قرنطینہ کہانی: جو چلا گیا مجھے چھوڑ کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وضاحت: ہم نے یہ کہانی انسٹاگرام پر # quarantinestories @humansofny کے ہیش ٹیگ کے سائے تلے انگریزی میں پڑھی۔ ایک کیفیت میں لکھا یوں بقول جگرمرادآبادی
عشق کی داستان ہے پیارے
اپنی اپنی زبان ہے پیارے

میرا نام کیا ہے اس کی چنتا مت کریں۔ اس کا نام وائن تھا۔ مجھے لگتا ہے آپ کا ایک مسئلہ ہے۔ اکثر چھپ چھپ کر اور مفت کی پیتے ہیں۔ اس لیے دماغ پر ہر وقت نشہ طاری ہوتا ہے۔

یہ آپ کے اندازے والا وائن نہیں۔ نہ ہی یہ وہ پنجابیوں والا وائن ہے۔ جس کو سنتے ہی آپ کو فوراً میاں چنوں کے سرسید احمد خان، غلام حیدر وائن یاد آگئے۔ سن نوے سے ترانوے تک پنجاب کے چیف منسٹر ہوتے تھے۔ یہ نہ سمجھیں اگر ہم گورے امریکنوں میں بٹر، ڈوگر، آرائیں اور ٹوانے نہیں ہوتے تو وائن بھی نہیں ہوتے۔ ہماری طرف کے وائن کچھ ایسے ہوتے ہیں۔ ہجے غور سے دیکھ لیں Wayne، آپ کو آپ کے وائن مبارک، مجھے اپنی آہیں

وہ میرا رفیق زندگی تھا۔ میرا نکاح نامہ اس لیے پیش نہیں کیا جاسکتا کہ ہم نے نکاح نہیں کیا تھا مگر رفاقت جنم جنم کی تھی۔ کیا کہوں۔ ہر کسی کا کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔ میرا صرف وہ تھا۔ میرا جگر، میری جان۔ آپ کسی کو یوں پیار مت کیجئے گا۔ ایسا کوئی آپ کو چھوڑ کر چلا جائے تو جینا بے مقصد اور خودکشی کرکے مرنا خود پر ایک بھیانک تنقید اور بزدلی لگتا ہے۔ وہ چلا گیا تو مجھے اپنی دوست کی عشق کے ہاتوں ایسی ہی برباد ایک خالہ کی دو نصحیتیں یاد آتی ہیں۔ وہ کہا کرتی تھی

کہ ہم عورتوں کو ہمیشہ Love me little، but love me long کے فلسفے پر عمل کرنا چاہیے۔ اس میں فائدہ رہتا ہے۔ محبت میں عورت فارمولا ون کی فراری بن جائے تو حادثے کے بعد سنبھلنا مشکل ہوتا ہے اور دوسری
گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہو
اس میں رونے کی اک جگہ رکھنا

آئیں وائن کی بات کریں، وہ وائن جو پتر کسی ماں دا تے میرا لگے ہانی۔ اونچا لمبا قد تھا، چھورا بھی وہ حد تھا۔ زندگی سے بھرپور، ایسا لگتا تھا کہ اس بھرے پرے وجود میں ایک بچہ تھا۔ وہ بچہ جس نے زندگی کی مسافت میں بڑا ہونے کو لازم نہیں سمجھا۔ ایک کھلنڈرا لڑکا جسے زندگی کی اونچی لمبی گھاس میں چھپ کر آنکھ مچولی کھیلنے میں مزہ آتا تھا۔

اللہ قسم جینے کی جو امنگ، من بھاؤنی ترنگ میں نے وائن میں دیکھی، وہ انت تھی۔ اسی سے میں نے یہ سیکھا کہ اپنی زندگی اگر آپ نے نہیں جینی تو پھر اسے کوئی بھی نہیں جی پائے گا۔ ہم کبھی کار یا پیدل کہیں جارہے ہوتے تو راستے پرکوئی چھوٹی سا وجود یا کوئی منظر اس کی توجہ یوں کھینچ لیتے تھے کہ وہ رک جاتا تھا۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں لوگ ان باتوں کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔ وہ ایسا نہ تھا۔ لمحہ لمحہ جینا جانتا تھا۔

آپ تو جانتے ہیں امریکہ میں Hired-help بجٹ میں بہت بڑاشگاف ڈال دیتی ہے۔ دوستوں کو علم ہوتا تھا کہ حضرت وائن صاحب ہر فن مولا ہیں۔ شل نہ (سندھی میں اللہ نہ کرے ) بھولے سے دوست کہے۔ برسات آنے کو ہے، برف پڑنے کو ہے۔ وائن جی پلیز ہماری چھت ٹھیک کردو۔ حضرت ترنت جاپہنچتے۔ مجھے ایک دن کا کہہ کر جاتے تھے واپس آتے تو کبھی کبھار تو پورا مہینہ بیت چکا ہوتا۔ دوست کے گھر کا پورا نقشہ بدل دیتے تھے۔ اسے اتنے ہنر اور کام آتے تھے کہ میں ہی نہیں سب ہی حیران ہوجاتے تھے۔

ایک دن ایک شاداب ویرانے میں اسے کسی کی متروکہ کار مل گئی جسے لاپرواہی سے کسی نے جنک ہونے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ حضرت نے اسے محنت کرکے یوں دلہن بنادیاکہ ہم اس میں بیٹھ کر سیر کو نکلتے تو بہت سی گردنیں مڑ کر آنکھیں ہم پر مرکوز ہوجاتی تھیں۔

اتنی خوبیاں گنوادیں تو کیا میرے اس رشک قمر میں کوئی عیب نہ تھآ۔ ہاں اس میں ایک بہت بڑا عیب تھا۔ پیاروں کا عیب بیان کرنا آسان نہیں مگر میں بتائے دیتی ہوں۔

وہ اپنی صحت کے بارے میں بہت لاپرواہ تھا۔ ہسپتال، ڈاکٹر کی طرف جانے میں اسے جھاپٹے (گجراتی۔ کوڑے لگنا) آتے تھے۔ ایک دن مجھے اسے لے کر مجبوراً ہسپتال جانا پڑا تو وہاں رپورٹس دیکھ کر ہم دونوں کو لگا کہ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔ اسے پھیپھڑوں کا سرطان تھا۔ اس کا یہ عارضہ سارے بدن میں پھیل چکا تھا۔ ہم دونوں میں بغاوت اور حوصلہ بہت تھا۔ سوچا ہم ہر شے پر محبت اور سلیقے سے غالب آجاتے ہیں۔ اس چیلنج سے بھی نمٹ لیں گے۔ ایسا نہ ہوا۔ اب کی دفعہ ہم بازی ہار گئے۔ ڈاکٹروں نے بتادیا کہ اس دھرتی پر وہ اب چند ہفتوں کا مہمان ہے۔ کینسر اسے ٹیکنکل ناک آؤٹ کرنے والا ہے۔ اس کی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد اسے جلادیا جائے۔

ایک شام میں اس کے بانہوں میں سمٹ کر چرس کے سوٹے لگاتی تھی اچانک کہنے لگا ”میری موت کے بعد تم میری راکھ کا کیا کروگی۔ میں بتاتا ہوں تم نے کیا کرنا ہے۔ اس نے جیب سے وہ والی وائل نکالی جس میں ہم چرس رکھتے تھے۔ کہنے لگا ”اس جیسے بہت سے وائل جمع کرکے رکھنا میں بتاؤں گا“۔

شیشے کا یہ ننھا سا مرتبان دیکھ میں نے اس کے منھ پر ہات رکھ دیا۔ اس میں یہ بات کرنے کا حوصلہ تھا۔ مجھ میں نہ تھا۔ مجھے لگا وہ بھی اداس ہے روہانسا سا ہوکر کہنے لگا ”بس جی چاہتا ہے کہ زندگی کے 54 برس پورے کرکے سالگرہ کے بعد دنیا چھوڑ دوں“۔

یقین مانیے ایسا ہی ہوا۔ سالگرہ کے چند دن بعد ہی وہ مجھے اکیلا چھوڑ، دنیا سے چلا گیا۔ مت پوچھیں میں کیسی ٹوٹی۔ ہمت کرکے میں نے فیصلہ کیا کہ ایسے مرد کی موت کا سو گ منانا اس کی توہین ہوگی۔ سو ہم دوستوں نے اس کی تقریب وفات برپا کی۔ اسے چیسپیک بے کے کیکڑوں کا گوشت بہت پسند تھا۔ ان کو مین ڈش بنا کر ایک ڈنر کا اہتمام ہوا۔
کینٹکی کا بلیو گراس بینڈ بلایا گیا موسیقی کی یہ جانر اسے بہت من بھاؤنی لگتی تھی۔

تمام شرکاء میں اس کی وصیت کے عین مطابق ایک ایک وائل تقسیم کیا گیا۔ شیشے کے اس ننھے سے مرتبان میں اس کی راکھ موجود تھی۔ ان سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ اس وائل کو جب بھی کسی آخری انجام تک پہنچائیں۔ اس کا احوال مجھ سے ضرور شئیر کریں۔ سب نے وعدہ کیا بھی اور نبھایا بھی۔

میں آپ سے کیا عرض کہوں اس کے کچھ چاہنے والے بیت المقدس میں اسے دیوار گریہ لے گئے۔ کسی من چلے نے اس ان دنوں، دو خاموش آتش فشاں پہاڑوں کے دہانوں میں ان مرتبانوں سمیت انڈیل دیا کہ وہ ان کے نئے سیال آتشیں اظہار کا حصہ بن جائے۔ ایک نے پیرس کے مشہور عجائب گھر لوور میں قدیم رومن سنگ مرمر کے تابوت پر بکھیر دیا۔

اس راکھ کے حصے میں کئی سمندر بھی آئے۔ ایک وائل کا قصہ یوں ہوا کہ ہمارا دونوں کا ایک مشترکہ دوست کسی جرم میں بند ہوگیا۔ جارجیا کی جیل میں جہاں وہ بند تھا یہ وائل بھی اس کا رفیق سلاسل رہا۔ وائن کو یہ بات اچھی لگی ہوگی۔ وہ ایک ایسی روح تھا جو کسی طور ایک پنجرہء استخواں (ہڈیاں ) میں مقید رہنے کے لیے پیدا نہ ہوا تھا۔

اے لو میں نے سب کابتادیا مگر اپنے وائل کے انجام بتانا بھول گئی۔ میں نے اس انگلی میں جہاں اس سے وابستگی کی انگشتری جگمگاتی تھی ٹیٹو کی سیاہی میں محبت کی وائن کی راکھ کی روشنائی شامل کی اور اس کا بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی پرخود ہی ٹیٹو بنالیا۔

آپ کو بتاؤں ایسا میں نے کیوں کیا۔ مجھ سے پیار کی یہ دکھ بھری نشانی روز روز اتاری اور پہنی نہیں جاتی۔ یوں بھی میں کون سی بگاٹی یا لمبورگھینی ہوں کو ایک ٹیٹو سے میرا شو خراب ہوجائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 22 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *