بلاول کے کندھوں پر تین نسلوں کا بوجھ ہے


\"edit\"پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملکی سیاست میں متحرک رول ادا کرنا شروع کیا ہے۔ وہ اس وقت سندھ میں عوامی رابطہ مہم میں مصروف ہیں۔ ملک کی سیاست میں نوجوان قیادت کی آمد خوش آئند بات ہے۔ اس طرح نئے عزم اور نئے خیالات کے ساتھ ملکی سیاسی منظر میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کا سیاسی مزاج شخصیت پرستی پر استوار ہے۔ اسی لئے اہم سیاسی پارٹیاں بھی ایک فرد یا ایک خاندان کے گرد گھومتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اس کی مثال ہیں۔ اول الذکر دونوں پارٹیاں خاندانی سیاست کرتی ہیں، جبکہ تحریک انصاف کا نکتہ ارتکاز عمران خان کی ذات ہے۔ وہ ابھی تک چونکہ بڑا سیاسی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، اس لئے ان کا خاندان اہم معاملات میں ان کا شریک کار دکھائی نہیں دیتا لیکن ملک میں تیسری سیاسی قوت بننے کے باوجود تحریک انصاف بدستور عمران خان کی بدولت ہی سیاسی قوت حاصل کرتی ہے۔ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کا پورا ڈھانچہ دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔ دوسری دو پارٹیوں نے سیاسی تحریک کو اپنے گھر تک محدود کیا ہے۔ اسی لئے بلاول بھٹو زرداری تیسری نسل سے تعلق رکھنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی امیدوں کا واحد مرکز ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت بلاول کی عمر 18 برس تھی لیکن آصف علی زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی میراث کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے صاحبزادے کے نام کے ساتھ بھٹو لگانا پڑا اور انہی کو پارٹی کا چیئرمین بھی بنایا گیا۔

آصف علی زرداری نے 2008 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد 5 برس اقتدار کے یوں مزے لوٹے کہ صدارت کے بے اختیار آئینی منصب پر فائز ہونے کے باوجود سارے اختیارات انہی کے ہاتھ میں مرکوز تھے۔ پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے والے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف محض کٹھ پتلی تھے۔ اسی دور میں آصف علی زرداری نے سیاست کے بادشاہ کا خطاب بھی پایا اور ملک کے متعدد لوگ انہیں موقع پرست اور عیار سیاستدان کے طور پر پہچاننے لگے۔ اس بات کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی کہ آصف علی زرداری کس حد تک زیرک سیاستدان تھے، جن کا ہم پلہ تلاش کرنا ممکن نہیں ہے لیکن صدارت سے علیحدگی کے بعد حکومت سے محرومی کے قلق میں انہوں نے ایسی سنگین ٹھوکر کھائی اور پاک فوج کو یوں للکارا کہ انہیں اپنے سیاسی خواب منتشر چھوڑ کر دیار غیر میں پناہ لینا پڑی۔ یہ بھی پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ اہم موضوعات پر نعرے بازی تو کی جا سکتی ہے، لیکن ان پر سنجیدہ مباحث ، غور و فکر اور فیصلے کرنے کا چلن عام نہیں ہوا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ فوج میں پنپنے والا سیاسی مزاج بھی ہے، ملک کی بحران زدہ صورتحال بھی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حالات بھی ہیں اور بھارت کے ساتھ تصادم کی کیفیت بھی ان عوامل کا حصہ ہے جس کی وجہ سے سیاست دان اہم قومی امور میں فوج کی رہنمائی اور تعاون کے بغیر آگے بڑھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

میمو گیٹ اسکینڈل کی صورت میں آصف زرداری اپنے دور حکومت میں اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔ نواز شریف جو پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف فوج کا آلہ کار بنتے ہوئے اس معاملہ کو سپریم کورٹ لے کر گئے تھے، اب خود ڈان میں خبر شائع ہونے سے پیدا ہونے والے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ پرویز رشید کو وزارت سے علیحدہ کر کے معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ آسانی سے طے نہیں ہو گا۔ فوج اس خبر کے افشا ہونے یا گھڑے جانے کے عمل میں شامل سب کرداروں تک پہنچنا چاہتی ہے۔ اس سے قطع نظر یہ خبر کس حد تک قومی سلامتی کے لئے نقصان دہ تھی اور فوج کے ردعمل سے قومی مفادات کو کیا نقصان یا فائدہ پہنچ رہا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سیاست دان عوام کے ووٹ حاصل کرنے اور آئینی لحاظ سے حق حکومت کے باوجود عملی طور پر فوج کے اشاروں پر چلنے کے محتاج ہیں۔ اسی لئے آصف علی زرداری پاکستان آنے کا حوصلہ نہیں کرتے اور اسی لئے نواز شریف کی حکومت سنگین جرائم میں ملوث پرویز مشرف کو ملک سے باہر جونے سے روکنے میں ناکام رہی تھی۔ آج جو سپریم کورٹ پاناما لیکس کے معاملہ پر ہٹو بچو کا شور مچاتی غیر جانبداری اور واحد قابل اعتبار ادارے کے منصب پر فائز ہے، یادش بخیر اسی نے آئین شکنی کے جرم میں ملوث پرویز مشرف کی ملک سے روانگی کی راہ ہموار کی تھی۔

اس صورتحال میں صرف فوج کو سیاسی عمل کو زیر نگیں رکھنے کے لئے زور زبردستی کرنے کا قصور وار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک کا نظام عدل اور سیاستدان فوج اور سیاست میں توازن قائم کرنے اور حدود متعین کرنے کےلئے کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماضی میں عدالتوں نے ہر آئین شکنی کو نظریہ ضرورت کے تحت قابل قبول بنایا تھا اور مستقبل میں سپریم کورٹ کس حد تک کسی ناراض فوجی کمانڈر کی دسترس سے جمہوریت کی حفاظت کر سکتی ہے، اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔ البتہ سیاستدان جب حکومت میں ہوتے ہیں تو وہ فوج کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کےلئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں لیکن جوں ہی وہ اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو یا تو درپردہ فوج کے ساتھ ساز باز کے ذریعے برسر اقتدار آنے کا خواب دیکھتے ہیں یا جارحانہ بیان بازی کے ذریعے لوگوں میں اشتعال اور ملک میں مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی رویہ کی وجہ سے نہ فوج سیاستدانوں کو قابل اعتبار سمجھتی ہے اور نہ ہی عوام ان پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔ قومی انتخابات ذات برادری اور علاقائی مفادات کے حصول کےلئے قائم کئے گئے گٹھ جوڑ کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں اور کثیر تعداد میں ووٹ لے کر کامیاب ہونے والی حکومت بھی فوج کے ساتھ معاملات کرنے میں پریشانی اور بدحواسی کا شکار رہتی ہے۔ اس صورتحال میں سیاستدان مبصرین اور ٹاک شوز اینکرز کا تختہ مشق بنتے ہیں جبکہ فوجی قیادت پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کئے جاتے ہیں۔

اس سوال کا جواب تو سیاستدانوں سے ہی مانگا جائے گا کہ اگر وہ عوام کی حمایت و تائید سے برسر اقتدار آنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ملک کو چلانے کےلئے جمہوری نظام کو ہی بہترین متبادل سمجھتے ہیں تو پھر وہ اس اہم قومی مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے، تجاویز تیار کرنے اور فوج کے ساتھ تعلق و تعاون کے حوالے سے مستقل حکمت عملی تیار کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سیاستدانوں کی جاہ پرستی ہے۔ ملک میں خواہ کوئی عوام کو خوشحال بنانے اور مساوات لانے کی بات کرے یا نیا نظام کھڑا کرنے کا نعرہ لگائے یا ترقی کے منصوبوں کے ذریعے پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کا خواب دکھلائے ۔۔۔۔۔سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں صرف برسر اقتدار آنے کےلئے سیاست کرتی ہیں۔ یہ سیاسی گروہ اقتدار ملنے کی صورت میں کسی ٹھوس پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ سب سے اہم پالیسی یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدت تک اقتدار پر قبضہ جاری رکھا جائے۔ اس مقصد کےلئے وہ بدترین سیاسی دشمنوں کو فراخدلانہ مراعات دے سکتے ہیں، جمہوری روایات کو روند سکتے ہیں اور فوج کے ساتھ ہر قیمت پر مفاہمت کرنے کی یقین دہانی کروا سکتے ہیں۔ لیکن مربوط جمہوری عمل کے ذریعے ان معاملات پر نہ تو رائے عامہ ہموار کرتے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں بحث کے ذریعے انہیں طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو گزشتہ 60 برس سے اس ملک اور یہاں پر آباد لوگوں کےلئے تکلیف اور پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھ آزادی پانے والا بھارت ٹھوس جمہوری نظام استوار کر چکا اور دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کر کے اپنے جائز اور ناجائز مطالبات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان پر اس حوالے سے طعن زنی کی جاتی ہے۔ پاکستان زندگی کی 70 بہاریں دیکھنے کے باوجود ابھی اس وہ نظام استوار کرنے کا صرف خواب ہی دیکھتا ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا۔ یعنی عوام کی رائے اور اس کے ذریعے سامنے آنے والے فیصلوں کا احترام۔ پاکستان کا وجود جمہوری فیصلوں کے احترام کا جیتا جاگتا ثبوت ہے وگرنہ قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں کے پاس اپنی بات منوانے کےلئے کوئی جادو کی چھڑی نہیں تھی۔ یہ عوام کے ووٹ ہی کی طاقت تھی کہ نو آبادیاتی طاقت برطانیہ اور اکثریت کی نمائندہ آل انڈیا کانگریس پارٹی مسلم لیگ کے علیحدہ ملک کے مطالبہ کو ماننے پر مجبور ہو گئی۔

اسے المیہ نہیں تو کیا کہیں گے کہ گئی ہوئی نسل نے جس ووٹ کی طاقت پر علیحدہ ملک حاصل کر لیا، ان کی اگلی نسلیں ابھی تک اس غیر یقینی کا شکار ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہونی چاہئے یا کوئی دوسر انظام لایا جائے۔ پارلیمانی طریقہ ٹھیک ہے یا صدارتی نظام کا تجربہ کیا جائے۔ کہا جا سکتا ہے کہ پارلیمانی طرز حکومت پر اتفاق رائے ہو چکا اور ملک کا آئین اس کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی تاریخ کا گھناؤنا سچ ہے کہ اسی آئین کے بانی کو اس ملک کے ہی قانون کے تحت پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا گیا اور دو فوجی آمروں نے اس آئین کو پرکاہ سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس ملک کی منتخب پارلیمنٹ موجودہ آئین کے تحت منتخب ہونے والے پہلے وزیراعظم کی سزائے موت کو عدالتی قتل قرار دے چکی لیکن پاناما لیکس کی گتھی سلجھانے میں سرگرم سپریم کورٹ کو ابھی تک ذوالفقار علی بھٹو کیس کی سماعت کرتے ہوئے انصاف اور قانون کے برعکس کئے گئے ایک فیصلہ کو تبدیل کرنے کی مہلت نہیں ہے۔

کہنے دیجئے کہ قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والی دو نسلوں کی سیاسی جاہ پسندی کی وجہ سے ملک میں انصاف ملنا مشکل ، خود غرضی روزمرہ کا معمول اور جمہوری نظام کا استحکام ایک نامکمل خواب ہے۔ وزیراعظم خواہش کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والے اس ملک کے حکمران نہ بنیں لیکن اس خواہش کی تکمیل کی طرف قدم بڑھانے کےلئے انہیں حق پرستی سے منہ موڑنا پڑتا ہے۔ اس لئے جب ماضی کو پرکھا جائے اور مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو نئی نسل سے توقع بھی باندھی جاتی ہے اور امید بھی ہوتی ہے کہ وہ گئی نسل کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اس ملک و قوم کی راہ متعین کرنے کی دیانتدارانہ کوشش کرے گی۔ اسی لئے بلاول بھٹو زرداری گو کہ ایک ناقابل قبول جمہوری انتظام پر قائم پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن دل چاہتا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس دلدل سے اس ملک کو باہر نکالیں جس میں پھنس کر ترقی تو کجا سانس لینے کے بھی لالے پڑے ہیں۔ اسی لئے بلاول کی قومی سیاست میں آمد خوش آئند ہے۔ لیکن انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اس حیثیت میں انہیں پرانی نسل کا بوجھ اٹھا کر آگے نہیں بڑھنا بلکہ اس ملبے سے نجات حاصل کرنی ہے۔ نیا محاورہ ، نیا انداز گفتگو ، نئی سوچ اور نئے رویئے کے ساتھ مایوسی اور پریشانی میں گھری قوم کی قیادت کرنی ہے۔ تب ہی ان سے یہ امید باندھی جا سکے گی کہ وہ پاکستان کا سنہری مستقبل ہیں۔ اس مقصد کےلئے انہیں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہونے سے زیادہ اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ وہ اس ملک کی نئی نسل کے نمائندہ ہیں جو مشکل و مصائب سے نمٹنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری یہ تب ہی کر سکتے ہیں، جب وہ اس چیلنج کو محسوس کر سکیں گے۔ جب وہ جان سکیں گے کہ ان کے والد کی نسل نے غلطیوں کے انبار کھڑے کئے ہیں۔ جب انہیں اس بات کا شعور ہو گا کہ پرانا بوجھ سر پر اٹھا کر وہ بہت جلد ہانپ کر تھک جائیں گے۔ جب وہ سمجھیں گے کہ قوم کو تجربے کی نہیں دیانتدارانہ تازگی اور آگے بڑھنے کے حوصلہ کی ضرورت ہے۔ بلاول ضرور عوامی رابطہ مہم پر نکلیں لیکن اس کےلئے انہیں اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے عوام کی توقعات کا اندازہ کرنا ہو گا اور ان گھسے پٹے مشوروں کو مسترد کرنا ہو گا، انکل نما مطلب پرست جن کی پٹاری لئے ہمہ وقت انہیں اپنے گھیرے میں لئے رہتے ہیں۔ انہیں یہ گھیرا توڑنا ہے۔ انہیں خود بھی آزاد ہونا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی ماضی کی عبرت ناک غلطیوں سے نجات دلانا ہے۔

اس کے برعکس اگر بلاول کا لب و لہجہ ، انداز تکلم اور دلائل وہی ہوں گے جنہوں نے ملک کی سیاست کو الزامات کا گھناؤنا کھیل بنا دیا ہے تو وہ نہ خود راستہ تلاش کر سکیں گے اور نہ قوم کی رہنمائی کرنے کے قابل ہوں گے۔ انہیں وزیراعظم کو نااہل ، مودی کا یار اور حکومت کی پالیسیوں کو ملک کےلئے مہلک قرار دیتے ہوئے شکار کےلئے تیر اور بلے کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنی پارٹی کو فرسودہ عناصر سے پاک کرنے اور تنظیم نو کا کام کرنا ہو گا۔ انہیں وہ فقرے اور نعرے دہرانے سے گریز کرنا ہو گا جو ان کے کان میں پھونکے جاتے ہیں۔ انہیں 2018 میں قوم کی قیادت کےلئے تیار ہونا ہو گا۔ اگر وہ یہ نہ کر سکے ۔ اگر وہ پاکستان کی سیاست میں اپنی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ اگر انہوں نے پرانی نسل کا بوجھ اپنے سر سے اتار کر آگے بڑھنے کےلئے خود کو آمادہ نہ کیا تو پاکستان کی سیاست کے جوڑ توڑ شاید کبھی انہیں اقتدار سے ہمکنار کر دیں لیکن وہ اس قوم کی امیدوں اور آرزوؤں کو پورا کرنے میں ناکام رہیں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali