آن لائن شغلیاں جاری ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ان دنوں وبا نے پوری دنیا کو جیسے جادو کی چھڑی گھما کر روک دیا ہے۔ راوی اب فرصت ہی فرصت لکھتا ہے کہ چین ہی چین کے دن اب ہوا ہوئے۔ ہم ہیں، قرنطینہ ہے، گھر ہے اور بچے، گھر کے نا ختم ہونے والے کام بھی کہیں چھپ گئے ہیں۔ عجیب سی روٹین ہے آج کل، سونے کا کوئی وقت مقرر نہیں، جاگنے کی کوئی فکر نہیں، سوائے ان دنوں کے جب آن لائن کلاسز ہوتی ہیں۔ دن بڑے شغل میں گزر رہے ہیں، کبھی گیمز، کبھی فلم، کبھی ڈرامے تو کبھی سیاسی ڈرامے، سب کچھ آن لائن دستیاب ہے۔

آن لائن کلاسسز بھی شغل سے بھر پور ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کیسے مینیج کریں۔ ہماری اور ہسبینڈ کی ملے زبان کی کلاس صبح آٹھ بجے شروع ہوتی ہے، ٹیچر بھی ایک ہی ہے لیکن اپنے اپنے موبائل پہ الگ الگ میٹنگ جوائن کرنا ہوتی ہے۔ ملے زبان تو خاک سمجھ آنی ہے، پہلے سے خراب انگلش مزید بگڑ رہی ہے۔ ساڑھے نو بجے بیٹے کی کلاس شروع ہو جاتی ہے وہ گریڈ تھری میں ہے۔ دس بجے بیٹی کی کلاس شروع ہو جاتی ہے وہ ابھی سٹارٹر تھری میں ہے۔ ایک بیڈروم اور سٹنگ ہال پہ مشتمل گھر میں ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔ کبھی ٹیچر کا انٹرنیٹ پرابلم کرتا ہے اور کبھی ہمارا غائب، پھر بھی گزارہ چل رہا ہے۔

سنا ہے پاکستان میں بھی آن لائن کلاسسز کا اجراء ہو چکا ہے۔ چائنا کے وہ طالب علم جو وبا سے پہلے یا وبا کے دوران گھروں کو لوٹے تھے اب پریشان ہیں۔ شہر میں انٹرنیٹ اور بجلی کی فراہمی کی صورتحال کسی حد تک بہتر ہے لیکن دیہاتوں میں برا حال ہے۔ یو۔ پی۔ ایس، سولر سسٹم سب بے کار ہے کہ نیٹ ورک کا ٹاور بغیر بجلی کے کام نہیں کرتا۔ ٹیچرز کے پاس آن لائن کلاسسز کا تجربہ نہیں اور طلباء آن لائن ”شغل“ کے ماہر ہیں۔ ہمارا چھوٹا بھائی میڈیکل سٹوڈنٹ ہے اور اس کی کلاسسز آج کل آن لائن ہو رہی ہیں۔ ٹیچرز طلباء کے ساتھ ساتھ اپنے مائک بھی ”آف“ کر دیتے ہیں، اب گونگے کی رمز، گونگے کی ماں ہی جانے۔ چیٹ کا آپشن کوئی بے وقوف ہے جو استعمال کرے اور ٹیچر کو بتائے؟

طرح طرح کی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں، فیس بک پہ وہ حضرات بھی ماسٹر شیف بنے پھرتے ہیں جن کو یہ نہیں معلوم کہ ایک انڈہ کتنے ”منٹ“ میں ابلتا ہے۔ آملیٹ بنانے کے لئے انڈے کو کتنی دیر پھینٹا جائے تو مزیدار آملیٹ تیار ہوتا ہے۔ سارے مظلوم مرد بیوی کے ”ظلم“ سے تنگ ہیں اور حکومت سے رہائی کی اپیل کر رہے ہیں۔ گھر کے ”معمولی“ کام جو ازل سے خواتین سر انجام دیتی ہیں اور کسی کھاتے میں نہیں لکھے جاتے، آج کل ایسے بنا کر پیش کیے جا رہے ہیں جیسے فرہاد نے پہاڑ کھود کر نہر نکالی ہو۔

حکومت بھی آئے روز نئے نئے شغل لگا رہی ہے۔ کبھی ”احساس“ پروگرام کی اقساط بے حسی کے سارے ریکارڈ توڑ کر ”امداد“ کے نام پر دے کر عوام کو الو بنا رہی ہے تو کبھی لاک ڈاون کی نت نئی پالیسیاں بنا کر اپنا ”مذاق“ بنوا رہی ہے۔ وہ رقم جو غریبوں کو باعزت طریقے سے مل جایا کرتی تھی اب سر عام ”بے عزتی“ کے بعد نصیب ہو رہی ہے۔ فوٹو سیشن اور ویڈیوز کا ڈراما الگ سے جاری ہے۔ کبھی وزیر اعظم کی روتی ہوئی ویڈیو منظر عام پہ آ جاتی ہے اور وائرل ہو جاتی ہے تو کبھی جام صفدر کی۔ جام صفدر کی ایکٹنگ بہر حال کپتان سے زیادہ اچھی ہے۔ نئے لوگوں کی امداد پروگرام رجسٹریشن کے لئے جو شرائط ہیں، ان سے اچھا مذاق تو آج کل کے بچے کر لیتے ہیں۔ شغل لگا ہے بھائی۔

لاک ڈاون میں عجیب نرمی ہے، درزی آزاد ہیں، کپڑے کی دکانیں بند ہیں۔ تعمیر کا شعبہ کھلا ہے، مزدور کی آمدورفت کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے۔ مولوی مسجدیں کھلوانے کو بے تاب ہیں اود عید کے دن بمشکل مسجد کی شکل دیکھنے والے مسجد آنے کو بے قرار۔ مسجد کے باہر جوتا چوری ہو جانے کی ضمانت نا دینے والے، کرونا سے محفوظ رہنے کی گارنٹی دے رہے ہیں۔

آوٹ ڈور گیمز پہ پانبدی ہے، ان ڈور میں لوڈو کھیلی جا رہی ہے۔ ہماری نسل تو واقف تھی پرانے کھیلوں سے، کمپوٹر دور کے بچے اب سیکھ رہے ہیں۔ اس ”سانپ سیڑھی“ کے کھیل میں جیت اس کا مقدر بنتی ہے جو بخت کا سکندر ہو۔ جسے سیڑھی ملی وہ چڑھ گیا، کسی کو راستے میں ہی بد بخت سانپ ڈس لیتے ہیں۔ وہ گوٹ کبھی نہیں مرتی جو گھر سے نا نکلے، باہر نکلی تو جان کو خطرہ ہے۔

جب سے کورونا کی وبا پھوٹی ہے ساری دنیا میں لاک ڈاون جاری ہے۔ کہیں کلی تو کہیں جزوی طور پر معاشی سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے۔ بچے، بڑے، بزرگ سب اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ قرنطینہ نے اس بھاگتی دوڑتی زندگی کو ”بریک“ لگا دیا ہے۔ گو پاکستان میں لاک ڈاون پر اتنی سختی سے عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ یہاں اس وبا کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس قدر باقی دنیا اس کے لئے حساس ہو رہی ہے۔ یہاں تو آئے روز کرونا کے مریضوں کے ناچ گانوں کی ویڈیوز ریلیز ہو رہی ہیں۔

ناچتے رہئے، گاتے رہئے، یونہی ویڈیوز بنا کے ”وائرل“ کرتے رہئے۔ شغل لگاتے رہیے بس اتنا کیجئے کہ ”گھر“ پہ رہئے کہ وہ گوٹ جو گھر سے نہیں نکلتی، خطرے سے محفوظ رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply