کورونا نے مراد علی شاہ اور عثمان بزدار کا فرق واضح کر دیا
ملکی سیاست میں اتنا گند پڑ چکا ہے کہ میں اب سیاست پر لکھنے سے گریز ہی کرتا ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیائی ”پالتو“ کوئی کالم، پیرا، فقرہ یا لفظ پسند نہ آنے پر لکھاری پر چڑھ دوڑتے ہیں اور پھر اپنے رہ نماؤں سے داد وصول کرتے ہیں۔ اختلاف رائے پر اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر آپ تنقید کریں، بلکہ لکھاری کی کسی غلط بات کی تصحیح کریں، مگر سیاسی جماعتوں نے دہائیوں سے جارحانہ انداز اپنا کر، مخالفین کو خاموش کرانے کی روش اختیار کی اور اپنے کارکنوں کی انہی خطوط پر تربیت بھی کی ہے، جو اب خون خوار ”سوشل میڈیائی پالتو“ بن چکے ہیں، لہذا اب کسی پر تنقید کرتے ہوئے خوف آتا ہے۔
پاکستان سمیت، دنیا اس وقت عالمی آفت کورونا وائرس کی زد پر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے سب اکٹھے ہو جاتے۔ جان بچ جائے تو باقی زندگی آپ کھل کر سیاست بھی کر لیتے، مگر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کپتان نے اقتدار کے حصول کی خاطر اپوزیشن میں رہتے ہوئے جو جارحانہ انداز اختیار کیا تھا، وہ اقتدار میں آ کر بھی برقرار رکھا۔ کوئی اینکر یا صحافی تنقید کرے یا خبر دے اس پر جرمانہ، پابندی حتی کہ اسے نوکری سے نکلوانے تک کی آخری حد تک چلے جاتے ہیں
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا اور کورونا وائرس میں ٹوینٹی ٹوینٹی شروع ہو گیا۔ چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کیا مگر پاکستان کا عالمی اسٹار وزیر اعظم سکون سے بیٹھا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ کورونا کو دو چھکے مار کر پاکستان سے اٹھا کر باہر پھینک دے گا، مگر وبا کب کسی اسٹار یا وزیر اعظم کو کچھ سمجھتی ہے۔ وفاقی حکومت نے کام اس وقت شروع کیا جب وبا سر پر پہنچ چکی تھی۔ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی ایئرپورٹس پر اسکریننگ کا کوئی انتظام کیا گیا، نا ہی ایران سے آنے والے زائرین کے ٹیسٹ کرنے کی زحمت گوارا کی، جس کا نتیجہ آج عوام بھگت رہے ہیں۔
کورونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے۔ ان کی نالائقی کا اس بات سے اندازہ لگالیں کہ ”ایمانداروں کی حکومت“ کوئی نیا سلوگن تک نہ بنا سکی۔ شہباز شریف حکومت نے ڈینگی کے لئے سلوگن بنایا تھا ”ڈینگی سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے“۔ اسی سلوگن کو ڈینگی کی جگہ کورونا لکھ کر جاری کر دیا گیا، شہباز شریف سے لاکھ اختلاف ہے مگر انہوں نے ڈینگی کے خاتمے کے لئے جو کام کیا وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لئے اگر کچھ سنجیدہ کام کیا ہے، تو وہ سندھ حکومت ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ جس طرح کام کر رہے ہیں، انہوں نے شہبازشریف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تین ماہ سے وہ شخص شاید چین سے سویا بھی نہیں ہو گا۔ سید مراد علی شاہ حقیقی معنوں میں کورونا کے خاتمے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ابتدا ہی سے چین کے تجربے سے استفادہ کیا اور ہنگامی بنیادوں پر اسپتال تیار کیے۔ قرنطینہ سنٹر بنائے، لاک ڈاؤن کی اپیل بھی سب سے پہلے سید مراد علی شاہ ہی نے کی اور عملی اقدامات کیے ۔
مراد علی شاہ کے کام کو دیکھتے ہوئے ان کی تعریف کرنے کے بجائے وفاقی وزرا جو کسی کام کے ہیں، نہ کاج کے، بلکہ دشمن سرکاری خزانے کے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ پر چڑھ دوڑے۔ لگتا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا کو یہ ڈیوٹی سونپی گئی ہے کہ بس مراد علی شاہ پر تنقید کرنا ہے۔ ان کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ہر کام پر تنقید کرنا اور عوام کی نظروں میں مراد علی شاہ کو نیچا دکھانے کے لئے اوٹ پٹانگ بیان دینا ہے۔ ان کی گفتگو سن کر لگتا ہے کہ ان کو انسانی جانوں سے کوئی غرض نہیں، وہ آفت زدہ ماحول میں بھی سیاست کر رہے ہیں
کورونا کے حوالے سے سندھ حکومت کے کیے گئے اقدامات کے بارے میں معروف صحافی اور کالم نگار وسعت اللہ خان نے اپنے ویڈیو کالم میں کہا ہے کہ سندھ حکومت جو بھی اقدام کرتی ہے اگلے روز دیگر صوبائی حکومتیں کرنے لگتی ہیں۔ پنجاب حکومت کی بیوروکریسی کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ سندھ حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کیا، اگلے روز عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے دودھ کی دکانوں کو رات 8 بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی، جس پر اگلے ہی روز پنجاب حکومت نے بھی ایسے ہی احکامات جاری کردیے۔ کیا پنجاب کی بیورو کریسی کا اپنا کوئی وژن نہیں یا وہ اپنی عقل استعمال نہیں کرتی؟ پنجاب کی بیورو کریسی معمولی فیصلوں کے لئے بھی سندھ حکومت کی طرف دیکھتی ہے۔
شاید یہی بات وفاقی وزرا سے برداشت نہیں ہو رہی کہ ہر جگہ مراد علی شاہ ہی کی تعریف ہو رہی ہے اور ہماری ”آنیاں جانیاں“ کا کوئی ذکر ہی نہیں کر رہا۔ سندھ حکومت کے بعد پنجاب حکومت کو بھی ہوش آیا اور کچھ بہتر اقدامات کیے ہیں۔ سندھ حکومت نے جب دنیا کا سب سے بڑا قرنطینہ سنٹر بنایا تو پنجاب حکومت نے ملتان میں 3 ہزار بستر کا قرنطینہ سنٹر بنا کر ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ مراد علی شاہ نے شہر شہر دورے کیے، اسپتالوں کے معائنے کر کے سہولتوں کا جائزہ لیا، جس پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی جہاز لے کر نکل کھڑے ہوئے، سندھ کا وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ خود گاڑی چلا کر سکھر کے گنجان آبادعلاقوں میں سڑکوں پر کورونا قابو کر رہا ہے، جب کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار جہاز پر لاہور اور گرد و نواح میں کورونا وائرس پکڑ رہا ہے۔ اب کون بہتر کام کر رہا ہے، اس کا فیصلہ عوام کریں گے یا آنے والا وقت۔


