کیا کرونا نے بی آر ٹی کو مات دے دی؟


ایک ایسے وقت میں جب دنیا کروناوائرس کی وبا میں مبتلا ہے اور نیشنل میڈیا ہو یا انٹرنیشل میڈیا ہر سو اسی وبا سے متعلق خبروں اور مضامین کی بھر مار ہے، کسی اور موضوع کا میڈیا میں ذکر ایک عجوبے سے کم نہیں۔ ہاں، مگر ایک موضوع ایسا ہے جس نے خبرنگاروں اور قارئین کو اپنے آغاز سے لیکر اب تک کبھی مایوس نہیں کیا اور کسی نہ کسی حوالے سے قومی میڈیا کی سرخیوں میں اپنی جگہ بناتا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کروناوائرس بھی اس موضوع کو سرخیوں سے نہیں نکال سکا ہے۔

کوئی اسے بد دعا کہتا ہے تو کوئی اسے مکافات عمل کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ کوئی اسے حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے گلے میں پھنسی ہوئی ہڈی سے تعبیر کرتا ہے تو کچھ ایسے بھی ہیں جو اسے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلٰی، پرویز خٹک، کا کارنامہ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں نے اس کے مخفف (بی آر ٹی) میں شاعرانہ تصرف کی رعایت سے اسے اب ’ٹی بی‘ منصوبے کے نام سے بھی یاد کرنا شروع کر دیا ہے۔

’بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘

لیکن میں کہتا ہوں کہ بی آر ٹی (بس ریپڈ ٹرانزٹ) کوئی اتنا بھی گیا گزرا منصوبہ نہیں جو کرونا کو مات نہ دے سکے۔

جی ہاں کرونا کے ان بھیانک دنوں میں جب ہر طرف دنیا بھر میں لوگ مر رہے ہیں اور خوف کے مارے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے، اس میں بھی پشاور کے بد نام زمانہ بی آر ٹی منصوبے نے اپنے کمال کے بل بوتے پر خود کو ذرائع ابلاغ  کی زینت بنا دیا ہے۔

کرونا جیسی بڑی وبا سے اب تک پوری دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور بیس لاکھ سے زیادہ متاثر ہوچکے ہیں۔ اس نے دنیا کا سارا کاروبار ٹھپ کر دیا ہے اور زندگی جمود کا شکار ہے۔ ذرائع ابلاغ پر ایسی سٹوری کی موجودگی میں بھلا کیسے کوئی دوسری کہانی اس کی جگہ لے سکتی ہے؟

کرونا کی بیماری گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے مسلسل میڈیا پر سرفہرست خبر بنی ہوئی ہے اور آئندہ بھی ایسی ہی ہیڈ لائن بناتی جائے گی جب تک اس وبا پر پوری طرح قابو نہیں پالیا جاتا۔

اس کہانی کی موجودگی میں تقریباً تمام ممالک میں دیگر تمام ایشوز جیسے پس پشت چلے گئے ہیں یا باالفاظ دیگر کوئی اور چیز بک  ہی نہیں رہی۔ لیکن ایسے میں شاید پشاور کا بی آر ٹی پراجیکٹ واحد ایسا منصوبہ ہے جس نے اس دور میں بھی اپنا کمال کر دکھایا۔

گزشتہ دنوں سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر صارفین کی طرف سے کچھ نئی وڈیوز شیئر کی گئیں جس میں بی آر ٹی سڑک پر مزدور پہلے سے تعمیر شدہ دیواروں کو دونوں طرف سے توڑتے ہوئے نظر آئے جس سے لگا کہ جیسے منصوبے میں غلطیوں کو دوبارہ سے درست کیا جارہا ہے۔

تاہم اس سلسلے میں جب پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ظفر علی شاہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے انڈی پینڈنٹ اردو کی رپورٹر کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سچ ہے کہ ایک بیریئر کو توڑا گیا ہے، لیکن یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں جس کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔

اس کے بعد منصوبہ پھر سے تنقید کی زد میں آیا اور کچھ رپورٹیں بھی دیکھنے میں آئیں۔

تقریباً ڈھائی سال سے تاخیر کا شکار پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر اب تک ستر ارب روپے کے لگ بھگ لاگت آچکی ہے جبکہ ابتداء میں اس کا کل تخمیہ بتیس ارب روپے لگایا گیا تھا۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ منصوبے کی ڈیزائننگ، منصوبہ بندی اور تعمیراتی کام میں متعدد مرتبہ سنگین غلطیاں اور کوتاہیاں کی گئیں جس کےلیے پھر سے کئی مرتبہ سڑکوں کو توڑا اور بنایا گیا۔ یہ سلسلہ گزشتہ تقریباً دو سالوں  سے رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس دوران منصوبہ مکمل ہوا اور نہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکا۔

گزشتہ سال خیبر پختونخوا حکومت کی اپنی ہی معائنہ ٹیم کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ منصوبے کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں اور اس دوران ایسا بھی ہوا کہ کچھ حصے تعمیر کیے گئے لیکن بعد میں ان میں غلطیوں کے باعث تعمیر شدہ حصوں کو توڑا گیا جس سے اس کی لاگت میں خاصا اضافہ ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منصوبے کی ڈیزائننگ کےلیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی جس کےلیے انہیں ایک ارب روپے کے لگ بھگ رقم دی گئی لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مذکورہ ماہرین اتنے ’نالائق’ ثابت ہوئے کہ وہ عام سی سڑک کے سائز سے بھی واقف نہیں تھے اور نہ انہیں بس کے سائز کے بارے میں معلومات تھیں۔

گزشتہ ایک سال میں بی آر ٹی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک جیسی کئی درخواستیں دائر کی گئیں جس پر عدالت عالیہ کی طرف سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اس کی انکوائری کرنے کا حکم دیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے رواں سال فروری میں ایف آئی اے کو اس کی تحقیقات کرنےسے روک دیا۔ تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

منصوبے کی شہرت کا عالم یہ ہے جب اس بارے میں تحریک انصاف کے وزراء یا صوبائی راہنماؤں سے بات کی جائے تو وہ ایسے آگ بگولا ہوجاتے ہیں جیسے وہ خود ہی بی آر ٹی کی آگ میں جل رہے ہوں۔ ایک وزیر شوکت یوسفزئی بیچارے اس منصوبے کا دفاع کرتے کرتے تھک گئے اور آخر کار وزرات اطلاعات سے چھٹی لےکر دوسرے محکمے میں منتقل ہو گئے۔ اس اہم کرسی پر اب اجمل خان وزیر براجمان ہیں جنہیں نہ صرف اس شعبے میں صلاحتیں دکھانے کا شوق ہے بلکہ ان میں سٹیمنا بھی نظر آتا ہے۔ بہرحال ان کا بھی امتحان شروع ہوچکا ہے۔

Facebook Comments HS