ہے جو اکثریت کو اپنے تخلیقی حل کی تقلید کرنے پر گویا مجبور کر دیتی ہے کہ دوسروں کو بچت کا وہی راستہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ اکثریت خود سے کوئی کامیاب حل تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

ٹائن بی کی رائے میں ایک تہذیب کے شکست و ریخت کا شکار ہونے میں ماحولیاتی عناصر، انسانوں پر کنٹرول یا غیر ملکی حملوں کا زیادہ کردار نہیں ہوتا۔ بلکہ تباہی اس تخلیقی اقلیت کے کمزور ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے کیونکہ وہ مختلف عوامل کے نتیجے میں اپنی تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھتی ہے اور اپنے شاندار سنہرے ماضی کے قصوں میں کھو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ ماضی پرستی کے چکر میں پڑ کر زمانۂ حال اور مستقبل کی سدھ بدھ کھو بیٹھتی ہے۔

ہم نے آرنلڈ جے ٹائن بی کے ان خیالات پر عمیق غور و فکر کیا ہے اور ان سے بہت حد تک خود کو متفق پایا ہے۔ مثلاً ازمنہ وسطیٰ کے فرانس کو ہی دیکھ لیں۔ جب یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا تو ایسے میں فرانسیسی تہذیب کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج تھا کہ ٹھنڈ میں کیسے نہائیں کیونکہ جسم کی بدبو سے نا صرف ان سوشل لائف تباہ ہو رہی تھی بلکہ آبادی میں اضافے کی شرح بھی گر رہی تھی۔ فرانسیسی خواتین و حضرات یہ محسوس کرتے تھے کہ مویشیوں کے باڑے سے ان کے محبوب کے مقابلے میں نسبتاً خوشگوار مہک آتی تھی۔

فرانسیسیوں نے یہ چیلنج قبول کیا اور ایک طاقتور تہذیب بن کر ابھرے۔ اگر وہ اس مہیب چیلنج سے نمٹنے کی خاطر خوشبو بنانے کی بجائے ٹھنڈ میں نہانے کی راہ اختیار کرتے تو اب اپنی تہذیب کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی مردہ پڑے ہوتے۔ ان دنوں نمونیے کا علاج دریافت نہیں ہو پایا تھا۔

پاکستانی قوم کو بھی پے در پے مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ برس تک ہمارا ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ گول روٹی کیسے پکائی جائے۔ اس سے پچھلے برس چیلنج یہ تھا کہ کرپشن کیسے ختم کی جائے۔ بہرحال قوم نے ان دونوں چیلنجوں کا پامردی سے سامنا کیا اور ثابت کیا کہ کرپشن اور بے ڈھنگی روٹی کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

اس برس چین سے کرونا پھوٹا ہے تو پہلے سے مہیب چیلنج سامنے آیا ہے۔ کرونا سے پاکستانی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ سرکار نے اس خوف سے کہ اس وبا کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں لوگ مر سکتے ہیں، لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ لوگ گھر سے نکلنے سے قاصر ہو چکے ہیں کیونکہ ایسا کرنا خطرناک ہے، پولیس مرغا بنا کر تصویر جاری کر دیتی ہے۔ وہ کاروبار نہیں کر سکتے۔ عوام مذہبی اجتماعات بھی نہیں کر سکتے کیونکہ 12 مارچ کو جو مذہبی اجتماع رائے ونڈ میں کیا تھا اس کا فیضِ عام ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اوپر سے رمضان بھی سر پر آن کھڑا ہے جو مذہبی اداروں اور افراد کے لیے کمائی کا سب سے بڑا سیزن ہے۔

پاکستانی تہذیب کو عروج پانے کے لیے اس مہیب چیلنج کا سامنا کرنا ہی ہو گا۔ عام لوگوں اور مذہبی علما دونوں کے لیے یہ ایک کٹھن گھڑی ہے اور ان میں سے تخلیقی اقلیت نے اس چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کوئی ایسی اچھوتی راہ تلاش کرنی ہے کہ حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کو کیسے ناکام بنایا جائے اور کرونائی وبا کے باوجود کیسے گھروں سے باہر نکل کر کیسے ایک دوسرے سے ملا جائے اور بڑے مذہبی و غیر مذہبی اجتماعات کیے جائیں۔ جہاں تک کرونا سے فوت ہونے کا تعلق ہے تو ٹائن بی بتا چکا ہے کہ یہ ماحولیاتی عناصر وغیرہ تہذیب کا کباڑا نہیں کرتے، تہذیب ان کے باوجود زندہ رہتی ہے ہاں بس انسان مر جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar